سکواش اکیڈیمز پاکستان میں سکواش کی بحالی کی طرف سنجیدہ قدم ہے آنیوالے سالوں میں مثبت نتائج نکلیں گے :جہانگیر خان

اسلام آباد(صوفی ہارون سے)پاکستان سکواش فیڈریشن ملک بھر میں سکواش اکیڈیمز قائم کرکے پہلی بارگراس روٹ لیول سے سکواش کے نئے کھلاڑی پیدا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔ آنیوالے سالوں میں اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ پاکستان میں آج بھی سکواش کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ضرورت ہے تو صرف انہیں پالش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جو کہ اب فیڈریشن کی سطح پر کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے منگل کے روز یہاں اسلام آباد سکواش کمپلیکس میں ”سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام” کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں جب ہم کھیلتے تھے تو اپنی انتھک ٹریننگ پر جیتتے تھے۔ ہمارا فٹنس لیول انتہائی بہترین ہوتا تھا ۔ اب ہمارے کھلاڑی ایک تو اتنی ٹریننگ نہیں کرتے اور دوسرا ٹریننگ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فٹنس لیول بہترین نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ کراچی میں سکواش اکیڈیمی میں زیرتربیت نوجوان کھلاڑیوں اور قومی کیمپ اسلام آباد میں زیرتربیت کھلاڑیوں کو میں بار بار اپنی ٹریننگ کا وقت مزید بڑھانے اپنا سٹیمنا بہتر بنانے اورخودکو ذہنی طور پر مضبوط بنانے کیلئے کہتا ہوںاوراس حوالے سے انہیں ٹپس بھی دیتا ہوں۔ جہانگیر خان کاکہنا تھا کہ گزشتہ تقریباً ایک سال کے عرصہ سے پاکستان سکواش فیڈریشن کی کھیل میں سنجیدگی اور دلچسپی ماضی سے بہتر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سکواش میں کام ہوتاہوا محسوس بھی ہورہا ہے اورنظر بھی آرہا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر پلیئرز محنت لگن اور کوشش کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو ورلڈ چمپئن بننا بھی مشکل نہیں لیکن اس کیلئے انہیں اپنی جان لڑانی ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ وطن عزیز نے ہمیں بہت عزت اور نام دیا ہے اور بطور پاکستانی میری بہتر یہ کوشش تھی اورہے کہ سکواش کے میدان میں اپنے کھلاڑیوں کی بھرپور رہنمائی کر سکوں جو میں اب کر بھی رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں آج میں سیف گیمز کیلئے جانیوالے کھلاڑیوں سے ملاقات کیلئے آیا تھا ۔ میں نے ان کی تربیت اور کارکردگی کا جائزہ لیا ہے اور ان کی گیم کو دیکھتے ہوئے انہیںچند تجاویز بھی دی ہیں۔ ہمارے بچوں کی گیم اچھی ہے اوروہ وہاں یقینا اچھا پرفارم کریں گے۔انڈیا اور پاکستان سکواش کا موزانہ کرتے ہوئے جہانگیر خان نے کہا کہ انڈیا نے گزشتہ کچھ عرصہ سے سکواش میں کافی بہتری لائی ہے اس لئے سیف گیمز میں دونوں کے کھلاڑیوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے ہونے کی توقع ہے۔
jahangir khan-2
انہوں نے کہا کہ بھارت میں کھیلتے ہوئے ہمیشہ ذہنی طور پر مضبوط پاکستانی پلیئرز پرفارم کر سکتے ہیں
اسی وجہ سے میں نے بچوں سے بھی کہا کہ وہ بھارت میں کھیلنے کا پریشر لئے بغیر اپنا بیٹ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کھلاڑی راتوں رات ورلڈ چمپئن نہیں بن جاتے کچھ ٹائم لگتا ہے اور جس انداز میں پاکستان سکواش فیڈریشن سکواش کی ترقی کیلئے کام کررہی ہے مجھے قوی امید ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان سکواش کے میدان میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