ریاض پیر زادہ وزیر اعظم کی فیملی کے خلاف جے آئی ٹی کے فیصلے پر شاداں : نیب تحقیقات سے لا علم وفاقی وزیر ،حکومتی مشینری کو پانامہ معاملے میں مصروف دیکھ کر معطل ڈی جی پی ایس بی کو بحال کرنے کا خواب دیکھنے لگے

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) وفااقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور انکی مضلص ٹیم کو پانامہ کیس میں گھرے ہوئے دیکھ کر معطل ڈی جی پی ایس بی ڈاکٹر گنجیرا کی بحالی کے خواب دیکھنا شروع کر دئے ہیں اور حوالے سے وزارت اور پی ایس بی میں تعینات ایسے افسران کی تلاش شروع کر دی ہے جو انکے اشاروں پر ڈاکٹر گنجیرا کے خلاف کاغذی تحقیقات کر کے انہیں بے گناہ لکھ دیں تاکہ 25جولائی کو انکی معطلی کے تین ماہ مکمل ہونے کے بعد اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر انہیں (ڈاکٹر گنجیرا) کو انکے عہدے پر بحال کیا جا سکے۔وفاقی وزیر میاں ریاض پیر زادہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ابھی تک انہیں وزارت اور پی ایس بی سے کوئی ایسا افسر میسر نہیں آسکاجو یہ گناہوں کا یہ بوجھ اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو۔کیونکہ پی ایس بی اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے افسران کے نوٹس میں یہ بات آچکی ہے کہ معطل ڈی جی پی ایس بی کے خلاف نیب سے تحقیقات شروع ہو چکی ہیں اور اس ضمن میں پشاور سینٹر کے ایک ذمہ دار کوتحقیقات کے لئے طلب بھی کیا گیا تھا۔ایسی صورت میں جو افسر بھی معطل ڈی جی کے حوالے سے کاروائی اور کاغذی تحقیقات کرے گا اسے لینے کے دینے پٹر سکتے ہیں ۔ ریاض میر زادہ کے انتہائی قریبی زرائع کے مطابق وفاقی وزیر جنہوں نے گذشتہ دنوں اپنے ایک انٹر ویو میں شیخ رشید احمد کو صحیح معنوں میں عوامی خواہشات کا ترجمان قرار دیا تھا وزارت کاقملدان دوبارہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل ڈاکٹر گنجیرا کے توسط سے شیخ رشید کے ساتھ رابطہ میں ہیں گذشتہ روز پانامہ کیس میں وزیر اعظم اور انکی فیملی کے ملزم قرار دئے جانے پر بھی انتہائی خوش ہیں اور حکومت کی مشینری کی اسی پریشانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرپشن کے الزام میں معطل اپنے من پسند سابق ڈی جی ڈاکٹر گنجیرا کو انکے عہدے پر بحال کر نے لے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔حالانکہ قانونی طور پر گریڈ 20کے افران کی تقری یا بحالی کا ختیار انکے پا س ہے ہی نہیں ۔یہ اختیار کانینہ ڈویثرن کے پاس ہے جو وزیر اعظم کی براہ راست ہدایت کی روشنی میں انکی منظوری سے فیصلے لیتی ہے۔زرائع کے مطابق اگر وفاقی وزیر کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ لیا گیا تویہ غیر قانونی ہوگا۔