محمد حفیظ احمد شہزاد اور صہیب مقصود بہتر کھیل پیش نہ کر سکے بائولنگ میں بھی جارحانہ انداز نظر نہیں آیا تیسر ے ٹی ٹوئنٹی میں بہتر پلاننگ کرنی ہوگی

تجزیہ (شہزاد احمد مہر )دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 10وکٹوں سے شکست ہوئی اور پاکستانی بائولرز ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ نیوزی لینڈ نے پہلا ٹی ٹوئنٹی ہارنے کے بعد بہتر پلاننگ کی اور انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو کیسے شکست دینی ہے۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 168رنز کا ٹارگٹ دیا۔ پاکستانی بیٹنگ میں محمد حفیظ صرف 19احمد شہزاد صرف 9رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے اور دوسری جانب صہیب مقصود بھی کوئی بہتر کھیل پیش نہ کر سکے۔ اسی طرح شاہد آفریدی 7اور عماد وسیم 8رنز ہی بنا سکے۔ پاکستان نے جب کھیل کا آغاز کیا تو انداز جارحانہ تھا لیکن اس تسلسل کو بیسٹمین برقرار نہ رکھ سکے اور احمد شہزاد جلد ہی آئوٹ ہو گئے اور اس طرح تھوڑا پریشر بیٹنگ پر آگیا جس کی وجہ سے تھوڑا رن ریٹ سلو ہو گیا۔ گرائونڈ بھی چھوٹا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان کوئی بڑا ٹوٹل دینے میں ناکام رہا اس گرائونڈ پر اگر 190 کا ٹوٹل ہوتا تو بہتر تھا ۔ پاکستان ہمیشہ آخری اوورز میں رنز کی کوشش کرتا ہے جبکہ پہلے دس اوورز میںتیز رنز بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی بائولنگ میں بھی آج کوئی پلاننگ نظر نہیں آئی اور نہ کوئی بائولرز بہتر پارفارمنس دے سکا اور نہ وہ جارحانہ انداز نظر آیا کیونکہ نیوزی لینڈ کے اوپنرز نے آتے ہی ڈیفنس کھیل کھیلنے کی بجائے جارحانہ کھیل پیش کیا ۔مارٹن گپٹل اور کین ولیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی میں لمبی شراکت داری کا بھی ریکارڈ قائم کر دیا۔ اب پاکستان کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں اپنی پلاننگ کو تبدیل کرنا ہو گی اگر بیٹنگ پہلے کرنی ہے تو ٹارگٹ 190 180ذہن میں رکھیں کیونکہ نیوزی لینڈ سکور چیز کرنے میں بہترین ٹیم ہے اگر نیوزی لینڈ کی بیٹنگ پہلے آتی ہے تو ان کو 150رنز تک محدود رکھنا ہو گا ۔ پاکستانی بیٹسمینوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی خاص کر اوپنر ۔ احمد شہزاد اور حفیظ کو ذمہ دارانہ بیٹنگ کرنی ہو گی۔ پھر ہی پاکستان یہ سیریز جیت سکتا ہے۔