جنرل(ر) عارف حسن نے کھیلوں کو تباہ کر دیا:وزیراعظم اور جنرلقمر جاوید باجوہ پی او اے میں ہونیوالے کروڑوںکے غبن کی تحقیقات کروائیں :محمد اکرم خان سیکرٹری پی بی ایف

اسلام آباد(صوفی ہارون سے)ملک بھر کے سپورٹس مافیا ز جنرل عارف حسن کی چھتری تلے پناہ لئے ہوئے ملک میں کھیلوں کو تباہ کررہے ہیں۔خود سید عارف حسن نے بطور صدرپی او اے 12سال میں اتنا کچھ بنایا ہے جتنا وہ اپنی فوج کی نوکری میں بنانے کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بارہ سال تک پی او اے پر قابض رہنے کے بعد بھی آج وہ پی او اے کی صدارت کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ آئی او سی سے ملنے والی سالانہ کروڑوں روپے کی گرانٹ اورسپورٹس ٹرسٹ کے کروڑوں روپے کے فنڈز میں سید عارف حسن نے بڑے پیمانے پر غبن کیا ہے لہٰذا میں حکومت وقت نیب اور دیگر قومی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ پی او اے کے بارہ سالہ اکائونٹس کی جانچ پڑتال کریں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سیکرٹری محمد اکرم خان نے گزشتہ روز سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح لوگ عارف حسن کو ملامت کر رہے ہیں اگران کا مالی مفاد نہ ہوتا تو کوہ کب کے پی او اے کے عہدہ کو چھوڑ کر گھر جاچکے ہوتے ۔1974ء سے1987ء تک بطور باکسر پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے پی بی ایف کے سیکرٹری محمد اکرم خان نے کہا کہ سید عارف حسن نہ صرف خود کرپشن کرکے بلکہ اپنے اردگرد کرپٹ ترین افراد کواکٹھا کرکے آئی او سی کے چارٹر کی خلاف ورزی بھی کی ہے کیونکہ آئی او سی کرپشن کیخلاف واضح موقف رکھتی ہے مگر یہاں پاکستان میں صدر پی او اے کی زیرسرپرستی الٹی گنگا بہہ رہی ہے جو جتنا کرپٹ ہے وہ جنرل (ر) عارف حسن کے اتنا ہی قریب ہے۔ انہوں نے پی او اے کے موجودہ صدر سید عارف حسن سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائیں کہ گزشتہ بارہ سال کے عرصہ میں آئی او سی کی جانب سے پی اواے کو کتنے فنڈز بھجوائے گئے کتنا پیسہ کس مد میں آیا اور کورسزاور ڈویلپمنٹ کے نام پر آنیوالا یہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا اسی طرح سپورٹس ٹرسٹ کے مکمل اکائونٹس کو بھی پبلک کیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ سپورٹس ٹرسٹ کے نام پر آنے والے کروڑوں روپے کہاں گئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2011ء میں جب انہو ں نے دودا بھٹو کو مالی بے ضابطگی پر باکسنگ فیڈریشن سے نکال دیا تو 2012ء میں انہوں نے جنرل (ر) عارف حسن کی ایماء پر جعلی باکسنگ فیڈریشن کھڑی کر لی جوکہ غیرقانونی تھی مگرجنرل (ر) عارف حسن نے جنرل اکرم ساہی کے ساتھ دینے کا غصہ نکالنے کیلئے آئی او سی کے توسط سے آئبا سے رابطہ کرکے اس جعلی فیڈریشن کا الحاق آئبا سے کروا دیا۔ حالانکہ ہم نے پہلے ہی 2011ء میں دودا بھٹو کیخلاف کرپشن کے معاملات سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نیب اینٹی کرپشن وزارت آئی پی سی اور پی ایس بی سب میں اس کے خلاف کیسرز رجسٹرڈ کروا رکھے تھے مگر سب جانتے بوجھتے سید عارف حسن نے اسے پروٹیکشن دی کیونکہ وہ سب ایک ہی سوچ کے حامل کرپٹ عناصر تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کی تباہی کی ذمہ دار حکومت ہے جواپنے قانون پر عملدرآمد کرانے سے قاصر ہے۔ جب یہ طے ہو گیا تھا کہ پاکستان میں دو ٹرمز سے زیادہ کوئی عہدیدار فیڈریشن کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تو حکومت اور پی ایس بی کو اپنی پالیسی پر عملدرآمد کروانا چاہئے تھا مگرنہ تو حکومت نے سٹینڈ لیا اور نہ ہی پی ایس بی نے ۔ چنانچہ کرپٹ عناصر کو کھیل کھیلنے کا موقع ملا اور ہماری سپورٹس کی حالت دن بدن خراب سے خراب ہوتی چلی گئی۔
Muhammad Akrim-1
اکرم خان نے کہا کہ اگرکوئی غیرت مند پی او اے کا سربراہ ہوتا تو آج جس حالت میں پاکستان کی سپورٹس ہے (یعنی اولمپکس کے لئے ہمارا ایک بھی کھیل اور کھلاڑی کوالیفائی نہیں کر سکا) تو وہ استعفیٰ دیکر گھر چلا گیاہوتامگر یہاں لوگ کرسی کو چمٹے ہوئے ہیں اوراسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم میاں نوازشریف سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے کھیلوں کی حالت پر رحم کریں اور پاکستان کے کھیلوں میں کرپشن کا زہر گھولنے والے مافیاز کی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کروا کر انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرہمیں دنیا میں پاکستان کا پرچم سربلند کرتا ہے تو پھر ہمیں کھیلوں پر ایڈہاک ازم کی چھتری ہٹا کرم مخلص اور ایماندار لوگوں کو آگے لانا ہوگا اور نہ صرف یہ بلکہ ان لوگوں کے ذمہ ٹارگٹ لگا کر ان سے کام بھی لینا ہو گااور ایسا میکنزم بنانا ہو گا کہ جو کام نہ کرے اور رزلٹ پر ڈیوس نہ کرے اسے چلتا کیا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ باکسنگ وہ کھیل ہے جس میں پاکستان نے اولمپک ایشین گیمز کامن ویلتھ گیمز اور سیف گیمزہر سطح پر پاکستان کیلئے میڈلز جیتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے آج حکومت اس کھیل کی اس طرح سرپرستی کر رہی ہو تی آج پاکستان کے باکسرز ایک بار پھر ریواولمپکس کیلئے کوالیفائی کرچکے ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو ماضی میں بھی حکومت نے باکسنگ کیلئے کچھ نہیں کیا۔
Muhammad Akrim-2
تاہم 1962 ء سے 2006ء تک پروفیسر انور چوہدری صدر پی بی ایف کے انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن کے صدرہونے کی وجہ سے ہمیں حکومت پاکستان کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا تھا مگر اب ان کی وفات کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اورہمیں حکومتی فنڈز کی طرف سے دیکھنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی بی ایف کو سالانہ 28لاکھ کی گرانٹ ملتی ہے۔ایک پانچ رکنی ٹیم اور اس کے آفیشلز کو کسی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں ہمیں تو 15سے 18لاکھ تک خرچ آجاتا ہے اور اس کے بعد فیڈریشن کو منہ اٹھا کر حکومت کی جانب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ہائرایجوکیشن کمیشن کے زیراہتمام اسلام آباد میں کھیلی جارہی انٹریونیورسٹی باکسنگ چمپئن شپ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ایچ ای سی کے زیراہتمام ہونیوالے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان بھر سے بیس یونیورسٹیز کے 125طلباء اس چمپئن شپ میں شرکت کر رہے ہیں جو کہ باکسنگ کیلئے ایک نیک شگون ہے ۔