نارووال سپورٹس کمپلیکس کرپشن کیس کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئ ایف آئی اے کی جے آئی ٹی نے ڑی ڈی جی پی ایس بی اعظم ڈار کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا

اسلام آباد( سپورٹس ورلڈ نیوز ) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے)کی جانب سے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے گھپلوں کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی نے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے قائم مقام ڈپٹی ڈی جی اعظم ڈار کو جمعہ کے روز مطلوبہ ریکارڈ ریکارڈسمیت پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے طلبی کی اطلاع ملنے کے فوری بعد اعظم ڈار نے قریبی ساتھی افسران سے مشاورت شروع کر دی ہے جس میں ایف آئی اے کی جانب سے طلبی سمیت دیگر معاملات پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اعظم ڈار کو نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے پر ایف آئی اے کی معاونت کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا تھا، لیکن بار ہا یاددہانی کے باوجود وہ ایف آئی اے کی جانب سے قائم جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سابق قائم مقام ڈی جی عارف ابراہیم کو متعدد بار یاد دہانی کروائی گئی کہ اعظم ڈار کو مطلوبہ دستاویزات کے ہمراہ جے آئی ٹی میں پیش کیا جائے، لیکن ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ جے آئی ٹی نے اعظم ڈار سے منصوبے کے ویری ایشن آرڈرز کے اجرا کے طریقہ کار اور اجرا کے ذمہ داران کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں، کیوں کہ نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے کے حوالے سے کی گئی ادائیگیوں کے چیکوں پر بھی اعظم ڈار ہی کے دستخط موجود ہیں۔ یاد رہے ایف آئی اے نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے کی تحقیقات گزشتہ ماہ شروع کی تھیں اور پی ایس بی کے سابق ڈی جی اختر نواز گنجیرا سمیت تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ گرفتار افراد سے ہونے والی تفتیش کی بنیاد پر تحقیقات کو وسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے لاہور نے جے آئی ٹی قائم کی تھی اور اعظم ڈار کو معاونت کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا تھا، لیکن وہ اب تک جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا۔ اس پر بدھ کے روز ایف آئی اے نے انہیں جمعہ کے روز مطلوبہ دستاویزات سمیت پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ دوسری جانب پی ایس بی کے سابق ڈی جی اختر نواز گنجیرا، سپروائیزر سرفراز رسول اور ٹھیکے دار احمد تاحال ایف آئی اے کی حراست میں ہیں، جبکہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مزید شخصیات کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس بی حکام، خصوصاً بطور فوکل پرسن اعظم ڈار ایف آئی اے سے تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے جس کے باعث جے آئی ٹی کی تحقیقات میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بدھ کے روز ایف آئی اے کا خط موصول ہونے کے بعد پی ایس بی حکام میں کھلبلی مچ گئی جس کے بعد پی ایس بی کے نئے قائم مقام ڈی جی کی موجودگی میں پی ایس بی حکام کا طویل اجلاس ہوا، جہاں ایف آئی اے کو مطلوب دستاویزات کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

۔۔