تحصیل کی سطح پر 37گراؤنڈ پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ٗ جولائی کے اختتام تک کھلاڑیوں کیلئے کھل جائیں گے:طارق محمود ڈائریکٹر سپورٹس کے پی کے

پشاور(عارف خان سے)خیبرپختونخواہ کی 43میں 37تحصیلوں میں کھیلوں کے میدان مکمل کر لئے گئے ہیں جنہیں جولائی کے آخر تک اوپن کر دیا جائے گا۔ ہر میدان کیساتھ ایک عدد پویلین ٗ دو عدد ڈریسنگ رولز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ چالیس کنال رقبہ کے ان میدانوں کے اردگرد چاردیواریاں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔
یہ بات ڈائریکٹر سپورٹس خیبرپختونخواہ طارق محمود نے ’’سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام‘‘ کو یہاں پشاور میں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں نوجوانوں کوکھیلوں کی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس جولائی کے آخر تک کے پی کے پاکستان کا وہ واحد صوبہ بن جائے گا جہاں تحصیل کی سطح پر گراؤنڈز بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ ٗ چیف سیکرٹری اور خود وزیراعلیٰ پرویز خٹک براہ راست اس کام کی نگرانی کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طارق محمودنے کہا کہ شاید آپ کیلئے یہ بات حیران کن ہو کہ موجودہ حکومت کے آنے سے قبل ک پی کے میں سپورٹس کا ٹوٹل بجٹ 45لاکھ روپے تھا مگر اب اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
رواں سال کے پی کے حکومت نے کھیلوں کیلئے آٹھ کروڑ روپے کا بجٹ دینے کے علاوہ گیمز کیلئے سات کروڑ چالیس لاکھ روپے کا خصوصی بجٹ بھی جاری کیا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خیبرپختونخواہ حکومت صوبہ میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے فروغ اور حوصلہ افزائی کیلئے
کس قدر سنجیدہ ہے۔
Tariq mamood
طارق محمود نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف خود کھلاڑی رہے ہیں بلکہ انہوں نے بطور انٹرنیشنل ہاکی امپائر جونیئر ہاکی ورلڈ کپ ٗ چمپئنز ٹرافی کے مقابلوں کے علاوہ وہ سینکڑو ں کی تعداد میں نیشنل ہاکی چمپئن شپس میں امپائرنگ کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری تجویز پر کے پی کے حکومت نے کے پی کے گیمز کے ثمرات براہ راست کھلاڑیوں تک پہنچانے کیلئے بعض ایسے اقدامات کیے جن سے کھلاڑیوں کومالی طور پر فائدہ ہوا۔ ان اقدامات میں ضلع کی سطح پر ہونیوالے مقابلوں سے لیکرکے پی کے یوتھ گیمزتک ہر مقابلے سے قبل کھلاڑیوں کوان گیمز سے حاصل ہونیوالے مالی فائدے مثلاً ٹی اے ڈی اے ٗ انعامی رقم ٗ ڈیلی ویجز وغیرہ سب کچھ دیا جارہا ہے۔ ساری رقومات سپیکر پر اناؤنس کی گئی تاکہ کوئی دوسرا ان کے حق پر ڈاکہ نہ مار سکے اور موقع پر ہی رقم دی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ضلعی مقابلوں میں فاتح کیلئے بیس ہزار اور رنر اپ کیلئے پندرہ ہزار روپے کے پی کے گیمز میں فاتح کیلئے تیس ہزار اور رنر اپ کیلئے بیس ہزارکی انعامی رقم رکھنے کے فیصلہ سے بھی نوجوانوں کی بے پناہ حوصلہ افزائی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں اسلام آباد کے 12کروڑ بجٹ کے مقابلے میں سات کروڑ کے بجٹ میں رہتے ہوئے ان سے بہتر انعامی رقم ڈدینا ہماری عمدہ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
طارق محمود نے کہا کہ قائداعظم گیمز میں پہلی بار کے پی کے قومی سطح کے مقابلوں میں تیسری پوزیشن سے جمپ کرکے دوسری پوزیشن پر آگیا ہے اگرہمارے پلان کے مطابق ہماری گیمز قائداعظم گیمز سے پہلے ہو جائیں تو ہم ان کھیلوں کے فاتح اوررنر اپ کھلاڑیوں کو ان گیمز میں بھیجتے تو رزلٹ میں کم از کم دس سے پندرہ گولڈ کا فرق پڑتا اور ہمارے میڈلز پنجاب کے قریب ہوتے۔ انہوں نے پنجا ب سپورٹس بورڈ کے بجٹ دو ارب روپے کے مقابلے میں ہمارا آٹھ کروڑ ہے ۔ آٹھ کروڑ کے بجٹ کے حساب سے دیکھا جائے تو ہماری پرفارمنس پنجاب سے سو فیصد بہتر ہے۔