حکومت کھیلوں کی عالمی رینکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے فیڈریشنز میں فنڈز تقسیم کرنے کی حکمت عملی بنائے :سید خاور شاہ

اسلام آباد(صوفی ہارون سے) قومی بیس بال ٹیم رواں سال 22ستمبر سے امریکہ میں کھیلے جانے والے ورلڈ کلاسک بیس بال کوالیفائنگ رائونڈ میں شرکت کرے گا جہاں ا س کا مقابلہ برطانیہ برازیل اور اسرائیل کی ٹیموں کے ساتھ ہوگا۔ اس چمپئن شپ میں کامیابی پاکستان کے لئے ورلڈ کپ بیس بال کے دروازے کھول دے گی۔ پاکستانی بیس بال ٹیم اس وقت رینکنگ میں ایشیا کی 5ویں نمبر کی اور عالمی سطح پر 21ویں نمبر کی ٹیم ہے۔ یہ بات صدر پاکستان بیس بال فیڈریشن سید خاور شاہ نے گزشتہ روز ”سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم 16ملکوں کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ میں 7ویں یا آٹھویں نمبر پر آکر پھولے نہیں سماتے ۔ اس وقت دنیا کے 124ملکوں میں کھیلے جانے والے اولمپک بیس بال میں ہمارا 21نمبرپر ہے تو یہاں کسی کو پرواہ ہی نہیں حالانکہ اگر بیس بال کے کھیل پر تھوڑی سی توجہ دی جائے اور اس کی سرپرستی کی جائے تو پاکستان باآسانی ٹاپ 10ٹیموں میں جگہ بنا سکتا ہے۔ مگر یہاں ہر کوئی کرکٹ کرکٹ کرتا پھرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 1992ء میں پاکستان میں بیس بال فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور تب سے اب تک اس کو اکیلا ہی چلا رہا ہوں ہم تین بار ایشین پوزیشن ہولڈر رہے آج بھی ایشین نمبر5ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا کھیل جس کے لئے پورے ملک میں ایک بھی پچ نہیں اور ہم فٹ بال گرائونڈ میں یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ ان حالات میں اس کھیل کو اتنا آگے لے جانا آسان نہیں تھا مگرہم نے محنت کی اور بڑی جدوجہد کے بعد اس کو یہاں تک لیکر آئے ۔ سید خاور شاہ نے کہا کہ میں کسی کھیل کیخلاف نہیں مگر آپ دیکھ لیجئے کرکٹ کے علاوہ بھی کئی ایسے کھیل ہیں جن کی عالمی سطح پر کوئی رینکنگ نہیں مگر ان کے فیڈریشنز کے عہدیدار طاقتومر ہیں تو انہیں 35 35لاکھ کی گرانٹ مل جاتی ہے اور اگر ہم کسی بین الاقوامی مقابلے کیلئے دس لاکھ بھی مانگیں تو بہانے تراشے جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب ہم ورلڈ کلاسک بیس بال چمپئن شپ کا آٹھ ماہ کا کیمپ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کیلئے ابتدائی طور پر پچاس کھلاڑیوں کو سلیکٹ کیا جائے گا اور تین ماہ بعد شارٹ لسٹنگ کرکے انہیں 35تک لے آیا جائے گا۔ جس کے بعد ان 35کھلاڑیوں میں سے آگے ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ کھیلوں کے معاملات کو چلانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دے اگر وہ بہت زیادہ فنڈنگ نہیں کرسکتی تو کوئی بات نہیں وہ پلاننگ کے ساتھ مختلف کھیلوں میں پاکستان کی عالمی رینکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے ون سپورٹس فار ون ڈیپارٹمنٹ کے طریقہ کار کو اپنا کر کسی ایک ادارہ کے ذمہ یہ لگا سکتی ہے کہ آپ نے اس کھیل کو فنڈنگ کرنی ہے ایسے کم از کم عالمی طور پر بہتر رینکنگ رکھنے والی اور پرفارمنس دینے والی فیڈریشنز کو کھیل کے معیار میں مزید بہتر ی آئے گی ۔ سید خاور شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں یہ بات صحیح ہے کہ پی او اے کو بھی فیڈریشنز کے ساتھ نکل کر کارپوریٹ سیکٹر سے بات کرنی چاہئے تاکہ انہیں کھیلوں کی تنظیوں کی مدد کیلئے راضی کیا جاسکے ۔ مگر شاید اس جانب بھی بہت کمی ہے یہاں ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے اور ملک میں کھیل دن بدن تباہی کی جانب جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کارپوریٹ سیکٹر بھی ٹیکس چور ہے جو لوگ ٹیکس دینا پسند نہیں کرتے وہ کھیلوں کی مدد کو کیا آئیں گے۔
syed khawar shah
انہوں نے کہا کہ اب اصولی طور پر تو سپورٹس کے محکمہ جات صوبائی حکومتوں کے پاس آگئے ہیں توان کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ سکولز کی سطح پر کھیلوں کے فروغ کیلئے فنڈنگ کریں۔ بچوں کو گرائونڈز اور کھیل کود کیلئے میدان فراہم کریں تاکہ ان کا رجحان کھیلوں کی جانب ہو۔ بدقسمتی سے ہم چار سال سوئے رہتے ہیں اور جب اولمپک گیمز ایشین گیمز کامن ویلتھ گیمز یا پھر سیف گیمز سر پر آجاتی ہے تو ہم ہاتھ پائوں مارنا اور ٹامک ٹولیاں مارنا شروع کر دیتے اور آخر کار دوچار میڈلز لیکر منہ بنا کر واپس آجاتے ہیں جبکہ دنیا آٹھ سال پہلے بچوں کو گیمز کیلئے تیار کرنا شروع کرتی ہے انہیں مواقع فراہم کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بہتر تربیت حاصل کرکے مقابلوں میں شرکت کرکے تجربہ حاصل کریں اور پھر جاکر ملک کیلئے میڈل کے حصول کیلئے لڑیں۔انہوں نے وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے اپیل کی کہ ووہ بیس بال کے ملک میں گرائونڈ کی فراہمی کا حکم جاری فرمائیں تاکہ اس کھیل جس میں ہمارے پاس بہت پوٹینشل ہے کو مزید فروغ دیا جاسکے۔