بہترین کوچنگ سے مارشل آرٹ کے عالمی چیمپئن پاکستانی پلیئرز بھی ہو سکتے ہیں ۔راجہ خالدچیئرمین کیوکشن پاکستان فیڈریشن

اسلام آباد گفتگو (اصغر علی مبارک ) پاکستان میں مارشل آرٹ کی فروغ و ترقی میں کیوکشن پاکستان فیڈریشن کا کردار نہایت نمایاں رہا ہے جس سے پاکستانی معاشرے کے اندر کھیلوں کا کلچر متعارف کرانے کے لئے پاکستان بھرمیں عالمی میعار کے مقابلوں کا انعقاد کرکے نئے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے اس حوالے سے کیوکشن پاکستان فیڈریشن کے چیئرمین راجہ خالد،باوا سید ظہیر علی شاہ، ظہورہاشمی ، لیاقت علی سے خصوصی گفتگو کی گئی جس میں انہوں نے بتایا کہ کیوکشن پاکستان فیڈریشن دنیابھرمیں ایک فل باڈی کنٹیکٹ سٹائل ہے جس میں انفرادی فائٹ فل کنٹیکٹ کے مقابلے ہوتے ہیں ، فل باڈی کنٹیکٹ میں کھلاڑی کو مکمل فائٹ میں برداشت کے ساتھ ساتھ باڈی کنڈیشننگ کے لئے سخت ترین ایکسرسائز ، ہارڈ ٹریننگ، سینڈ بیگ، لکڑی، رسی ، نان چیک، سٹک ، تلوار،چاقو ٹیکنیک، سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جاتی ہے ۔ راجہ خالد چیئرمین کیوکشن پاکستان فیڈریشن نے بتایا کہ یہ آرٹ صدیوں پرانا آرٹ ہے جو جاپان میں عرصہ دراز سے مارشل آرٹ کے ایک موثر ترین اور سخت ترین سٹائل کے طور پر پہچاناجاتا ہے اور اس میں ہر عمر کے کھلاڑی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں اور اس میں عمرکی کوئی قیدنہیں حتیٰ کہ عمر رسیدہ لوگ بھی جسمانی فٹنس کے لئے اس آرٹ کو اپناتے ہیں۔راجہ خالد نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو مارشل آرٹ لازمی سیکھناچاہیے ، موجودہ حالات میں خواتین میں جرت ، حوصلہ مندی و فٹنس کے لئے مارشل آرٹ کی تربیت دینی چاہیے، ایک بہترین معاشرے کے لئے ایک بہترین صحت مند ماں کا ہونا نہایت ضروری ہے اور اس کے لئے مارشل آرٹ سے بڑھ کر کوئی تربیت نہیں جوجسمانی و ذہنی تربیت کا ایک نمونہ ہے، کیوکشن پاکستان فیڈریشن ہمیشہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹ کی تعلیم کو سکولوں، کالجز بالخصوص نرسری سطح پر تعلیم کا لازمی حصہ کا جزو بناتی رہی ہے اگر طالب علم کو معاشرے کا ایک بہترین شہری بنانا ہے تو انہیں مارشل آرٹ کو اپنانا ہوگا جو سیلف ڈیفنس کے ساتھ خود اعتمادی اور دوسروں کی عزت کرنے کا ایک عملی نمونہ ہے، پاکستان میں بہت جلد مارشل آرٹ کے تمام سٹینڈرڈ کے مقابلے کروائے جائیں گے تاکہ ایسے مارشل آرٹ سٹینڈرڈ جو چائنہ، کوریا، برما، کیوبا، برازیل، ہانگ کانگ،امریکہ، کینیڈا، جاپان، افریقہ، یورپ وغیرہ میں تو مقبول ہیں اور اس کے کھلاڑی تو پاکستان میں ہیں لیکن انہیں قومی و بین الاقوامی مقابلے میسر نہ ہونے کی وجہ سے اوپر آنے کا موقع نہ مل رہا ہے ، راجہ خالد نے بتایا کہ میں عرصہ تین عشروں سے امریکہ اور یورپ میں پاکستان کے کھیلوں کے حوالے سے کام کرتارہاہوں اور پاکستان میں صرف اس لئے آیاہوں کہ اپنے تجربات کی روشنی میں پاکستان میں مارشل آرٹ کے فعل کو تقویت دے سکوں اور اس سلسلہ میں حال ہی میں بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک عالمی میعار کا مارشل آرٹ کوچنگ سینٹر قائم کیا ہے جس میں کک باکسنگ، کراٹے، فٹنس، باڈی بلڈنگ، باکسنگ و مارشل آرٹ کے تما م سٹائل کی تربیت دے جارہی ہے اور تمام انسٹریکٹر بھی عالمی سطح کے کوالیفائیڈ ہیں جو کھلاڑیوں کو عالمی میعار کے اصولوں کے مطابق کوچنگ فراہم کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ بہت جلد پاکستان میں مارشل آرٹ بھی دیگر کھیلوں کی طرح مارشل آرٹ نمبرون ہوگا اور میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان