فراغت اور تنہائی سے نجات کے لئے ویٹ لفٹر بنی ، شادی تب ہی کروں گی جب ویٹ لفٹنگ میں پاکستان کا نام روشن کرلوں گی : ویٹ لفٹر مریم نسیم

ملاقات : جہانزیب صدیق
دیا غیر میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کا نام روشن کردیا ، ایک ملاقات جوکہ گذشتہ روز مریم نسیم سے ہوئی ،میں سوچ بھی کرسکتا کہ صنف نازک بھی اتنا بھاری وزن اٹھانے کے قابل ہوگی ، لیکن انہوں نے کردکھایا ،آ یئے ملتے ہیں ایک ایسے خاتون سے جوکہ دیکھنے میں بہت نازک کلی کی طرح مگر کچھ کردکھانے میں بہت بہادر ہیں،بہت ہی خوش گفتار ، ملنسار اور نئی سوچ رکھنی والی مریم نسیم نے اپنی زندگی کے بارے میں ہمارے سامنے بہت کچھ اگل دیا ،
پاکستانی نژاد اسٹریلین ویٹ لفٹر مریم نسیم نے جیتنے کی لگن کو اپنے دل میں سمائے ہوئے عالمی ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعلان کردیا ہے ،مریم نسیم نے اس سے قبل سال 2017ء اور سال 2018ء میں یکے بعد دیگرے چاندی اور کانسی کے تمغے اپنے نام کئے ہیں جس سے انکی شہرت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔مریم نسیم کا تعلق پشاور شہر سے ہے وہ ایک بہادر ،خوش گفتار اورغیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔

مریم نسیم کی دوبہنیں اور ایک چھوٹا بھائی ہے جن میں مریم نسیم سب سے بڑی ہے دوسرے بہنوں میں ایک انجنیئر اور دوسری پی ایچ ڈی کررہی ہے لیکن انہوں نے والدین کو بیٹا بن کر دکھایا ، انکی تمنا ہے کہ وہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ ،مریم نسیم نے پشاورماڈل سکول سے میٹرک اور پشاور یونیورسٹی میں قائم جناح کالج برائے خواتین سے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی جسکے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کیلئے اسڑیلیا کے یونیورسٹی آف کمیبرمیں داخلہ لیا جسکے بعد انہوں نے وہاں سے بینکنگ اینڈ اکاوؤنٹس میں ماسٹر ڈگری کیلئے اسٹریلیا چلی گئی،جہاں پر انہوں نے اعلیٰ تعلیم کا باقاعدہ آغاز کردیا ،وہاں جاکر پڑھائی کے دوران انہوں نے والدین کی فراعت اور تنہائی سے نجات حاصل کرنے کیلئے اپنی صحت پر توجہ مرکوز رکھی اور خصوصی ورزش سیکھنے کا عمل بھی شروع کیا ، یہ سلسلہ یوں چلتا رہا کہ ایک دن انکے دل میں اچانک ویٹ لفٹر بننے کا خواب آیا پھر انہوں نے ویٹ لفٹنگ شروع کی جس کی تربیت حاصل کرنے کیلئے انہوں نے باقاعدہ کوچ رکھ ا،اور یوں وہ آج ایک بہت اہم مقام تک پہنچ گئی، مریم نسیم نے اسٹریلیا میں سپورٹس سائینس کی تعلیم بھی حاصل کی،

