خواتین ہاکی کھلاڑیوں کو جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزام کا سامنا کر رہے قومی وومن ہاکی کوچ سابق اولمپین سعید خان اپنے عہدے سے استغفی دیدیا

لاہور (عمر طارق سے ۔ سپورٹس ورلڈ نیوز) خواتین ہاکی کھلاڑیوں کو جنسی طور پر حراسان کرنے کے الزام کا سامنا کر رہے قومی وومن ہاکی کوچ سابق اولمپین سعید خان اپنے عہدے سے استغفی دے چکے ہیں۔اپنے عہدے سے استغفی انہوں نے اس سکیینڈل کے منظر عام کے فورا بعد قومی وومن ہاکی ٹیم کی ایشین گیمز کوالیفائینگ راونڈ میں روانگی سے قبل ہی دے دیا تھا اور ایونٹ پر جانے سے قبل ہی انہوں نے اس حوالے سے پی ایچ ایف کے حکام کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ٹور کے بعد قومی وومن ٹیم کے ساتھ بطور کوچ کام نہیں کریں گے اس بات کاا نکشاف پی ایچ ایف کے ذمہ دار ذرائع نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے پی ایچ ایف کے ذرائع نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو بتایا کہ سیدہ سعدیہ نامی خاتون ہاکی پلئیرنے ان(سعید خان) پر جنسی طور پر حراسان کرنے کا لزام لگاتے ہوئے ۔ پی ایچ ایف کے صدر ۔سمیت وزارت کھیل حکومت پاکستان۔پی ایس بی۔وزارت کھیل حکومت پنجاب۔سپورٹس بورڈ پنجاب۔کے علاوہ وزیر اعلی پنجاب ۔وزیر اعظم پاکستان۔آئی او سی اور پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو  خطوط لکھے اور سعید خان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ جسپر نہ صرف پی ایچ ایف کے سربراہ بریگیڈئر(ر) خالد سجاد کھوکھر نے پی ایچ ایف ڈسپلنری کمیٹی کو اس معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی تھی کہ اسی دوران حکومت پنجاب کے وومن پروٹیکشن سیل اور سب سے بڑھ کر آئی او سی کی ہدایت پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے بھی اس حولے سے پی ایچ اف سے جواب طلب کیا تھا۔ جسپر اب پی ایچ ایف کی جانب سے پی او اے سمیت سبھی اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا جارہا ہے کہ مذکورہ کوچ اس الزام کے نتیجہ میں اپنے عہدے سے استعفی دے چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود پی ایچ ایف نے خواتین کی ڈسپلنری کمیٹی نے کوچ پر الزام لگانے والی خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف سُنا ہے بلکہ انکی داد رسی بھی کی جا رہی ہے۔ پی ایچ ایف کے ذرائع کے مطابق خواتین کھلاڑی کوچ سعید خان کے استعغی کو لیکر مطمین ہیں اور انہوں نے تحریری طور پر پی ایچ ڈسپلنری کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ کوچ کے استغفی کے بعد وہ معاملات سے مطمین ہیں اور پاکستان کے لئے مذید کھیلنے کی خواہشمند بھی۔ ذرائع کے مطابق انکے تحریری جواب کے بعد اب پی ایچ ایف ڈسپلنری کمیٹی آئندہ تین چار روز میں اپنی رپورٹ صدر پی ایچ ایف کو پیش کرے گی۔ جسکے بعد ممکنہ طور پر ان خواتین کھلاڑیوں کو دوبارہ بطور کھلاڑی کھیل جاری رکھنے کی اجازت مل جائے گی،اور وہ اپنی اہلیت ثابت کرکے قومی ٹیم میں جگہ بناسکیں گیں۔ ذرائع کے مطابق پی ایچ ایف ڈسپلنری کمیٹی اپنی رپورٹ میں صدر پی ایچ ایف سے یہ بھی درخواست کرنے جا رہی ہے کہ مستقبل میں قومی وومن ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ کا انتخاب کرتے وقت خواتین مینجر۔کوچ۔ڈاکٹر اور فزیو وغیرہ ٹیم کے ساتھ رکھے جائیں۔اگر ٹیم کے لئے کوچ مرد ہی رکھنا ضروری ہو تو کم از کم باقی تمام سٹاف خواتین پر ہی مشتمل رکھا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی شکایات سے بچا جا سکے ،جن سے نہ صرف قومی کھیل ہاکی بدنام ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک و قوم کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔

 

دنیا بھر سے کھیلوں کی تازہ ترین خبریں جاننے کے لئے لائیک کریں ہمارا فیس بُک پیج سپورٹس ورلڈ پاکستان 

        https://www.facebook.com/sportsworldpk1/