میں قدرتی ٹیلنٹ کی کمی نہیں، پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جہاں تمام کھیلوں میں قدرتی ٹیلنٹ بے پناہ موجود ہے لیکن ان کو آگے بڑھنے کے لئے قومی و بین الاقوامی مقابلوں کی تعداد حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے بہتر نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے اس ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لئے آئندہ سال مارشل آرٹ کا انٹرنیشنل چیمپئن شپ اسلام آباد میں کرائی جائے جس کے لئے ہم نے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا ایونٹ ہوگا جس میں کیوکشن ، شوتو کان ، ووشو کنگ فو ، بانڈو ، تائی کوانڈو، جوجسٹو، تھائی کک باکسنگ ، کنگ فو سنوری وغیرہ کے ہر سطح کے مقابلے ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان میں مارشل آرٹ کے کھلاڑیوں کو بہترین کوچنگ فراہم کی جائے تو آئندہ کا ورلڈ چیمپئن پاکستانی پلیئر ہوگا۔ انہوں نے ایک سوا ل کے جواب میں کہا کہ ہمارا حدف اولمپک جاپان2020ہے جس میں ہمیں گولڈ میڈل حاصل کرنا ہے، ہماری کوشش کہ ماضی کے گمنام ہیروں کو تلاش کرکے ان کو نوجوان نسل کے سامنے لایا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کھیلوں کی ترقی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے اور حال ہی میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ ڈاکٹر اختر نواز گھنجیرا سے اس ضمن میں ملاقات ہوئی ، پاکستان میں قدر تی ٹیلنٹ کو ترقی اور کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کیوکشن پاکستان فیڈریشن مل کر کام کرے گی تاکہ عالمی سطح پر دنیاکو ایک مثبت پیغام جائے ،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کھیلوں کے لئے محفوظ ملک نہیں وہ غلط ہے، پاکستان میں حال ہی میں عالمی سطح پر کھیلوں کے ریسلنگ مقابلے، کرکٹ مقابلے، ہاکی، ٹینس، ڈیوس کپ ، سکوائش ، پولو اور دیگر کھیلوں کے انٹرنیشنل مقابلے کروائے ہیں اور دنیاکوبتادیا ہے کہ پاکستان کھلاڑیوں کے لئے محفوظ ترین ملک ہے ،یہاں کے لوگ کھیلوں کو بہت پسند اور کھلاڑیوں کو بہت عزت دیتے ہیں۔راجہ خالد نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں کیوکشن پاکستان فیڈریشن کے تحت مارشل آرٹ کے جمنیزیم اور سپورٹس کلب پاکستان بھرمیں اورآزادکشمیر کے علاوہ گلگت، بلتستا ن میں مارشل آرٹ کے کھیل کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی جاپان، کوریا، چائنہ کی طرح اس کھیل پر اپنی بالادستی ثابت کردے گا ، ہم کھیلوں سے محبت کرنے والے شخصیات اور سپانسرداروں کے علاوہ میڈیا کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اب کھیلوں کی افادیت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کے اندر سپورٹنگ کلچر فروغ دینے کے لئے کوشش شروع کر دی ہے۔ راجہ خالد نے کہا کہ پاکستان میں اوپن انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کروائے جائیں گے تاکہ پاکستان کے مارشل آرٹ کے ہر کھلاڑی کو موقع مل سکے ، یہ ایک ایسا منفرد مارشل آرٹ ٹورنامنٹ ہوگا جس میں پاکستان کے ہر کراٹے ماسٹر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ پاکستان کے لئے ایک ورلڈ چیمپئن فائٹر تیار کرسکیں جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہو ، راجہ خالد نے مزید بتایا کہ پاکستان کے مارشل آرٹ کے بانیوں سر منور شبیر اور سر انعام اللہ خان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مارشل آرٹ میں بھی پاکستان ورلڈ چیمپئن بنے اور ان کے خوابوں کی تعبیر کو انشا ء اللہ ہم ضرور زندہ تعبیر کریں گے۔ پاکستان زندہ باد۔