باکسنگ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ: کھیل کے نام پر کھلواڑ جاری ، تربیتی کیمپ سہولیات سے عاری

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان باکسنگ فیڈریشن (دودا بھٹو) گروپ کی باہمی چپقلش کے باعث پاکستان باکسرز کی اولمپک 2016کیلئے کوالیفائنگ معدوم سے معدوم ہوتی جا رہی ہے کہنے کو تو ایس پی بی کی جانب سے آئندہ ماہ 17جون سے آذربائیجان میں ہونے والی اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کے لئے قومی باکسنگ ٹیم کے لئے پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں تربیتی کیمپ جاری ہے لیکن حقیقت میں کیمپ کے نام پر کھیل سے کھلواڑ ہے۔ ڈی جی پی ایس بی ڈاکٹر اختر نواز گنجیرا اپنے ہی منظور نظر دودا بھٹو کی فیڈریشن (متنازعہ) سے کراچی میں فروری میں اپنے خلاف احتجاج کا بدلہ پاکستان باکسنگ سے لینے پر تل گئے ہیں اور انہوں نے کیمپ میں شرکت کے لئے اپنے ہی چہیتے دوستوں کے ذریعے ملک بھر سے کھلاڑیوں کو بلانے کے بعد ان کی تربیت کے نام پر مذاق شروع کر رکھا ہے جس کا اندازہ اس بات سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اولمپک کوالیفائنگ کے لئے لگائے گئے اس کیمپ میں لڑکوں کو پریکٹس کے لئے نہ تو باکسنگ رنگ فراہم کیا گیا ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات جس کے نتیجہ میں نہ صرف لڑکے ٹریننگ میں اس طرح دلچسپی نہیں لے رہے جس طرح انہیں لینا چاہیے جبکہ دوسری جانب ٹریننگ کے اس معیار ہی کے باعث اس کیمپ کے لئے متعین کئے گئے پہلے کوچ ذاتی مصروفیات کا کہہ کر کیمپ چھوڑ کر چلے گئے اور اب ایک ہفتہ کے وقفہ کے بعد کیمپ نئے باکسنگ کوچ کے حوالے کیا جائے گا جو بھی ٹریننگ فیسلٹیز سے خوش نہیں۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ایس بی کے سربراہ باکسنگ فیڈریشن کی اصل تنظیم جس کے سیکرٹری اکرم خان ہیں کو نظر انداز کر کے پی او اے کی ایماء پر دودا بھٹو گروپ کو پی ایس بی سے منسلک کر لیا تھا حالانکہ مسٹر بھٹو پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں اور دھوکہ دہی کے الزام میں وہ قید بھی کاٹ چکے ہیں مگر اس کے باوجود پی ایس بی کے سربراہ پی او اے کی ایماء پر انہیں تحفظ دینے چلے آ رہے ہیں اس دوران دودا بھٹو گروپ نے رواں سال فروری میں فنڈز نہ ملنے پر کراچی میں باکسرز کو لے کر پی ایس بی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرایا تھا جس پر ماضی کے یہ دوست ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور اس لڑائی میں پاکستان باکسنگ تباہی کے دہانے پر آن پہنچی ہے اور حقیقی باکسنگ فیڈریشن (اکرم خان گروپ) سڑک پر ۔