بیڈ منٹن ایشین گیمز 2018 انڈونیشیاء جکارتہ پہلا رائونڈ پاکستانی بیڈ منٹن کھلاڑیوں کے لیے ایک ڈرائونا خواب تحریر ِ ۔ نوازگوھر

بین الاقوامی سطح پر پہلا رائونڈ یا پہلا میچ پاکستانی بیڈ منٹن کھلاڑیوں کے لیے ڈرائونا خواب بن چکا ہے۔ حالیہ جکارتہ میں ہونے والے ایشین گیمز 2018 ؁ء میں بھی یہ روایت برقرار رہی۔ یہ بات پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے لیے بھی باعث تضحیک ہے کہ ایسی فیڈریشن کی نمائندگی کر رہی ہے جو عرصہ دراز سے پہلے رائونڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ جبکہ پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ کو بیڈ منٹن کھلاڑیوں پر تربیت ، کِٹ؍ڈریس ، خوراک اور رہائش ، سفری اخراجات اور ڈیلی الائونسس کی مَد میں لاکھوں خرچ کر کے ہمیشہ کی طرح سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ کچھ کھلاڑیوں نے تو انتہا کر دی کہ لاہور سے جکارتہ 16 گھنٹے ہوائی جہاز میں سیر کرنے کے بعد وہ اپنے پہلے میچ میں 21 میں سے صرف 2 اور 3 پوائنٹ ہی حاصل کر سکے۔ اس کے علاوہ کچھ کھلاڑی بچوں کی طرح انڈر 10 پوائنٹس پر شکست کھا گئے اور ڈبل فِگر پر بھی نہیں پہنچ سکے۔ جو کلب سٹینڈرڈ سے بھی کم درجہ ہے۔ قائرین کرام ذرا پاکستان کے نام نہاد انٹر نیشنل کھلاڑیوں کے نتائج پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ایشین گیمز کی ویب سائٹ پر دیے گئے باہمی میچ کے ٹائم دورانیہ کے مطابق اکثر پاکستانی کھلاڑی اوسطاً18 منٹ تک ہی مزاحمت کر سکے ہیں۔ جس میں 21 پوائنٹس کی دونوں گیمز ختم ہو گئیں۔ یعنی ہمارے سٹار کھلاڑی اوسطاً 9 منٹ میں 21 پوائنٹس کی گیم ہارتے رہے۔ اس طرح ایک پوائنٹ کے حصول یا ضیاع میںصرف 12 سیکنڈ استعمال ہوئے جس میں شٹل گرنے اور اٹھاکر مخالف کھلاڑی کو دینے کا دورانیہ بھی شامل ہے۔
اس سٹیٹکس کے مطابق دو کھلاڑیوں کے مابین جاری ریلی کا ٹائم دورانیہ مزیدکم ہے جو پاکستانی کھلاڑیوں کے گھٹیا معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کھلاڑیوں کو چھوڑیں ہمارے مرد کھلاڑی ابھی تک سائوتھ ایشین ملک نیپال کے سحر سے بھی نہ نکل سکے اور ٹیم ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں نیپال سے 3-1 کے تناسب سے شکست کھائی۔ مزید اگر پاکستانی کھلاڑیوں کے حاصل کردہ پوائنٹس پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔وومن ٹیم ایونٹ مقابلوں میں پہلا میچ چائنیز تائی پے سے ہوا جس میں انہوں نے پاکستان نمبر 1 ماہور شہزار کے مقابلے میں تائی تذو ینگ کو اتارا جس کی موجودہ ٹیم میں رینکنگ نمبر 9 تھی۔

