ملک بھر میں فوڈ سپلیمنٹ کے نام پر نوجوانوں کی صحت سے کھیلا جارہا ہے :ڈاکٹر وقار

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) شہروں اور دیہات میں قائم ہیلتھ کلب اور جم نوجوان نسل کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔ مارکیٹ میں بکنے والے فوڈ سپلیمنٹس دراصل سٹیرائڈز ہیں جو نوجوان کو راتوں رات خوبصورت جسم بنانے کے خواب دیکھا کر انہیں موذی بیماریوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یہ بات پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میڈیسن ڈاکٹر وقار نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلیمنٹس کے نام پر بکنے والی ان ادویات جو عام میڈیکل سٹور سے لیکر جم کے اندر تک بیچی جارہی ہیں کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اس طرح کام نہیں کر رہی جس طرح اسے کرنا چاہئے حالانکہ یہ معاملہ ہماری نوجوان نسل کی صحت کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے پنجاب حکومت کو ایک خط لکھ کر اس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا تھا مگر شاید انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ڈرگ ریلولیٹری اتھارٹی اور ڈرگ انسپکٹرز میڈیکل سٹورز پر رکھی گئی ادویات کی جانچ پڑتال تو کرتے ہیں مگر وہ جمز میں نہیں جاتے حالانکہ اب جعلسازوں نے جن کا چھوٹے قصبوں تک اپنا ایسانیٹ ورک بنا لیا ہے جس کے ذریعے وہ براہ راست ہیلتھ کلبوں اور جموں میں اپنی غیرمعیاری اور غیرتصدیق شدہ ادویات سپلائی کرتے ہیں۔ جہاں سے فوڈ سپلیمنٹ کے نام پر ان قاتل اور مضر صحت ادویات کو بیچ کر ان ادویات بنانے والوں اور جم و ہیلتھ کلب مالکان کو لاکھوں روپے ماہانہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر وقار نے بتایا کہ پاکستان میں چند ایک بین الاقوامی کمپنیوں کے فوڈ سپلمنٹ بکنے کیلئے آتے ہیں جو صحیح بھی ہوتے ہیں تاہم اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر فوڈ سپلمنٹ کے ڈبوں کے اندر وہ کچھ نہیں ہوتا جو ڈبوں کے باہر لکھا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں بکنے والے فوڈ سپلمنٹ میں ایک بہت بڑی مقدار ایسے سپلمنٹ کی بھی ہے جو مقامی طور پر نیم حکیموں اور جعلی ڈاکٹروں نے گوجرانوالہ لاہور اور دیگر شہروں میں خود تیار کرکے معروف کمپنیوں کے نام کے لیبل لگا کر پیک کیے ہوئے ہیں اور عام نوجوان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ پانچ ہزار یا چھ ہزار میں امپورٹڈ فوڈ سپلمنٹ کا جو ڈبہ لے رہے ہیں وہ گوجرانوالہ لاہور کے کسی نیم حکیم یا جعلی ڈاکٹر کا تیار کردہ غیرمعیاری اور صحت کا دشمن ہے۔ ڈاکٹر وقار نے کہا کہ مارکیٹ میں بالمعموم اور ہیلتھ کلبوں میں بالخصوص اس حوالے سے نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں میں فوڈ سپلمنٹ کے نام پر بیٹھنے والے زہر کی فروخت کو روکا جاسکے۔ ڈاکٹر وقار نے کہا کہ صحت کے بنیادی اصولوں کے مطابق تو مارکیٹ میں باہر سے امپورٹ ہو کر آنے والے فوڈ سپلمنٹس کو بھی وزارت صحت سے باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ صحیح طرح سے نہیں ہو رہا اور نوجوانوں کی صحت اور زندگی سے کھیلنے والے اپنے چند روپوں کی خاطر پوری نوجوان نسل کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