زلمئی مدرسہ لیگ ۔۔۔۔۔عمران خان کے خواب کی عملی تعبیر

خصوصی تحریر: شہاب الدین شہاب

پاکستان کا مذہبی طبقہ تقسیم ہند سے لیکر آج تک پاکستان میں ایک محدود اور مقید ماحول میں رہ کر مذہب کی ترویج و ترقی میں لگا ہوا ہے۔ مذہب پرستی کے اس سفر میں اس طبقے میں کئی اختلافات اور نزاع بھی سامنے آتے رہے ۔ مذہب کے نام پر تقسیم در تقسیم بھی وقت نے مشاہدہ کی مگر جو چیزثابت اور قائم رہی وہ یہی کہ یہ طبقہ صرف اورصرف دینی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ ہمارے معاشرے نے اس طبقے کو کبھی زندگی کے دوسرے شعبوں میں جگہ دینے کو نہ گوارا کیا اور نہ ہی کسی حکومت نے کبھی یہ ضرورت محسوس کی کہ معاشرے کے اس اہم اور ذمہ دار طبقے کے معاشی اور معاشرتی مسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انکو زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسطرح لایا جائے جسطرح ایک عام پاکستانی کو اسکے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔
اس محدود ماحول اور معاشرے کی تنگ نظری نے دہشت گردی، انتہاء پسندی اور مذہبی منافرت جیسے کئی عفریت جنم دئے جسکی تپش سے نہ معاشرہ بچ سکا اور نہ ہے مذہبی طبقہ اپنا دامن بچا سکا۔ اگرچہ یہ کہنا صریحا زیادتی ہوگی کہ انتہاء پسندی یا پھر دہشت گردی یہاں سے پروان چڑھی مگر یہ کہنا کافی حد تک صحیح ہے کہ ملک میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے علمبرداروں کو کئی مذہبی طبقوں نے تلاشِ معاش،، بہتر زندگی یا پھر معاشرے میں اپنے وجود کی موجودگی کے لئے اس طبقے کے معصوموں کا ایندھن ضرور فراہم کیا۔۔۔۔

نئے پاکستان کے علمبردار محترم وزیرِ اعظم عمران خان صاحب نے جہاں کئی اور خوبصورت اور بہترین خیالات اور منصوبے قوم کے سامنے رکھ کر اپنی حکومت کا آغاز کیا۔وہاں ان میں شاید ایک انتہائی اہم اور دور رس نتا ئج کی حامل سوچ اور فکر دینی مدارس کے بارے میں تھی۔ عمران خان کی سوچ کے مطابق ملک کے مذہبی طبقے کو زندگی کے ہر شعبے میں مواقع فراہم کرنا انکی اولین ترجیحات میں سے ایک ہوگی۔ عمران خان کی یہ سوچ نہایت قابل تعریف اور قابل ستائش ہے۔ کہ ملک کا مذہبی طبقہ میڈیکل او ر انجنئیرنگ کے شعبوں میں یاکالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی اپنے لئے مواقع اسی طرح پاسکیں جسطرح ملک کا ایک عام شہری اپنے لئے وافر موجود پاتا ہے۔ اور عمران کی اس سوچ کے مطابق ملک کا اہم اور قابل رحم طبقہ بھی معاشرے کا اہم جز بن کر زندگی کے ہر میدان میں ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے ۔ ۔۔
لیکن نظریات ، افکار اور سوچ جتنے بھی اچھے ہوں جب تک وہ عمل کا جامہ زیب تن کرکے معاشرے میں نظر نہ آئیں ۔ وہ تب تک لوگوں کے اذہان پر نقوش نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جہاں منصوبہ سازوں نے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا ۔۔۔نہ ہی حکومت وقت نے اسطرف کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔۔ وہاں ملک کی ایک نوجوان قیادت جو بظاہر تو صحتمند معاشرے کی تشکیل کے لئے کھیلوں کی دنیا میں اپنے ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہے۔ لیکن اس کی نظر شاید اس ملک کی معیشت اور امن کو بہتر بنانے کے لئے وزیر اعظم عمران کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے پر ہے۔۔ وہ اگرچہ حکومت وقت کا حصہ نہیں مگر وہ اس حکومت کو اپنے قوم و ملک کی خیر خواہ سمجھ کر ملکی تعمیر و ترقی میں شب و راز ایک ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوئی روایتی سیاستدان یا پھر اخباروں کی زینت بننے والا سماجی شعبدہ باز نہیں ۔۔ بلکہ قومی جذبے سے سرشار انتہائی سیدھا سادھا ، کم گو اور عمران خان کے خوابوں کو عملی تعبیر دینے میں مصروف پشاور زلمئی کے چےئرمین جاوید آفریدی ہیں۔ جس نے شاید خاموش مگر پر جوش انداز میں اس ملک کی معیشت اور اس ملک کے امن میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔۔ میں نے ایک موقع پر ان سے جب انکے منشور کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انکا منشور خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت مانگی ہوئی دعائے خلیل ہے۔۔ امن کی خواہش اور اسکے لئے جدوجہد اوربہترین معیشت اور اسکے لئے عملی اقدامات۔۔۔۔