اس نے ماہور کو 21-14 اور 21-17 سے باہر کر دیا اور پاکستان نمبر 2 سحر اکرم کا مقابلہ چائنیز تائی پے کی 8 نمبر کی کھلاڑی پائی یو پو نے کیا اور اس نے سحر اکرم کو 21-5 اور 21-6 سے بآسانی شکست دی۔ جبکہ تیسرے سنگل میں بھی یک طرفہ مقابلہ ہوا اور چیانگ ینگ لی (ٹیم رینکنگ نمبر 2 ) نے غزالہ صدیق کو 21-6 اور 21-7 سے ہرا کر ٹیم ایونٹ مقابلہ3-0 سے جیت لیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ چائنیز تائی پے نے ایشینز گیمز کھیلنے والی موجودہ ٹیم میں سے 8 اور 9 نمبر رینکنگ والی کھلاڑی کو پاکستان خواتین کھلاڑی کے مقابلے میں اتارا۔ جس سے ان کے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کو حد درجہ کمزور سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سائوتھ ایشین ممالک کے کمزور ملک مالدیپ کی خواتین نے نیپال کی خواتین کو پہلے میچ میں 3-2 سے شکست دے کر دوسرے رائونڈ تک رسائی حاصل کی۔ انفرادی مقابلوں میں بھی ہمارے کھلاڑی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی دکھاسکے نہ پہلا رائونڈ عبور کر سکے ۔نتائج کے مطابق مین سنگل میں عرفان بھٹی چین کے چن لونگ سے 9 منٹ فی گیم کے حساب سے 21-8اور 21-10 سے ہارے ۔ ماہور شہزاد نے کوریا کی سنگ جی ہوئن سے 21-10اور 21-9 سے شکست کھائی ۔ جبکہ سحر اکرم کو ہانگ کانگ کی یپ پوئی ین نے 21-2اور 21-7 سے اور عظیم سرور کو ملائیشیاکے لی زی جیا نے 21-10اور 21-13 سے شکست دی۔ مینز ڈبلز میں عظیم سرور اورعرفان بھٹی جاپان کے تا کو ٹو انوکی اور یوکی کانیکو سے مقابلے میں 21-16اور 21-8 سے ہارے۔ ان تمام گیموں کا ٹائم ڈیوریشن اوسطاً 8 سے 10 منٹ فی گیم رہا۔ دوسرے مینز ڈبل میں رضوان اعظم اور کاشف سلہری نیپال کے دھانی دیپش اور رتن جیت تمانگ سے کلوز مقابلہ 21-19اور 22-20 پر جیتنے کے بعد اگلا میچ سری لنکا کے ساچن دیاس اور بواکی گونی تھی لوگا سے 21-12اور 21-13 سے شکست کھا گئے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ سری لنکا یہ دونوں کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں سے عمر میں الترتیب 11 اور 10 سال چھوٹے تھے۔ایک اوراہم معلومات یہ کہ مالدیب جیسے کمزور ملک کے حسین زیان شہید ورلڈ انفرادی ریکنگ میں 276 نمبر پر ہیںجبکہ پاکستان کے عرفان بھٹی 515 اورعظیم سرور 602 رینکنگ پر ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے کھلاڑی کہاں کھڑے ہیں۔خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں پاکستان کی صائمہ وقاص اور غزالہ صدیق نے مالدیپ کی نیلہ نجیب اور شاہروناز کو انتہائی کلوز مقابلوں میں18-21 ،22-20 اور 21-15 سے شکست دی ۔ لیکن اگلے میچ میں جاپان کی می ساکی سوٹومو اور آئیکہ تاکاشی نے انہیں انتہائی آسان مقابلوں میں 21-3 اور 21-3 سے شکست دی۔ مالدیپ سے مقابلے میں پوائنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقابلے کے دوران پاکستان کھلاڑیوں کی گرفت کمزور تھی اور کسی بھی وقت پانسا پلٹ سکتا تھا اور یہ کمزوری جاپان سے مقابلے کے دوران واضح ہوگئی ۔

