سال 2017 نے پاکستان پر عالمی کھیلوں کے دروازے کھول دیئے،2018میں امکانات مزید وسیع …… رپورٹ : اویس لطیف

بورے والا ایکسپریس کے نام سے مشہور سٹار پاکستانی فاسٹ باؤلر وقار یونس نے سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ ’’شاید اب عالمی کھیل پاکستان آتے آتے طویل عرصہ لگائیں‘‘سابق پاکستانی کرکٹ کپتان کی بات 2016کے آخر تک تو سچ ثابت ہو ر ہی تھی مگر سال 2017کو پاکستان میں عالمی کھیلوں کے بند دروزانے کھولنے والے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔رواں سال کرکٹ،ہاکی،ٹینس،سکواش،کبڈی سمیت دیگر معروف اور غیر معروف کھیلوں کے انٹر نیشنل سٹارز نے سونے میدانوں کی آبادی کیلئے پاکستان کا سفر کیا۔ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے 2015ء میں پاکستان کے کامیاب دورے نے عالمی کھیلوں کی پاکستانی واپسی کے حوالے سے بنیادی کر دار ادا کیا۔ اسی مثبت صورتحال نے وسعت اختیار کی اور رواں سال پاکستان میں پی ایس ایل کے فائنل کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر کے کئی نامور کھلاڑیوں نے شرکت کی ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان اوربعد ازاں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی قدافی سٹیڈیم میں شاندار میزبانی پاکستان میں ہونے والے 2017کے سب سے نمایاں ایونٹس رہے۔پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے فائنل میچ کیلئے کراچی نیشنل سٹیڈیم کا انتخاب،ڈیوس کپ کیلئے تھائی لینڈ کی ٹیم کی اسلام آباد میں بھرپور آؤ بھگت،انٹر نیشنل ہاکی کی واپسی کیلئے پی ایچ ایف کی کامیاب منصوبہ بندی نے 2018 میں عالمی کھیلوں کے پاکستان میں انعقاد کے امکانات مزید وسیع کر دیے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ تین، چار سالوں کے دوران سکیورٹی کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہونے اورموثر حکمت عملی و منصوبہ بندی کی بدولت کھیلوں کے فروغ میں بہت مدد ملی، کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہوئے اور قومی کھلاڑیوں نے کئی عالمی اعزازات حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا‘اس عرصے میں پاکستان نے کرکٹ ‘ سکوائش ‘ ٹینس ‘ والی بال ‘ فٹ بال ‘ ریسلنگ سمیت متعدد کھیلوں کی میزبانی اور قابل فخر فتوحات حاصل کیں‘ سال 2017میں‘ پاکستان میں بین الاقوامی مقابلے بحال ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں نے عالمی افق پر مختلف کھیلوں میں نمایاں پر فامنس پیش کی ۔

عالمی سطح پر پاکستان کی نمایاں فتوحات کا جائزہ لیا جائے تو نوجوان سٹارز پر مشتمل پاکستان کرکٹ ٹیم نے رواں سال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو عبرتناک شکست دیکر پہلی مرتبہ آئی سی سی کے اس طرز کے میگا ایونٹ کاٹائٹل اپنے نام کیا۔اسی طرح ٹینس میں تھائی لینڈ کے خلاف پاکستان نے 2-1سے فتح حاصل کی۔ سکواش میں اگر چہ عالمی درجہ بندی میں پاکستانی کھلاڑی تنزلی کا شکار ہوئے مگر پاکستان میں ہونے والے ایونٹس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے نمایاں پر فامنس دیکھائی۔ 2017ء پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لئے ساز گار رہا اوراس دوران کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں نے یہاں کا رخ کیا اور پاکستان میں کامیاب مقابلوں کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر شاداں نظر آئے ۔ عالمی بلائنڈ کرکٹ کونسل نے پاکستان کو آئندہ سال کے شروع میں ایک روزہ عالمی بلائنڈ کرکٹ کپ کی میزبانی دی جس کے انعقاد کیلئے پاکستان بلائنڈ کرکٹ کو نسل بھرپور تیاری کر رہی ہے۔ اسی طرح رواں سال کے آخر میں پہلی مرتبہ ساؤتھ ایشیئن سائیکلنگ چیمپئن شپ بھی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ اگر برا اور طویل کڑا وقت گزا رنے کے بعد عالمی کھلاڑیوں کی پاکستان میں مر حلہ وار واپسی کا جائزہ لیا جائے تو زمبابوے کرکٹ ٹیم نے 19مئی سے 31 مئی 2015ء تک پاکستان کا دورہ کیااور پاکستان کے خلاف تین ون ڈے اور دو ٹی۔ 20 میچوں کی سیریز کھیلی‘ جس میں پاکستان نے ون ڈے سیریز 2-0 اور ٹی 20 سیریز 2-0سے کامیابی حاصل کی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی مینجمنٹ کی کوششوں کی وجہ سے پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا انعقاد سال 2016ء میں کیا گیا‘ جس کے کامیاب انعقاد کے بعد رواں سال 2017ء میں دوسرے پی ایس ایل فائنل مقابلے کی میزبانی لاہور کے حصے میں آئی۔جس میں کئی نامور عالمی کھلاڑیوں نے شرکت کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کے عزم کو مزید تقویت فراہم کی۔ ‘ پی ایس ایل میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان بھر سے نوجوانون کھلاڑیوں نے حصہ لیا ۔ پی سی بی نے پی ایس ایل کا انعقاد کرکے ملک بھر سے نئے کھلاڑیوں کو آگے لانے کے لئے موقع فراہم کیا جس سے سامنے آنے والی پاکستانی ’’ینگ گنز‘‘ فخر زمان‘شاداب خان ‘ عماد وسیم ‘حسن علی سمیت دیگر نامور کھلاڑیوں نے آئی سی سی چیمپئن ٹرافی میں اپنے جوہر دیکھا کر پاکستان کو چمپئن بنوایا۔

