روس میں فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوران دہشتگردی کا خطرہ ,سکیورٹی انتظامات کے لیے 30 بلین روبل (512 ملین ڈالر) مختص کئے گئے ہیں، ڈپٹی وزیراعظم ویٹالے موٹکو

ماسکو (سپورٹس ورلڈ نیوز) روس میں آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دہشتگردی کا خطرہ ہے جس کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ روس کے سل امتی امور کے ایک ماہر الیگزینڈر گولٹس کا کہنا ہے کہ 14 جون سے 15 جولائی 2018 تک ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران دہشتگردی کا خطرہ حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس سے پہلے 20 سال تک روس کو شدید دہشتگردی کا سامنا رہا جب وہ چیچنیا میں دو مختلف جنگیں لڑرہا تھا لیکن ستمبر 2015 سے جب روس نے بشارالاسد حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا دہشتگردی کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔گولٹس نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ حکام تو دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن ہزاروں روسی جو دہشتگردی میں ملوث رہے ہیں واپس روس آرہے ہیں روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک کاکیسس رپبلکس سے تعلق رکھنے والے 2900 روسی جنگجو اور 2000 سے 4000 کے درمیان وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو ابھی روس میں موجود ہیں۔ہر روز دولت اسلامیہ کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹورنامنٹ کے دوران حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جن میں اکثر کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی دھمکیاں محض توجہ حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔ تاہم حکام سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے خاموش ہیں روس کے ڈپٹی وزیراعظم ویٹالے موٹکوکا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے لیے 30 بلین روبل (512 ملین ڈالر) مختص کئے گئے ہیں۔اس سال جون میں ولادیمر پیوٹن نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں احتجاج کرنے، بغیر اجازت ان 11 میزبان شہروں میں داخلہ، اور ڈرائیونگ پر پابندی ہوگی اس کے ساتھ نوفلائنگ زونز بھی تشکیل دئیے گئے ہیں مذکورہ صدارتی حکم نامے کا اطلاق 25 مئی سے 25 جولائی 2018 تک ہوگا۔قبل ازیں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں اپریل میں ہونے والے دھماکے میں 15افراد مارے گئے تھے جبکہ اگست میں سائبیریا میں چھری کے وار سے 7 افراد قتل کردئیے گئے تھے اور اس واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ اسی دوران حکام نے دہشتگردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کرنے کا دعوی بھی کیا تھا ۔