مریم نسیم نے ملاقات کے دوران اپنی گفتگو میں انکشاف کیا کہ وہ پیا کا گھر تب سدھارے گی جب وہ عالمی ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرکے کامیابی حاصل نہ کرے۔ مریم نسیم کہتی ہے کہ مجھے اپنے فیملی پر بہت زیادہ فخر ہے کہ انہوں نے مجھ پر ٹرسٹ کرکے یہاں تک پہنچایا اگر انکا اعتماد اور تعاون نہ ہوتا تو شاید آج میں اس مقام پر نہ ہوتا اور نہ ہی مجھے اتنی کامیابیاں ملتی یہاں میں خصوصی طور ایک بات کا ذکر ضرور کروں گاکہ والدین کو چاہیئے کہ وہ اس گھٹن ماحول میں پلنے والی بچیوں کے روشن مستقبل پر غور کریں اور پختہ اعتماد کے ساتھ بغیر کسی روک ٹوک اپنی بچیوں کو معاشرے میں اعلیٰ مقام کے مواقع فراہم کی جائے تاکہ وہ آگے چل کر اپنے ملک کا نام روشن کرسکے اور انہیں کچھ کردکھانے کا حوصلہ ملے، ،مریم نسیم کہتی ہے کہ میں ایک ہندکو سپیکنگ لڑکی ہوں اور خیبرپختونخوا میں پلی پڑھی ہوں یہاں کے رسم ورواج سے بخوبی واقف ہوں لیکن دل میں جو خواب تھے وہ میرے پاک ذات نے پورے کئے لیکن یہ خواب والدین کی سپورٹ کے بغیر ناممکن تھے ۔

مریم نسیم نے نے بتایا کہ انہوں نے جب تعلیم مکمل کرکے ماسٹر کی ڈگری لی تو انہیں فوری طور پر اسٹریلیا کے مشہور ویسٹ پیک بنک میں ملازمت کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے قبول کی اور پھر میلبورن شہر میں؂ملازمت شروع کی ، فل ملازمت کے ساتھ ساتھ انہوں نے ویٹ لفٹنگ کی تربیت بھی جاری رکھی ،پھر وہ خودٹرینر بن گئی اور دوسرے خواتین کو ویٹ لفٹنگ کے تیکنیک سکھاتی رہی ،الحمد اللہ آج مریم نسیم دیارغیر میں اپنی محنت و لگن کے ساتھ ایک بہترین زندگی گزاررہی ہے اور پاکستان کیلئے اعزاز جیتنے کی خواہاں ہیں۔مریم نسیم نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسٹریلین فٹ بال لیگ نے انہیں اعزازی سفیر بھی مقرر کی ہے ،انہوں نے کہا کہ اسٹریلیا کے لوگ صحت کے اعتبار سے پیدائشی طور پر بہت سٹرانگ ہوتے ہیں دوسری جانب اسٹریلیاحکومت کی کھیلوں کو اولین ترجیح دیتی ہے اور بہت سپورٹس کی مد میں بہت زیادہ فنڈ خرچ کررہی ہے،میری امید ہی نہیں تھی کہ میں بھی ان مقابلوں میں کامیاب ہوجاؤں بس اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی تھی اور یوں مقابلوں میں دوسری ، تیسری پوزیشنیں حاصل کیں۔

مریم نسیم نے کہا کہ ویٹ لفٹر تن سازی نہیں یہ تیکنیکی عمل ہے جس کیلئے آپ نے ان ٹولز کو اپنانا ہوگا،یہ باڈی بنانے کی نہیں بلکہ طاقت کی گیم ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بہت سی خواتین ویٹ لفٹر ز ہیں جنکی پرفارمنس مجھ سے بھی اچھی ہے،انہیں بھی چاہیئے کہ وہ عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرے ، مریم نسیم بتاتی ہے کہ حادثاتی طورپر ویٹ لفٹر بن گئی ہوں کیونکہ میں نے صرف فٹنس پر توجہ مرکوز رکھی تھی ،لیکن معاملہ بدل گیا جب سے مجھے مقابلوں میں کامیابیاں نصیب ہوئیں ، تو والدین،خاندان اور پرستاروں نے بڑا حوصلہ دیا انکے حوصلے نے مجھ میں مزید کھیلنے کا جذبہ پیدا کیا اور انشاء اللہ میری کوشش ہے کہ میں پھر بھی کھیلوں گی اور چاہتی ہوں کہ دوسرے لیجنڈ کی طرح میں بھی پاکستان کو ویٹ لفٹنگ میں اپنی نام سے شناخت دے سکوں۔