پاکستان پہلی مرتبہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون کی پوزیشن پر آیا اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق نے تیز ترین سنچری بھی بنائی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے مطابق ماضی میں پاکستان میں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں دشواری کا سامنا تھا اور غیر ملکی کھلاڑی یہاں کھیلنے پر تیار نہ تھے تاہم گزشتہ چار سالوں کے دوران ملک میں مجموعی طور پر بہتر سکیورٹی صورتحال کی بناء پر کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہوگئے اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے بھی پاکستان کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔زمبابوے کے دورہ پاکستان سے شروع ہونے والے سلسلے نے سپر لیگ کے فائنل ،ورلڈ الیون کے دورے اور سری لنکن ٹیم کی آمد کی راہ ہموار کی 2018میں بورڈ ویسٹ انڈیز سمیت دیگر ٹیموں کو پاکستان لانے کیلئے پر عزم ہے۔2017میں پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی بحال ہوئے جن میں ٹینس ‘ سکوائش‘ والی بال ‘ریسلنگ ‘ فٹ بال اور دیگر مقابلے شامل ہیں۔ ماہ اکتوبر میں عالمی کھلاڑیوں نے پاکستان کے ساتھ سکوائش سیریز کھیلی اور تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان میں سکیورٹی صورتحال کی تعریف کی اور مطمئن ہو کر اپنے ممالک کو واپس گئے ۔ پاکستان اور مصر کے درمیان انٹرنیشنل سکوائش سیریز کھیلی گئی جس میں مصری کھلاڑیوں نے پاکستان کو 3-2 سے شکست دی۔جس کی بنیاد پر سال 2017کے آخری لمحات میں ایئر چیف سکواش چمپئن شپ میں مینز اور ویمنز کھلاڑیوں نے اسلام آباد کی میزبانی کا لطف اٹھایا اور جاندار مقابلوں میں حصہ لیا۔ کھلاڑیوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان سکوائش فیڈریشن نے ہماری بھرپور مہمان نوازی کی اور ہمیں فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی ۔ اس حوالے سے پاکستان سکوائش فیڈریشن کے نائب صدر قمر زمان نے جہان پاکستان کو بتایا کہ چار سالوں میں ملک میں سیکورٹی کی بہتر صورتحال کے باعث 9سال بعد پاکستان میں بین الاقوامی سکوائش کے مقابلے بحال ہوئے اور تین سال تک اس کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا ‘ ماضی میں پاکستان سکواش کے کھیل میں چند نمایاں ممالک میں شامل تھا اور نیا کے ہر سکواش کورٹ میں سبز پاکستانی پر چم لہرایا گیا مگر پاکستان میں عالمی مقابلے نہ ہونے کا براہ راست اثر کھلاڑیوں کی پر فامنس پر پڑا اب جبکہ عالمی ٹیمیں آنا شروع ہو گئی ہیں تو امید ہو چلی ہے کہ پاکستان ان ہی کھلاڑیوں کی بدولت دو بارہ عالمی اعزا ت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

