قطر میں فٹبال کا بین الاقوامی میلہ اور شاندار تیاریاں خصوصی تحریر : اسحاق بلوچ

قطر فٹبال ایسوسی ایشن نے دوسری بار کامیابی سے اٹالین سپر کپ کے فائنل کا کامیاب انعقاد کرکے یہ ثابت کیا کہ قطری حکومت اور قطر فٹبال ایسوسی ایشن کی فٹبال کے میگا ایونٹ ورلڈ کپ 2022ء کی تیاریاں مثبت اندازمیں جاری ہیں۔ انشاء اللہ 2022ء کا عالمی کپ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ قطرکے خوبصورت دارالحکومت دوحہ میں کھیلے گئے سپر کوپا اٹالینا 2016ء ٹائٹل اے سی میلان نے جیت لیا۔ جاسم بن حمد اسٹیڈیم (سعد کلب) میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ کا فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر اے سی میلان کے حق میں 4-3گول سے ہوا۔ دفاعی چیمپئن یوونٹس اور سری کی فاتح اے سی میلان کے درمیان کھیلا گیا یہ دلچسپ میچ مقررہ اور ایکسٹرا وقت میں ایک ایک گول سے برابر رہا۔11ہزار قطری اٹالین اور دیگر ایشیائی شائقین کی موجودگی میں دونوں ٹیموں کے سپر اسٹارز کھلاڑیوں نے شاندار فٹبال اسکلز کا مظاہرہ کیا۔ کھیل کے 18ویں منٹ پر یوونٹس کے مڈ فیلڈر چیالینی نے ریبانڈ سے فائدہ اٹھاکر اپنی ٹیم کو برتری دلادی 38 ویں منٹ پر اے سی میلان کی جانب سے دفاعی کھلاڑی بونا ونٹورا نے گول کرکے مقابلہ ایک ایک گول سے برابر کیا۔ پہلے ہاف میں دفاعی چیمپئن یوونٹس کا پلہ بھاری رہا۔ دوسرے ہاف میں کھیل میں تیزی آئی اور دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر موثرحملے کیئے‘ مگردونوں ٹیموں کے گول کیپرز کا ڈیفنس شانداررہا اس طرح کوئی ٹیم گول اسکور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ مقررہ 90منٹ میں یہ میچ ایک ایک گول سے برابر رہا جبکہ ایکسٹرا ٹائم کے 30 منٹ میں بھی کوئی ٹیم گول نہ کرسکی پینلٹی شوٹ آؤٹ کے مرحلے میں اے سی میلان کے 17سالہ گول کیپر جینالی گی نے ایک پینلٹی شوٹ روک کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا‘ فیصلہ کن گول اے سی میلان کی جانب سے ماریو پسالک نے اسکور کیا۔ یوونٹس کی جانب سے مارجیسو‘ ھوگن‘ سامی خضریہ نے ٹھیک ٹھیک نشانہ بازی کی۔ ھنڈزوچ اور دپالا کی کک ضائع ہوئیں جبکہ اے سی میلان کی جانب سے پہلی کک لاپاڈالا نے مس کی۔ بعد ازاں نیا وچنورا‘ کوکا‘ سوسو اور پسالک نے یوونٹس کے گول کیپر کو موقع نہیں دیا۔ اس طرح اے سی میلان نے یہ شاندار ٹرافی حاصل کی اور یوونٹس کا سات بار سپر کوپا اٹالینا کا ٹائٹل حاصل کرنے کا ریکارڈ برابر کیا۔ سپر کوپا اٹالینا کا انعقاد ہرسال سری اے(اٹالین لیگ) کی ونر ٹیم اور سپر کوپا اٹالینا کی دفاعی چیمپئن کے درمیان ہوتا ہے۔ 2015ء میں سپرکوپا کے فائنل میں یوونٹس نے لازیو کلب کوشنگھائی میں منعقدہ میچ میں 2-0 گول سے شکست دے کر یہ ٹائٹل ریکارڈ ساتویں بار حاصل کیا تھا اور اس سال ای سی میلان نے یوونٹس کو شکست دے کر اس کے ساتھ بار کے ریکارڈ کوبرابر کیا۔ سپر کوپا کا آغاز اٹالین فٹبال نے 1988 میں کیا اور یوونٹس اس ایونٹ کی کامیاب ترین ٹیم ہے جس نے مجموعی طورپر 12 بار اس فائٹل میں جگہ بنائی اور سات بار فتح حاصل کی اور 5 بار شکست کاسامنا کیا‘ اے سی میلان اس ایونٹ کی دوسری کامیاب ترین ٹیم ہے جس نے 10 بارفائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا اور یوونٹس کی طرح سات بار وکٹری اسٹینڈ پر اول پوزیشن حاصل کی۔ کیو ایف اے نے ملک میں فٹبال کی سہولیات میں انقلابی تبدیلیاں لا کراپنے ناقدین کے منہ بند کیئے۔ کیو ایف اے کے ساتھ ساتھ قطر کی حکومت اور قطری عوام بھی دل سے یہ کوشش کررہی ہے کہ 2022ء کا عالمی کپ ریکارڈ بریکنگ کامیابی حاصل کرے اس سلسلے میں کیوایف اے کی سرگرمیوں اس دن سے جاری ہیں جب ورلڈ فٹبال گورننگ باڈی فیفا نے قطر کے حق میں میزبانی کا فیصلہ کیا۔ اس طرح قطر کے ہر شہری کی کوشش ہے کہ 2022ء ورلڈ کپ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں وہ اپنا کرداراداکرے۔ فٹبال کی سرگرمیوں کے سلسلے میں قطر فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اپنے دروازے کھول دئیے ہیں‘ عالمی کپ کی تیاری کے سلسلے میں رضا کاروں کی فوج بھرتی کی گئی ہے۔ نوجوان لڑکے اورلڑکیاں اپنے ملک کی نیک نامی کے لئے دل و جان سے محنت کررہے ہیں‘ سپر کوپا اٹالینا یعنی اٹالین سپر کپ 2016 کے فائنل کوبھی اس تناظر میں لیا گیا‘ قطر فٹبال ایسوسی ایشن نے اس فائنل میچ کے انعقادکے لئے کثیر سرمایہ خرچ کیا اوراٹلی کی دونوں چیمپیئن ٹیموں کے کھلاڑیوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کی گئیں‘ اس کے ساتھ ساتھ میچ آفیشلز اوراٹلی کے ساتھ ساتھ ایشیا بھر کے اسپورٹس صحافیوں کی بھی میزبانی کی گئی اس فائنل میچ کو اٹلی سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد صحافیوں نے کورکیا۔اس کے ساتھ ساتھ بھارت‘مصر ‘ سعودی عرب‘ چین‘ عمان‘ عرب امارات‘ تیونس اوردیگرایشیائی ممالک کے صحافیوں کی بڑی تعداد اس میچ کو کور کرنے کے لئے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچی۔ صحافیوں کے وفد میں پاکستان کے بھی دوصحافی شامل تھے۔ قطر فٹبال ایسوسی ایشن نے اس میچ کا انعقاد قطر کے خوبصورت ال سعد اسپورٹس کلب کے جاسم بن حماد اسٹیڈیم میں کیاتھا۔قطر فٹبال ایسوسی ایشن کا قیام 1960 میں عمل میں آیا اور ورلڈ فٹبال گورننگ باڈی (فیفا) نے اس ایسوسی ایشن کو 1972ء میں الحاق دی جبکہ 2 سال بعد 1974 میں ایشیئن فٹبال کنفیڈریشن کی ممبر شپ حاصل کی۔ تاہم قطر میں فٹبال سرگرمیوں کا آغاز 1946 ہی میں ہوچکا تھا۔ جب وہاں پیٹرولیم کے کاروبار سے منسلک غیر ملکی اداروں کی آمد ہوئی۔ دی بیوٹی فل گیم فٹبال نے جلد ہی اس ریجن کے دیگر ممالک کی طرح قطرکے نوجوانوں میں بھی مقبولیت حاصل کرلی۔ اس طرح 1950ء میں اس ملک کے پہلے کلب ’’النجاء‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ ایک سال بعد دخان شہر میں قطر آئل کمپنی کی سرپرستی میں اس ملک میں پہلے فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیاگیا۔ اس ٹورنامنٹ میں قطرکے دارالحکومت دوحہ کی النجاء کلب کے علاوہ متعدد کلبوں نے حصہ لیا‘ یہ ٹورنامنٹ میزبان کلب دخان نے جیت لیا۔ بعدازاں قطر آئل کمپنی نے پکٹ کپ کے نام سے ایک نئے ٹورنامنٹ کا اجراء کیا۔ اس طرح 1957ء کے سیزن میں النجاء کلب نے کامیابی حاصل کی۔ بعدازاں 1970ء میں باضابطہ قطرفٹبال ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی گئی۔ اس طرح کیو ایف اے نے 1972-73 میں قطر لیگ کا اجراء کیا‘ اس طرح اس ریگستانی ملک میں فٹبال سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز ہوا۔ قطر کے فٹبال سیزن کے نمبر ون