امن کے سفر پر چلتے ہوئے جاوید آفریدی نے عمرا ن خان کے مذہبی طبقے کی ملکی دھارے میں بھر پور شمولیت کے خواب کے لئے عملی قدم کھیلوں کی دنیا سے لیا۔۔ جہاں انہوں نے پشاور زلمئی کی ایک شاخ زلمئی مدرسہ لیگ کے نام سے بنا کر ملک کے مذہبی طبقے کو کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔ تاکہ وہ بھی ملک کے دیگر افراد کی طرح کھیلوں میں حصہ لیکر ملک کے ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرسکیں۔۔۔
زلمئی مدرسہ لیگ ۔۔۔۔مذہبی طبقے کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنے کی عملی کوشش ہے جہاں سے وہ اپنے صلاحیوتوں کا بھر پور مظاہرہ کرکے ملک کے مقتدر طبقے اور دینی مدارس سے لاتعلق لبرل ذہن رکھنے والوں کودعوتِ فکر دے کر یہ پیغام دیں کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔۔۔
دینی مدارس میں جہاں ملک کے مذہبی اقدار کا تحفظ برسوں سے ہو رہا ہے۔ شاید ہماری بدقسمتی یا پھر مذہبی کمزوری ہے کہ معاشرے نے اپنے اس عضو کو جسم سے ہمیشہ الگ تھلگ سمجھا۔ مگر عمران خان کے خواب کی تعبیر کی عملی کوشش جہاں حکومت وقت کے بزرگ جمہروں کی ذمہ داری ہے وہاں جاوید آفریدی نے اپنے بھرپور عملی کردار سے دعوتِ فکر دیتے ہوئے دوسروں کو جھنجھوڑا کہ عملی اہداف کے حصول کے لئے حکومت کا کوئی عہدہ نہیں بلکہ عزم و ارادہ اور نیک نیت چاہئے ہوتی ہے جسکی ہمارے ملک میں ابھی شاید بہت فقدان ہے۔۔۔
مدرسہ لیگ کا قیام ۔۔ ہمارے مذہبی مدارس میں پڑھنے والے نوجوانوں کے لئے ایک بھر پور اور شاندار موقع ہے کہ وہ انکے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کا اپنے بھر پور کردار سے منہ بند کرکے عملی پیغام دیں کہ ہم امن اور محبتوں کے سفیر اور پیامبر ہیں۔۔ ہم اس ملک کی فکری آبیاری کے لئے جہاں قال اللہ اور قال الرسول کا مسند سنبھالے ہوئے ہیں وہاں اس ملک کے صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے جاوید آفریدی کے ایک کال پر کھیل کے میدانوں میں بھی اتر آئے اور اگر حکمرانوں نے موقع دیا تو ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر شعبۂ زندگی میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔مدرسہ لیگ ۔۔۔ دینی مدارس کے نوجوانوں کے استعداد اور صلاحیتوں کے چھپے ہوئے خزینوں کو کھوجنے اور انکو ملک کی ترقی کے سفر میں استعمال کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔
ہمارے ہاں جبکہ مغربی طرز فکر اور بود و باش زندگی کا ما حاصل بن گیا ہے ۔۔ مذہبی طبقے پر بلا وجہ تنقید اور انکو ساری خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک فیشن اور اغیار کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک وطیرہ بن چکا ہے ۔۔ لیکن یہ طبقہ جن مسائل سے دوچار ہے اور ملک کے ان مذہبی پیشواؤں کو اپنے لوگوں سے کیا گلے شکوے ہیں ؟؟ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔کبھی انکو اپنا سمجھ کر اپنے برابر لاکھڑا کرنے کی بات نہیں کی گئی۔۔

