قائد اعظم گیمز : پنجاب کے کھلاڑیوں کاا تھلیٹکس ٹریک پر دھرنا ،13:30تک ایونٹ شروع نہ ہو سکے۔پنجاب نے ایونٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی۔ڈی جی پی ایس بی معاملات کے حل کے لئے میدان میں آگئے

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں جاری دوسرے قائد اعظم گیمز کے تیسرے روز صبح10بجے شیڈول اتھلیٹکس کے مقابلے پنجاب کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے دھرنے کے باعث دن 13:30 بجے تک شروع نہیں ہو سکا ۔ اس حوالے سے پنجاب سپورٹس بورڈ کے حکام کا موقف ہے کہ وہ کسی ایسے بچے کو اس ایونٹ میں حصہ نہیں لینے دیں گے جو کسی بھی حوالے سے کسی ڈیپارٹمینٹ بشمول یو جی سی سے منسلک رہتے ہوئے کسی ایونٹ میں حصہ لے چکاہو۔جبکہ دوسری جانب دیگر صوبوں کا موقف ہے کہ ان کے کھلاڑیوں میں پنجاب کا اعتراض جائز نہیں ہے کیو نکہ اگر کوئی بچہ کسی ادارہ سے انڈونمینٹ فنڈ لے رہا ہے یا وہ کسی یونیورسٹی کی جانب سے کسی ایونٹ میں حصہ لے چکا ہواس ایونٹ میں نہیں روکا جا سکتا۔ان کا موقف ہے کہ انڈونمینٹ فنڈ اعزازیہ ہے کوئی تنخواہ نہیں اوراسی طرح ان گیمز میں یونیورسٹیز کے بچوں کو کھیلنے کے لئے اجازت دی گئی ہے۔ مختلف صوبوں کے ان نمائندگان کا موقف ہے کہ جو کہ مختلیف ادارے بچوں کی کھیلوں کی جانب رغبت بڑھانے کے لئے دیتے ہیں نہ کہ ملازمت لہذا ان بچوں کو کھیلنے سے روکنا ظلم اور زیادتی ہے ،لہذاپنجاب کی جانب سے اس حوالے سے اعتراض نہیں ہونا چائیے ۔ اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد آج صبح سے ہی پنجاب کے کھلاڑیوں نے اپنے آفیشلز کی ہدایت پر ٹیک بلاک کر دیا اور دھرنا دے کربیٹھ گئے بعد ازاں معاملہ سیکر ٹری پی اے ایف محمد ظفر کے پاس لے جایا گیا جہاں انہوں نے معاملہ سُنا اور اسے اپنے دائرہ اختیار میں نہ ہونے کے باعث آربرٹیشن کمیٹی کو ریفر کر دیا۔جو بھی پنجاب کے سخت موقف اور ایونٹ کے مکمل بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد فیصلہ نہیں کر سکی ۔اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے کے لئے ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی ڈاکٹر اختر نواز گنجیرا کو اب خود مجبورا میدان میں آنا پڑا ہے۔اور وہ اس وقت یعنی دن ڈیڑھ بجے تک کوشش کے باوجود معاملہ حل نہیں کر پائے ہیں اور ابھی تک اتھلیٹکس کے ایونٹس سٹارٹ نہیں ہو پائے۔