نیشنل گیمز یامذاق , کیا ہم نیشنل گیمزکرانے کے بھی اہل نہیں رہے ، شائد اسلئے کہ ہمارے ہاں نیشنل گیمز پیسے کمانے کاذریعہ بن چکے ہیں : تحریر ،عظمت اللہ

مجھے سپورٹس صحافت کے شعبے میں آئے ہوئے ابھی چند ہی ماہ ہوئے تھے 1998میں اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی وژن کے سپورٹس چینل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کامو قع ملا افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدرسید عارف حسن تھے اپنے خطاب کے بعد انہوں نے صحافیوں کے سوالات کاجواب دینا شروع کیامیراسوال تھاکہ جس طرح اولمپک گیمز ،ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز حاصل کرنے والے میزبان شہر موجودہ سپورٹس کی سہولیات کومزید جدید انداز سے بہتربنانے کے ساتھ ساتھ کئی دیگرسہولیات،گروانڈز، پلیئر ومیڈیاویلج، میڈیاسنٹر،مین میڈیاسنٹر،ہسپتال، روڈز اوردیگر کام بھی میزبانی کے طفیل لازمی کرتاہے توکیاایساممکن نہیں پاکستان میں نیشنل گیمز کی میزبانی حاصل کرنیو الے شہر پربھی یہ بات لازمی ہونی چاہے کہ میزبان شہرنیا سٹیڈیم اورموجودہ وسہولیات بہتربنانے کاپابند ہوگا میراسوال پرعارف حسن کاکہناتھاکہ ایساممکن نہیں اگرکسی شہر میں نیشنل گیمز ہی برقت ہوجائیں تو توبڑی بات ہوگی اگرایسی پالیسی بنائے جاتی تو آج کوئٹہ تیسر ی بار نیشنل گیمز کی بروقت میزبانی سے قاصر دکھائی نہ دیتا کبھی فنڈز،کبھی گراونڈ کی عدم دستیابی اورکبھی موسم گیمز کی میزبانی کی راہ میں حائل بھی نہ ہونے پاتے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نیشنل گیمزکوکرانے کے بھی اہل نہیں ہے ہمیشہ سے چل چلاواورپیسے کمانے کامقصد ہی نیشنل گیمز رہے ہیں اگرکوئی صوبائی حکومت کوگیمز کی میزبانی سے اپنا فائد ہ مطلوب ہوتونیشنل گیمز ہوجا تے ہیں ورنہ بہانے بہت،آج بھی حال یہ ہے کہ ہم اولمپک،ایشین گیمز کی نسبت سیف گیمز جیسے چھوٹے ایونٹ کو پاکستان کے کیسی شہر میں کرانے کی اہلیت نہیں رکھتے چند سال قبل پشاورشہر کوگیمز کی میزبانی دلوانے کی خاطرپاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر،وصدر کے پی اولمپک ایسوسی ایشن سید عاقل شاہ نینے بھرپورکاوشوں سے حاصل توضرورکرلیاتھا تاہم بعدازاں جوسہولیات سیف گیمز کے لیے ضرورری ہیں ان کی عدم فراہمی پراسلام آباد دوسری بار سیف گیمز کی میزبانی کاحقدارٹہرا۔اسلام آبادکودسری بار میزبانی چین کے کے خصوصی تعاون ومہربانی کے طفیل نصیب ہوئی اورچین نے ایشین گیمز کے لیے تحفے میں بنے والے جنا ح سپورٹس کمپلیکس کی وجہ سے میزبانی کرپالیاورنہ سیف گیمز بھی اللہ اللہ خیرہوتے۔پاکستان میں نیشنل گیمز کاآغاز 1948کراچی سے ہواتھااورطے پایاتھاکہ ہردوسال بھی نیشنل گیمز کرائے جائیں گے یہ سلسلہ 2000تک توقدرے اچھاچلااس عرصے میں کراچی،لاہور،پشاور،فیصل آباد،ڈھاکہ،ساہیوال،کوئٹہ ساہیوال، فیصل آباد میں نیشنل گیمزجیسے تیسے منعقد ہوتے رہے تاہم بعدازن تین چارسال کاوقفہ آتاگیا،گذشتہ نیشنل گیمز تودوبارایک سال میں منعقدہوئی پتہ نہیں کہ کونسی گیمز درست تھیں سال 2012سے ابھی تک نیشنل گیمز نہیں ہوسکی ہیں پتہ نہیں کہ آیندہ سال بھی ہو پاتی ہیں کہ پھرکوئی مسئلہ گیمز کی راہ بھی آجاتاہے پاکستان کی نسبت دنیا سپورٹس سہولیات کے حوالے سے بہت آگے جاچکی ہے گذشتہ ماہ اشک آباد ترکمانستان نے جس انداز سے انڈروگیمز کرائے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی پورانیاسپورٹس شہرآباد کرنا اپنی مثال آپ ہے ترکمانستان کی نسبت ہمارے کھلاڑی ٹوٹے پھوٹے گرانڈز پرپوری دنیاپرچند کھیلوں میں راج کیاہے اوریہ سلسلہ جاری ہے شاباش ہے کھلاڑیوں پرجنہوں نے پاک وطن کی محبت میں ہم سب کے سر فخر سے بلند کردیے ہیں تاہم ضرور ت ہے کہ حکومت پاکستان بھی اپنے کھلاڑیوں کی محنت کوسراہے اوران کے تمام جائز مطالبات پورے کریں توہم دنیاکوپیچھے چھوڑدیں گے اورنیشنل گیمز بڑئے شہروں کی بجائے چھوٹے چھوٹے شہروں مثلا نوشہرہ،مردان، ڈی آئی خان،ملتان، فیصل آباد،سبی ،لاڑکانہ جیسے شہروں میں ہونگے بڑے بڑے شہرعالمی وایشین مقابلوں کے میزبانی کے لیے ہمہ وقت تیارہونگے اللہ کریں کہ ہم سب کی زندگیوں میں یہ اچھے دن آجائے امیدپردنیاقائم ہے آپ بھی دعاکریں ہم بھی کرتے ہیں۔امین

عظمت اللہ