حکومت پاکستان کے قوانین کے پابند نہیں کہنے والی پی او اے کا تبدیلی حکومت کے لئے لالی پاپ۔ صوفی ہارون کی فہمیدہ مرزا اور جمیل احمد کے لئے ایک آئی اوپنر تحریر

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سر براہ جنرل(ر) عارف حسن کی سربراہی میں پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے گذشتہ روز وفاقی سیکر ٹری بین الصوبائی رابطہ جمیل احمد سے ملاقات کی جس میں وفاقی سیکر ٹری جمیل احمد کی جانب سے پی او اے حکام سے ملک میں کھیلوں کی بہتری کے لئے تجا ویز مانگی گئیں ۔ان سے قومی کھیلوں میں تاخیر وجہ پوچھ گئی اور پی او اے کی جانب سے پہلی قومی یوتھ گیمز کی تجویز پر تجا ویز بھی مانگی گئیں۔دیکھنے کو یہ سب کچھ نارمل اور اچھا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے خیال میں اتنا اچھا اور نارمل بھی نہیں جتنا یہ بظاہر دیکھائی دیتا ہے۔ پی او اے جس کی کار کردگی کو لیکر وزیر اعظم عمران خان باخوبی آگاہ اور کلئیرہیں اور واضح طور پر وزارت بین الصوبائی رابطہ کی بریفنگ کے دوران سپورٹس کے حوالے سے ڈسکشن کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ پی اے او سے ایک صاحب سولہ سال سے چمٹے ہوئے ہیں وہ اسکی جان کیوں نہیں چھوڑ رہے انہوں نے سپورٹس کے لئے کیا خدمات سر انجام دی ہیں؟
وزیر اعظم کے اس سوال کے بعد پی او اے پر سالہا سال سے آئی او سی قوانین کی آڑھ میں چھپ کر بیٹھے ہوئے سپورٹس مافیا میں شدیدبے چینی پائی جا رہی ہے اور اسی کو لیکر اب پی او اے پر قابض یہ مافیا کبھی کسی سے مل کر توکبھی کسی سے مل کر اپنی جان بچانے کے لئے دوڑ دھوپ میں لگا ہوا ہے۔ تاکہ کم از کم وزیر صاحبہ اور ایڈ منسٹریشن کے لیول پر یہ ثابت کر سکے کہ وہ بہت مخلص ہیں اور کھیلوں کے فروغ کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز سیکر ٹری آئی پی سی جمیل احمد صاحب جنکے بارے میں یار لوگوں کا کہنا ہے کہ تاحال وہ اچھے کرادار کے حامل آفیسر دیکھائی دیتے ہیں کو قابو کر نے کے بھی پی او اے کے بڑوں نے اپنے تئیں بھر پور کوشش کی۔ انہیں اپنے دکھڑے سنائے ۔ انکے سامنے خود کو مظلوم اور سب سے زیادہ کھیل دوست بھی ثابت کرنے کی کوشش کی اور ساتھ انہیں قومی یوتھ گیمز کی اپنے تئیں نئی اور اچھوتی تجویز بھی دے ڈالی۔ جسپر یقیناًوہ کافی حد تک متاثر بھی ہوئے اور وہ کیوں متا ثر نہ ہوتے کیوں کی بظاہر تجویز تھی ہی معقول ؟
لہذا وہی ہوا جو ہونا تھا کہ انہوں نے انکی ایک تجویز یعنی پہلی قومی یوتھ گیمز کے لئے پریذ نٹیشن بھی مانگ لی۔ جمیل احمد صاحب نے جو کیا انکی جگہ جو کوئی بھی آفیسر ہو تا وہ یہی کہتا اور کرتا۔وہ اس لئے کہ جمیل احمد پاکستان کے سپورٹس مافیا کے بارے میں ابھی آگاہ نہیں کہ یہ کسی قدر خوفناک ہے اور سولہ سالہ تجربہ کی بنیاد پرہر نئے آنے والے اعلی افسر کو کس طرح آسانی سے بے وقوف بنا لیتا ہے لہذا ہماری سیکرٹری آئی پی سے جمیل احمد صاحب سے گذارش ہے کہ ایک بارپی او اے کے سابقہ کارناموں اور اسکی کارکردگی پر مکمل معلومات حاصل کر لیں لیکن شرط یہ ہے کہ اعظم ڈار جیسے کلرک بادشاہ پی ایس بی میں نو وارد افسران منصور علی خان وغیرہ سے نہیں بلکہ کسی ایسے آفیسر سے جو اندرون و بیرون ملک ٹورز پر بکا ہوا نہ ہو۔ اگر جمیل احمد صاحب ایسے کسی افسر کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تو ہم انہیں بتاسکتے ہیں یہاں بہت سے لوگ ہیں جو پی ایس بی اور پاکستان میں کھیلوں کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں راستہ ہی نہیں دیا جاتا ان میں سینئر آفیسرز بھی ہیں اور جونئیر بھی ۔اور اگر سیکر ٹری آئی پی سی۔ پی ایس بی کے افسران کو نہیں سُننا نہیں چاہتے تو تین سابق ڈی جی صاحبان جو اسوقت مختلیف وزارتوں پرجے ایس کے عہدوں پرتعینات ہیں سے مل کر اصل حقائق جان سکتے ہیں۔ ان سینئر افسران میں عامر احمد جو اسوقت پوسٹنگ لیکر پنجاب میں جا چکے ہیں۔ خیال زاد گل جو اسوقت بطور جے ایس پرا ئیوٹائزیشن کمیشن میں تعینات ہیں اور غفار خان جوغالبا اسوقت ڈی جی ہیلتھ تعینات ہیں۔یہ وہ سابق ڈی جی پی ایس بی صاحبان ہیں جنہیں سپورٹس بورڈ کے اندر اور باہر کے سارے مافیاز اور انکی کاروائیوں کا مکمل پتہ ہے اور انہوں نے اپنے اپنے مختصر ادوار میں انکا راستہ روکنے کی کوشش بھی کی تھی اور اسی کی پاداش میں گذشتہ تین سال میں ان تمام افسران کو سابق وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے پی ایس بی کے اندر اور باہر کے مافیاز ہی کے کہنے نہ صرف پی ایس بی سے نکالا بلکہ سزا کے طور پر اپنی وزارت ہی سے چلتا کر دیا۔
وفاقی سیکر ٹری جمیل احمد صاحب کے لئے یہ بھی جاننا بے حد ضروری ہے کہ کل ان سے ملاقات کے لئے آنے والے پی او اے حکام وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ حکومت پاکستان کی نافذ کردہ سپورٹس پالیسی کو نہیں مانتے۔ ان لوگوں نے سُپریم کورٹ میں قومی سپورٹس پالیسی کے عملدراآمد نہ ہونے کے حوالے سے دائرایک کیس میں جہاں ایک جانب ان لوگوں نے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور اسکے قوانین کے پابند نہیں بلکہ آئی او سی کے قوانین کے پابند ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیونکہ یہ لوگ حکومت پاکستان سے فنڈنگ نہیں لیتے اس لئے بھی حکومت پاکستان انکے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
ایسے میں پھر وہ کس منہ سے کبھی قومی کھیلوں اور کبھی قومی یوتھ گیمز کے لئے حکومت سے پیسے مانگنے چل پڑتے ہیں اور جب کوئی ان سے پوچھے آئی او سی سے آپکوکس مد میں کتنے فنڈز آتے ہیں ذرا اسکا حساب دیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی کو حساب کتاب دینے کے پابند نہیں ہیں۔پی او اے کی اپنی کپیسٹی یہ ہے کہ یہ لوگ پانچ سال سے ایک نیشنل گیمز تک نہیں منعقد کراسکے اور جب کوئی اس بارے میں سوال کرے تو انکا جواب ہوتا ہے کہ بلوچستان حکومت کے پاس انفرا سٹر کچر نہیں وہ بجٹ نہیں دے رہی۔
قومی کھیلوں کا انعقاد مکمل طور پر پی او اے کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری حکومتوں پر پھینک کر ہر نئے آئے والے وزیر اور سیکر ٹری کو پی ایس بی کے کلرک بادشاہ اعظم ڈارسے جو خود پانچ عہدوں پر قابض ہے کی مدد سے بے وقوب بنا کرخود پتلی گلی سے نکل جاتی ہے، اور پھر آہستہ آہستہ انہیں اندرون و بیرون ملک ٹورز دے کر رام کر لیتی ہے
پی او اے کیا کچھ کرتی رہی ہے اور کیا کچھ کر رہی ہے یہ ایک لمبی داستان ہے ۔اسکی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ کون کون سی وہ ادا کر رہی ہے اور کون سی نہیں؟ کب کہاں اور کیسے وہ کون سے گل کھلا رہی ہے اور کھلانے جا رہی ہے؟ یہ سب جاننا فاقی وزیر فہمیدہ مرزا اور سیکر ٹری آئی پی سی جمیل احمد کے لئے بہت ضروری ہے۔ اگر وہ یہ سب کچھ نہیں جانیں گے تو نہ صرف سپورٹس مافیاز کے ہاتھوں کھلونا بن جائیں گے اور غلط فیصلے کر کے اپنے لئے بدنامی ہی کمائیں گے اور نہ صرف یہ بلکہ شائد زیادہ دیر تک اس وزارت میں ٹک بھی نہیں پائیں گے۔
کیونکہ وزیراعظم عمران خان سپورٹس کلچر اور ٹورزم کی پرموشن کو لیکر بہت کلئیر ہیں اور یہ وہی وزارت ہے جس پر مستقبل قریب میں وزیر اعظم انتہائی فوکس ہونگے یہ تینوں شعبے معیشت کی بہتری کے حوالے سے بھی اہم رول رکھتے ہیں کیونک تینوں شعبے دنیا بھر میں انڈسٹری کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان تینوں شعبوں میں ترقی اور بہتری ہی ملک کو ترقی اور بہتری کی جانب لے جائے گی لہذا آئی پی سی کی وزیر صاحبہ اور سیکر ٹری صاحب کو اسے ایزی نہیں لینا چاہیے اور یہ ذھن میں رکھ کر کام کرنا چاہیے کہ وزیر اعظم عمران خان بطور حکومتی ادارہ پی ایس بی اور بطور سپورٹس ایڈمنسٹریٹیو ادارہ پی او اے کے حوالے سے قطعی مطمئین نہیں ہیں اور حکومت کے سو دن مکمل ہوتے ہی پہلی فرصت میں وہ وزارت بین الصوبائی رابطہ ہی کو ٹیک آن کریں گے۔