ٹینس فیڈ ریشن کی کو ششوں اور صدر پی ٹی ایف سلیم سیف اللہ ،دلاور عباس کی ڈپلو میسی نے پاکستان میں عالمی ٹینس کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔12 سال بعد ڈیوس کپ ٹائی کا انعقاد پاکستان میں ہوا‘ فروری 2017ء میں پاکستان اور ایران کے خلاف ڈیوس کپ ٹائی کا سیمی فائنل کھیلا گیا‘ جس میں پاکستان نے ایران کو 3-2سے شکست دی۔ ڈیوس کپ ٹائی گروپ 2کی بھی میزبانی پاکستان نے اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس کے گراس کورٹ پر کی جہاں پاکستان کو ایک بار پھر تھائی لینڈ پر 3-2سے فتح ملی۔پاکستان ہاکی سال 2017کے کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستان کا منفی پوائنٹ رہا ۔ٹیم انتظامیہ میں اکھاڑ بچھاڑ نے پر فامنس کو شدید متاثر کیا حال ہی میں پی ایچ ایف نے ٹیم کو کرکٹ بورڈ کی پیروی کر تے ہوئے پر دیسی کوچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے سابق جر من کپتان کا نام زیر گردش ہے۔2017میں پاکستان کوعالمی ہاکی مقابلوں میں جہاں ہزیمت کا سامنا کر نا پڑا وہیں پی ایچ ایف کوئی بھی بڑا ایونٹ کرانے میں ناکام رہی،2018میں ورلڈ الیون کے دورے سے شاید ہاکی کے بڑے سٹارز بھی پاکستان آ سکیں۔پاکستان میں پہلی مرتبہ رواں سال کے آخر میں ساؤتھ ایشین سائیکنلگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں بھارت‘ افغانستان ‘ سری لنکا ‘ نیپال ‘ برما اور میزبان پاکستان کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سید سلطان شاہ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران بہتر سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے سال 2014ء میں بھارت کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی اسی طرح 2016ء میں سری لنکن بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔دونوں سیریز میں پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھیں۔اس دوران پاکستان نے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لیا اور سال 2014ء میں پاکستان نے ایک روزہ عالمی بلائنڈ کرکٹ کپ میں فائنل تک رسائی حاصل کی۔

سال 2016ء ایشئن بلائنڈ کرکٹ کپ جو کہ بھارت میں کھیلا گیا میں بھی پاکستان رنر اپ رہا۔ رواں سال بھارت میں ہونے والے ٹی 20 کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہتر سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل نے آئندہ سال جنوری 2018ء میں عالمی ایک روزہ بلائنڈ کرکٹ کپ کی میزبانی پاکستان کو دی ہے‘اس کے لئے پاکستان انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ مئی 2017ء میں پاکستان میں پہلی مرتبہ پرو ریسلنگ مقابلوں کا میلا سجایا گیا ریسلنگ کا انعقاد لاہور ‘ کراچی اور اسلام آباد میں کیا گیا جس کو شائقین نے ایک بہترین کاوش قرار دیا ‘ پہلی پرو ریسلنگ مقابلوں میں دنیا کے مانے ہوئے پہلوانوں نے شرکت کی جس میں ٹو نی آئرن ‘ایڈم فلیکس ‘ سٹار بک ‘ بادشاہ خان سمیت دیگر پہلوانوں نے شرکت کی۔ ایونٹ کے کامیاب انعقاد اور عوام کا زبردست استقبال دیکھ کر معروف پہلوانوں نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے محفوظ ملک قرار دیا۔لیژر لیگ کے بینر تلے رواں ماہ فٹ بال کے عالمی ستارے پاکستان آئے،رو نالڈہینو سمیت فٹ بال کے عالمی افق کے نامور ستاروں کی آمد سے عالمی سطح پر ایک اور مثبت پیغام دیا گیا۔پہلی مرتبہ آٹھ بین الاقوامی فٹ بالرز نے پاکستان کا دورہ کیا اور دو نمائشی میچ کراچی اور لاہور میں کھیلے۔ فٹ بال کے عظیم کھلاڑی رائن گگز نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کھیلوں کے لحاظ سے محفوظ ملک ہے اور کراچی اور لاہور میں ہونے والے میچز دنیا کے لئے ایک پیغام ہے ۔رونالڈینو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نئی نسل فٹ بال کی دلدادہ ہے جبکہ پاکستان کی بہترین میزبانی نے انہیں حیران کر دیا ہے۔2017میں دیگر کھیلوں کی فتوحات پر نظر ڈالی جائے توباکسنگ میں محمد وسیم نے دو بڑی فتوحات حاصل کیں اور عالمی نمبر ایک کا اعزاز پایا۔اگر چہ وہ پاکستانی حکومت کی بے رخی پر دلبرداشتہ ہیں مگر امید ہے حکومت اس پاکستانی اثاثے کو بچانے کیلئے کوشش کر ے گی۔اسی طرح پاکستان نے دو ہفتے قبل جونیئر سنوکر کا ٹائٹل جیتا۔سیکیورٹی کی بہتر ہو تی صورتحال اور اعلی سطح پر کامیاب کاوشوں سے پاکستان عالمی کھیلوں کیلئے بند دروازے کامیابی سے کھول رہا ہے۔کھیل اور کھلاڑی عالمی سطح پر پاکستان کی سب سے بڑی پہچان تھے اور رہیں گے۔پاکستانی قوم کا عزم دہشت گردی سمیت ہر بلا کو شکست دے گا ۔2017کی تفصیلات کو دیکھتے ہوئے مید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان پھر سے عالمی کھلاڑیوں کی آماجگاہ بنے گا۔پشاور ٹیسٹ میچز کی میزبانی کرے گا،کراچی میں ہاکی مقابلے ہوں گے اور اسلام آبادٹینس اور سکواش کے عالمی سٹارز کی میزبانی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