زلمئی مدرسہ لیگ۔۔ اس کاوش کی ایک خوبصورت مثال ہے ۔ اور وہ بھی ایک ایسے نوجوان کی طرف سے جو حکومت کا حصہ نہیں اور ایسے حالات میں جبکہ تحریک انصاف کے کر تا دھرتا نئے پاکستان کے خواہاں جناب عمران خان کے خوابوں کی تعمیر کو عملی جامہ پہنانے کا ہنوز سوچ رہے ہیں اور صرف اپنی باتوں سے عوام کو تسلیا ں دے رہے ہیں ۔۔ عمران خان کا عملی وزیر بن کر جاوید آفریدی نے اپنے وسائل اور حدود میں اس خواب کو عملی جامہ پہنا دیا۔۔
کوئٹہ میں ۳ سے۶ دسمبر تک مختلف مکاتب فکر کے مدارس کا منعقدہ زلمئی مدرسہ لیگ ٹورنامنٹ اسی عملی کواش کی ایک کڑی ہے ۔ جہاں مختلف مکاتب فکر کے طلباء کرکٹ کے میدانوں میں اپنے صلاحیوتں کا مظاہرہ کریں گے۔
زلمئی مدرسہ لیگ ۔۔ ایک خوبصورت اور قابل تعریف سفر کا کرکٹ کے میدانوں سے آغاز ہے۔لیکن یہ سفر کا ہنوز آغاز ہے ۔ منزل ابھی شاید بہت آگے ہے مگر ہماری پہونچ سے دور نہیں۔۔ لہذا اس خوبصورت سفر کا تسلسل اور اسکی ہمہ جہتی اور دوسرے کھیلوں تک اسکی وسعت اسکی کامیابی کی دلیل ہوگی۔
ہم جناب جاوید آفریدی کو جہاں خراج تحسین و آفرین دیں گے وہاں یہ بھی ضرور کہیں گے کہ عمران خان کے خوابوں کی عملی تعبیر کا جو خوبصورت آغاز آپ نے کیا ہے اسکا سلسلہ عنقریب کھیل کے دوسرے میدانوں تک بھی پھیلنا چاہئے اور مستقبل قریب میں ہمیں زلمئی ہاکی لیگ یا پھر زلمئی والی بال لیگ جیسے دوسرے لیگ دیکھنے کو ملیں۔ یہ سفر آسان نہیں اور نہ یہ منزل ایک دو دن کے سفر سے حاصل ہوگا ۔ لیکن عزم و ہمت کے جن اقدار کا آپ نے مظاہرہ کیا اسکو دیکھتے ہوئے ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ منزل کا حصول مشکل سہی پر ممکن نہیں۔۔ راستے کی مسافت لمبی سہی مگر ناقابل سفر نہیں۔۔ اور پوری قوم اپکے اس نیک مشن میں اپکے لئے دعا گو ہوکر یہ یقین کرتی ہے کہ ۔۔۔۔
ارادے جنکے پختہ ہوں نظر جنکی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے