وفاق، صوبائی حکومتوں کی معاونت سے سپورٹس پالیسی بنا ئےگا، احسان مانی کی تجاویز بھی این ایس سی سی میں ہی زیر بحث آئیں گیں : چئیرپرسن این ایس سی سی فہمیدہ مرزا

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) وفاقی وزیر آئی پی سی فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی معاونت سے سپورٹس پالیسی بنائے گی، احسان مانی کی ٹاسک فورس کی تجاویز بھی اسی این ایس سی سی کے پلیٹ فارم پر زیر بحث آئیں گیں ،صوبوں سے ابھر کر آنے والے ٹیلنٹ کو سٹریم لائن کر کے انکی بہترین تربیت کر نا اورانہیں اس قابل بنانا کہ وہ انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کرسکیں حکومت کی ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر کھیل فہمیدہ مرزا آج یہاں پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں وفاقی سپورٹس کوارڈنیشن کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر کھیل پنجاب رائے تیمور بھٹی۔صوبائی وزیر کھیل بلوچستان عبدالخالق ہزارہ،ڈی جی سپورٹس کے پی کے جنید خان اورسیکر ٹری سپورٹس سندھ ہارون احمد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع کر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز وزیر اعظم کی جانب سے بنائی جانے والی اس کوارڈنیشن کمیٹی کے حوالے سے فیصلہ ہوتے ہی آج ہم یہاں اس لئے اکٹھے ہوئے تاکہ ہم سب صوبائی حکومتوں سے ملکر ایک ایسا پلان ترتیب دے سکیں جس سے نہ صرف گراس روٹ لیول پرسپورٹس ایکٹویٹی کو فرغ دیا جاسکے بلکہ صوبائی سطح پر سامنے آنے والے ٹیلنٹ کو بھی پالش کر کے قومی سطح پر ایسی کھلاڑی تیار کئے جا سکیں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کا نام اور پرچم سر بلند کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں چاروں صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلیف تجاویز سامنے آئے اور ہم نے طے کیا کہ ہم نے کس انداز میں گراس روٹ سے لیکر صوبائی سطح تک اپنی یوتھ کو ایکٹیو کرنا ہے۔ وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں ماضی میں اگر کام ہوا ہے تو باقی صوبوں کے لئے یہ قابل تقلید عمل ہے،اور پی ٹی آئی حکومت کا کریڈت ہے دیگر صوبوں کو بھی ان سے سیکھنا چاہیے اور اسی پیٹرن پر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے بتیا کہ پہلے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں قومی کھیلوں کے انعقاد کے لئے وفاقی حکومت اسے بھرپور سپورٹ کرے گی اور ہماری خواہش ہوگی کہ اسکا جلد سے جلد انعقاد کریں،اسی طرح ہم چاہیں گے کہ بین الصوبائی کھیلوں کا بھی انعقاد ہو۔ انہوں نے بتیا کہ اجلاس میں آئندہ برس ستمبر میں ہونے والے سیف گیمز اور اولمپکس 2020کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔اور فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی سطح پر حکومتیں ان دونوں ایونٹس کو سامنے رکھ کر کھلاڑیوں کو تیار کریں گیں ۔

تاکہ ان دونوں ایونٹس زیادہ بڑے پول سے بہترین کھلاڑی سلیکٹ کئے جا سکیں۔ اس موقع پر سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں چاروں صوبوں کے وزراء کے علاوہگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزراء کو بھی رکھا گیا ہے اسکے علاوہ کھیلوں کے حوالے سے دیگر سپورٹس سٹیک ہولڈرز کو بھی وفتا فوقتا مدعو کیا جائے اور ان سے ان پُٹ لی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احسان مانی والی ٹاسک فورس جو بھی رپورٹ پیش کرے گی وہ بھی اسی پلیٹ فارم پر ڈسکس ہوگی۔ اور اسی پلیٹ فارم سے حتمی فیصلے لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل گیمز کے ساتھ ساتھ پیرا نیشنل گیمز کے انعقاد کا بھی پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