جو انتہائی گرا ہوا معیار ہے۔ صرف تین پوائنٹس کا حصول کسی بھی طرح قابلِ تحریر نہیں اور آخر میں مکسڈ ڈبل کے مقابلے میں رضوان اعظم اور صائمہ وقاص کو جاپان کے یوٹا وٹانا بی اور اریسہ گاشیو نے 21-6 اور 21-7 کے شرمناک پوائنٹس سے شکست دی اور یہ مقابلہ صرف10 منٹ فی گیم کے حساب سے جاری رہا۔ اسٹیٹیکل تجزیے کے بعد قوم اور بیڈ منٹن کیونٹی فیصلہ کرے کہ کیا ان کھلاڑیوں کو ملک سے باہر بھیجا جائے ۔یقینا جواب نفی میں ہوگا اور حقیقت بھی یہی ہے ان کھلاڑیوں پر پیسا لگانا قوم کے ساتھ دھوکہ اور مذاق ہوگا اور سپورٹس بورڈ کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ تمام اربابِ اختیار چاہے ان کا تعلق پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن سے ہو یا اسپورٹس بورڈ یا اولمپک سے ۔اس قدر ڈھیٹ ہو چکے ہیں کہ اب تک پیش کی جانے والی تمام رپورٹس سرد خانہ میں ڈال چکے ہوں گے۔ ہم بیڈ منٹن فیڈریشن کو کسی قسم کی تجویز پیش نہیں کریں گے۔کیونکہ اس سے قبل متعدد تجاویز منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ لیکن ان کے سر پر جوں تک نہ رینگی ۔ ہر بار ذلت اور شرمندگی کے عادی لوگوں کے اپنے ہی دھندے ہیں۔ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے لوگوں کو فیڈریشن میں اعلیٰ مقام دینا، ایشینز فیڈریشنز سے وصول شدہ سامان کو نا اہل کھلاڑیوں میں تقسیم کرنا اور لاہور سے مصدقہ اطلاعات کے مطابق اصل ریکٹس کو اپنے پاس رکھ کر دو نمبر ریکٹس منظور ِ نظر کھلاڑیوں میں بانٹ دینا ۔ جعلی برتھ سرٹیفکیٹس رکھنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی نہ کرنا اورانہیں نیشنل کمیپس میں شامل کر کے حقیقی کھلاڑیوں کا حق مارنا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن کی مکمل نااہلی کا ثبوت ہیں۔ اب کھلاڑیوں کی بد ترین کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کو یہ حقائق بھی جاننا چاہئیں کہ قومی کھلاڑیوںکو اس مقام پر کس نے پہنچایا۔یقینا اس ضمن میں بھی دوبارہ بیڈ منٹن فیڈریشن ہی قصور وار ہے۔ کیونکہ ان کھلاڑیوں کے لیے اس لیول کو کوچ ہی مقرر نہیں کیا گیا جو انہیں بین الاقوامی سطح پر دوران کھیل گائیڈ کر سکے۔گزشتہ کامن ویلتھ گیمز 2018؁ء آسٹریلیا میں مراد خان اور انڈیا کے سری کانت کڈامبی کے مابین میچ کی مثال سامنے ہے ۔ جس میں مراد خان یہ اہم میچ جیتنے کے قریب تھا۔ مگر کوچ کی بروقت رہنمائی سے محروم رہا۔ مزید یہ کہ تمام کھلاڑی فیڈریشن سے منسلک موجودہ کوچز کی قابلیت سے بخوبی آشنا ہیں اس لیے ایشین گیمز میں شرکت کے لیے ہر کھلاڑی نے ان کوچز کو چھوڑ کر اپنے لیول پر تیاری کی جو نا کافی ثابت ہوئی۔ بیڈ منٹن فیڈریشن اپنے منظورِ نظر کوچز کے علاوہ پاکستان کے قابل ترین کوچز سے اپنی انا کی خاطر کنارہ کش ہے(واضح رہے کہ ایشین گیمز جیسے اہم ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگا)۔
