کیا سُپریم کورٹ کی نگرانی میں منتحب ہونے والی پی ایف ایف کو پی او اے اجلاس میں نہ بلانے کا فیصلہ توہین عدالت نہیں ؟

لاہور (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے آج لاہور میں ہونے والے اجلاس جو کہ پی او اے کے آئین میں تبدیلیوں کے لئے بلا یا گیا ہے میں پی او اے نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو مدعو نہیں کیا۔ اس حوالے سے سیکرٹری پی اوو اے خالد محمود آن دی ریکارڈ آکر میڈیا میں کہہ چکے ہیں کہ پی او اے سُپریم کورٹ آف پاکستان کی زیر نگرانی ہونے والے پی ایف ایف کے انتخابات میں منتحب ہونے والے عہدیداروں کو مدعو نہیں کیا گیا ۔ انکی جانب سے اس بیان کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی او اے کی جانب سے پی ایف ایف کے سُپریم کورٹ آف پاکستان کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں منتحب عہدیدارون کو نہ مانتے ہوئے پی او اے اجلاس میں نہ بلانا توہین عدالت نہیں؟ کیا حکومت اور خود چیف جسٹس آف پاکستان کو اس معاملہ کا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟
کیسے کوئی این جی او جو حکومت پاکستان کے ٹکڑوں پر پلتی ۔ اسکے عہدیدار پاکستان کے پاسپورٹ پر پاکستان کے نمائندہ بن کر دنیا بھر میں سفر کرتے۔ اور پاکستان کا کلر پہنتے اور اسکا نام استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی حکم عدولی کر سکتے ہیں۔
ایسے میں چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار اور انکے بعد آنے والے چیف جسٹس آف پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے پی او اے کے بڑوں کے خلاف توہین عدالت میں مقدمہ چلائیں۔