اولمپک جمناسٹک چمپیٗن الیگزینڈرہ ریزمین ایلی نے اپنے ٹیم ڈاکٹرلیری ناسار پر جنسی ہراساں کرنے اور تشدد کا الزام لگا کرکھیلوں کی دنیا میں کھلبلی مچا دی : تحریر شاھدالحق

امریکہ میں چھ دفہ کی اولمپک جمناسٹک چمپیٗن الیگزینڈرہ ریزمین ایلی نے اپنے ٹیم ڈاکٹرلیری ناسار پر جنسی ہراساں کرنے اور تشدد کا الزام
لگا کرکھیلوں کی دنیا میں کھلبلی مچا دی ھے۔ ایلی نےبے باکی سے ایک پریس کانفرینس کے ذریعے اس ڈاکٹر کو بے نقاب کیا اور کہا کہ یہ ایک وحشی جانور ہے اور میں تمام لڑکیوں کو اس جانور سے نجات دلوانے کے لیئے قانون کا سہارا لیا۔ ایلی کے انقشاف کے بعد امریکی جمناسٹک فیڈریشنسے تعلق رکھنے والی 125 سے زایئد لڑکیوں نے  بھی اس الزام کے لیئے عدالت سے رجوع کر لیا۔ ریزمین ایلی نے کہا میں نے یس جانور کے متعلق سن رکھا تھا مگر میں حیران ہوں کہ لڑکیاں پہلے کیوں نہیں بولیں۔ ایلی نے خواتین اتھلیٹس کے لیے محفوظ ماحول میں ٹریننگ پر زور دیا اور ایسے واقعیات کی روک تھام کے لیئے اقدامات پعر زور دیا۔
ڈاکٹر لیری عرصہ 30 سال سے امریکی جمناسٹک ٹیم کے ساتھ منسلک تھا اور اب میشیگن کی جیل میں چھوٹی لڑکیوں کی فحش فلمیں بنانے کا جرم ثابت ھونے پر 30 سال کی سزا کاٹ رہا ھے جبکہ ابھی جنسی ہراساں کرنے کے کیس میں سزا ہونی باقی ہے جو۴۰ سال تک ھو سکتی ہے۔
جبکہ عدالت میں ڈاکٹر لیری ناسار نے اعتراف جرم کرتے ھوئے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے 100 سے زایئد کم عمر جمناسٹک اتھلیٹس کے ساتھ دوران ٹرینینگ و علاج جنسی ہراساں کرنے پر معافی مانگی ہے ڈاکٹر نے کہا ھے کے میں معاشرے اور لڑکیوں کے والدین سے بہت شرمندہ ہوں اور امید کرتا ہوں کے میری سزا سے متاثرین کا مداوہ ممکن ہو گا۔ میں معاشرے میں بہتری اور ایسے واقعات کے آیئندہ نہ ھونے کی وجہ سے اعتراف جرم کرتا ہوں۔
اینیہیم کاوئنٹی کی سول کورٹ کی جج روزمیری اکیویلینا نے ناسار سے کہا کے اب تم ساری عمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دعا کرنا اور سوچنا کے جن بچیوں کی تم نے عصمت دری کی اور انھیں اذیت میں مبتلا کیا اور ان کا بچپن چھین لیا، ان کو خدا بہتر کر دے۔
کھیلوں کی دونیا میں جنسی ھراساں کرنے اورجنسی تشدد کا رجحان بڑھتا جا رہا ھے۔ اور ایسے واقعات کو مزید بڑھنے سے روکنا ھو گا۔ ٓمریکی جمناسٹک فیڈریشن نے اپنی پالیسی میں بہتری کے لیئے ایلی  اور ایلی جیسی تمام لڑکیوں کے ساتھ ھمدردی کرتے ہوئے تجاویز مانگ لی ہیں تاکہ آیئندہ خواتین اتھلیٹس کی تربیت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ تو امریکہ ھے جہاں انسانی قدروں کے ساتھ انصاف برتا جاتا ہے مگرکیا پاکستان میں کوئی بچیوں اور بچیوں کو ان جنس پرستوں سے بچانے کے لیئے پالیسی بنائے گا یا پھر یس کے لیئے بھی کسی بڑے حادثے ا ینتظار کرنا ہو گا؟