قائرین کی دلچسپی کے لیے فیڈریشن کے اعلیٰ ترین منظورِ نظر کوچ کی قائدانہ صلاحیتوں کو اندازہ اس واقع سے لگایا جا سکتا ہے کہ عظیم شخصیت عامر روکھڑی مرحوم کے زمانے میں وہ نیپال اوپن کے لیے پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوچ تھے۔ ایک اہم میچ میں پاکستان کی مشہور جوڑی رضوان اعظم اور عتیق چودھری کا میچ انڈین کھلاڑیوں سے جاری تھا جبکہ ایمپائر اور ریفری دونوں کا تعلق انڈیا ہی سے تھا ۔ یعنی مکمل بھارتی اتھارٹی میچ پر حاوی تھی۔ موصوف نے اپنے کھلاڑیوں سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں تو سنگل کا کوچ ہوں اور چیمپیئن بنا چکا ہوں جبکہ ڈبل کے مقابلے میں آپ دونوں کو مناسب طور پر گائیڈ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اس مقابلے کے لیے اپنی پلاننگ خود ہی کر لو۔ یہ کہہ کر موصوف نے کوچ کی سیٹ خالی کر دی اور دور چلے گئے۔ رضوان اعظم اور عتیق چودھری نے خود اعتمادی سے میچ شروع کیا اور انڈین کھلاڑیوں کو مکمل دبائو میں لے لیا یہاں تک کہ میچ جیتنے کے قریب ہو گئے۔ ایسے میں انڈین ایمپائر نے جان بوجھ کر ایک غلط فیصلہ پاکستان کھلاڑیوں کے مخالف دیا اور کہا کہ ریلی کے دوران شٹل عتیق کی شرٹ سے ٹچ ہو گئی ہے۔لہٰذا یہ فالٹ ہے۔ ایک لمحے کے لیے ہمارے کھلاڑی پریشان ہو گئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ لیکن رضوان کے دل میں کھٹکا رہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے۔ چند پوائنٹس اسی کشمکش میں ضائع ہو گئے۔ رضوان نے ایمپائر سے شکوہ کیا کہ سر میرا خیال ہے کہ شٹل عتیق کی شرٹ سے ٹچ نہیں ہوئی اس پر انڈین ایمپائر نے معذرت کے ساتھ کہا کہ شٹل عتیق کے بالوں کے ساتھ ضرور ٹچ ہوئی تھی۔ میچ پھر شروع ہو گیا مگر رضوان ایمپائر کے بیان سے کلیئر نہیں ہوا اور وقفے کے دوران دوبارہ ایمپائر سے کہا کہ سر عتیق کے تو بال ہی نہیں ہیں۔ انڈین ایمپائر نے شرمندگی سے عتیق کو دیکھا اور معذرت کر لی لیکن پاکستان تو میچ ہار گیا۔ یہاں اگر پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن کے پاس اس مضحکہ خیز صورتِ حال سے نمٹنے والا کوئی عقل مند کوچ ہوتاتو وہ انڈین ایمپائر کے ان بیانات کو عملاً تحریر میں لاکر ریفری کو باضابطہ شکایت کرتا اور ایشین بیڈ منٹن ایسوسی ایشین سے میچ کی وڈیو حاصل کر کے اس متعصب ایمپائر پر جرمانہ کروادیتا اور اگلے دو میچز میں اس ایمپائر کو لائن مین کے درجے پر لے آتا ۔ یہ سزا ایمپائر کے غلط فیصلوں پر قوانین کے مطابق ہے۔ سیکرٹری بیڈ منٹن فیڈریشن واجد علی چودھری ابھی تک حقائق جاننے کے باوجود اہم فیصلے نہیں کر سکے ہیں اور ایسے کوچز سے چھٹکار بھی نہیں حاصل کر سکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو اپنی نا اہل انتظامی ٹیم کی وجہ سے ہر محاذ پر بد نامی کا سامنا ہے ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ واجد علی اگر کڑوہ گھونٹ پی پر حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے درست فیصلے کرلیں تو اب بھی پاکستان بیڈمنٹن کمیونٹی کے اچھے لوگ ان کا ساتھ دیں گے جو ان کے بڑے قد کے لیے ضروری ہے۔