مردوں کی طرح خواتین فٹ بال کو برابری کی سطح پر مواقع ملیں تومردوں سے بہتر پرفارمنس دے سکتے ہیں:نینازہری سعدیہ شیخ

اسلام آباد(سپورٹس ورلڈ نیوز) قائداعظم بین الصوبائی کھیلوں کے فٹ بال ایونٹ کی فاتح سندھ ویمن فٹ بال ٹیم کی کپتان نینا زہری اور کو چ سعدیہ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین فٹ بال میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر خواتین فٹ
بالر ز کیلئے مواقع کم ہونے کے باعث ویمن فٹ بال اس مقام پر نہیں پہنچ پا رہیں جہاں اسے ہونا چاہئے تھا۔
nnn
نینا زہری اور سعدیہ شیخ منگل کے روز یہاں بین الصوبائی کھیلوں کے فائنل میں کامیابی کے بعد ”سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام” کے ساتھ خصوصی گفتگو کر رہی تھیں۔
سندھ ویمن فٹ بال کی عہدیدار اور ٹیم کی کوچ سعدیہ شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم انتہائی کم عمر بچیوں پر مشتمل تھی جن میںچھ انڈر الیون تین انڈر تھرٹین اور دو کھلاڑی انڈر 22تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں دیا فٹ بال کلب اور یونائیٹڈ فٹ بال کلب گراس روٹ لیول سے بچیوں کو تیار کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سندھ کی ٹیم کم عمر ترین ہوتے ہوئے بھی سب ٹیموں کو پچھاڑ کر اس بین الصوبائی مقابلے کی فاتح بنی ہے۔ انہوں نے قائداعظم گیمز کی طرز پر ملک بھر میں ٹورنامنٹ کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو بھی اس طرح کے باہم مقابلوں کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ کھیلنے کے مواقع ملیں اور ان کے کھیل میں بہتر ی آئے۔
نینا زہری نے مزید کہا کہ وہ سندھ یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی سٹوڈنٹ ہیں اور گزشتہ پانچ سال سے فٹ بال کھیل رہی ہیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ ہم میچ جیت گئے۔ فٹ بال لورز کے لئے پیغام ہے کہ گراس روٹ لیول پر کلبوں کی سطح سے ہی کھیل کیلئے ہی کام کیا جائے تو بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے کراچی یونائیٹڈ کلب سے کھیل کا آغاز کیا اور آج بھی اس کی جانب سے کھیل رہی ہوں۔ انہوں نے قائداعظم گیمز میں شریک بعض ٹیموں کے کھلاڑیوں کے زائد العمر ہونے کا بھی شکوہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مینز فٹ بالرز کو مسلسل ٹورنامنٹس کی صورت میں فٹ بال کھیلنے کے مواقع ملتے ہیں اگر لڑکیوں کو بھی مل جائیں تو پاکستان ویمن فٹ بال مردوں کی فٹ بال سے بہتر پرفارم کر سکتی ہے۔

nana3انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ایک خاتون فٹ بالر ہاجرہ کے عمدہ کھیل کو دیکھتے ہوئے مالدیپ فٹ بال نے مالدیپ لیگ کیلئے منتخب کیا ہے جسے دیکھ کر ہماری کھلاڑیوں کا حوصلہ مزید بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کالج اور کلب لیول پر فٹ بال کو فروغ دیئے بغیر ویمن فٹ بال کا فروغ ممکن نہیں ہے۔