پروگرام قطر اسٹارز لیگ میں ملک کی ٹاپ 14 ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ دوسرا ایونٹ قطر گیس لیگ کہلاتی ہے‘ جس میں چارکلب ا ور 12 متبادل ٹیمیں حصہ لیتی ہیں‘ اس لیگ کی ٹاپ 2 ٹیمیں پرموشن حاصل کرکے قطر اسٹار لیگ میں جگہ بناتی ہیں جبکہ قطر ا سٹار لیگ کی بوٹم کی 2 ٹیموں کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ قطر کی فرسٹ ڈویژن کلبوں میں ال حالی‘ ال عربی‘ ال غرافہ‘ ال ریان‘ ال سلایہ‘ ال خیراتیات‘ مطاہر کلب‘ ال خور کلب‘ ال سعد کلب‘ ال ثانیہ‘ ال جیش کلب‘ لاکادیہ کلب اورام سلال کلب شامل ہیں جبکہ سیکنڈ ڈویژن میں ال شامل‘ مسامیر‘ ال مرخیا اور قطر ایس سی شامل ہیں‘ سب سے بڑی لیگ شیخ جاسم کپ ہے۔ اس کے بعد قطر اسٹارز لیگ‘ قطر کپ‘ امیر کپ‘ قطر گیس لیگ کے علاوہ انڈر 19‘ انڈر 17‘ انڈر15‘انڈر 15 انڈر 14 ا ورانڈر 13 کے مقابلے میں سیزن کا حصہ ہیں۔ پاکستان کے اسپورٹس صحافیوں کے غیرملکی دوروں کے سلسلے میں جہاں پاکستان اسپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن ( پی ایس آر اے) کے صدر امجد عزیز ملک تاریخی کردار ادا کرتے ہیں وہیں فیفا ورلڈ کپ 2022 قطر کی تیاریوں کا قریب سے جائزہ لینے کے سلسلے میں ا یشیئن اسپورٹس جنرلسٹ فیڈریشن کے نائب صدرمحمدحاجی نے بھی قابل قدر کردارادا کیا تاکہ پاکستانی صحافی فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی تیاریوں کو اپنی نظر سے دیکھ سکیں جبکہ فیفا ورلڈ کپ 2022ء کے سلسلے میں قائم انتظامی کمیٹی کے ایم ممبران التواری اور جناب خالد کی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی ہوگی۔ ان حضرات نے بلاشبہ لائق تحسین کردار اداکیا ہے۔ دوسری جانب قطر میں پہنچنے کے بعد دوحہ کے ایک پانچ ستارے والے ہوٹل میں صحافیوں کو مثالی رہائش اور خوراک کی سہولت فراہم کی گئی‘ اس طرح ایشیا اوراٹلی سے آنے والے اسپورٹس صحافیوں نے روایتی عرب میزبانی کا لطف اٹھایا۔ائیرپورٹ سے ہوٹل آنے اور وطن واپسی کے لئے ہوٹل سے ائیر پورٹ تک بھی سہولت
دستیاب تھی جبکہ ہوٹل کی لابی میں میڈیا کاؤنٹر قائم کیا گیا تھا‘ جہاں تیونس سے تعلق رکھنے والے دونوجوان کریم السافی اور علی بن سالم نے تمام مہمان صحافیوں کو ہرممکن معلومات فراہم کیں جبکہ ہوٹل میں دستیاب دیگر سہولیات کے حصول کے سلسلے میں ان کی مدد کی۔ کریم السافی اور علی بن سالم نے اسٹیڈیم روانگی کے ساتھ ساتھ سپر کوپا 2016ء دوحہ فائنل میچ کی کوریج کے سلسلے میں بھی مہمان صحافیوں کی ٹیکنیکل مدد کی۔سپر کوپا اٹالینا 2016ء کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ قطری خواتین کی بڑی تعداد انتظامی امور میں شامل تھی جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہاں کی خواتین کی دلچسپی فٹبال میں بڑھ رہی ہے ۔