وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں  ایشیائی سپورٹس جرنلسٹس کانگرس  کا یادگار انعقاد اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز کی رنگینیاں

پاکستان میں سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی بنیاد لگ بھگ1978 میں رکھی گئی تھی اور اس وقت کے نامور سپورٹس جرنلسٹس ایس ایم نقی، فاروق مظہر اور علی کبیر نے اس ایسوسی ایشن کو پاکستان کی نمائندہ تنظیم کے طور دنیا بھر میں متعارف کروایا۔سال 2000 ء کے بعد یہ قومی فیڈریشن غیر فعال ہو گئی تھی جسے 2009 ء میں دوبارہ فعال بنایا گیا اور اس کی سپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے ساتھ ممبرشپ بحال کروائی گئی۔تب سے پاکستان کی سطح پر قومی فیڈریشن کے تین بار انتخابات منعقد ہو چکے ہیں اور یہ فیڈریشن بلا شبہ ملکی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔

پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے 5 سے8 اکتوبر تک اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں ایشیائی سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن جسے اے آئی پی ایس ایشیا کہا جاتا ہے کی کانگرس کا انعقاد کر کے نہ صرف ایشیا بلکہ ساری دنیا میں پاکستان کا نام فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اس ایشیائی تنظیم میں 30 ممالک شامل ہیں جبکہ اس کے ممبران کی تعداد9 ہزار سے زیادہ ہے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کانگرس کا انعقاد پاکستان کی سرزمین پر ہوا تاہم اس کا سہرا وزارت اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ خاص طور پر وزیر مملکت مریم اورنگزیب کے سر جاتا ہے جنہوں نے اس کانگرس کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا اور اسے قیام پاکستان کی70 سالہ تقریبات کا حصہ بنایا ۔ بلا شبہ وہ کام جو پاکستانی سفارت کار نہیں کر پاتے وہ پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے ملک و قوم کے لئے انجام دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تیس ممالک کے 70 مندوبین کو جو اپنے اپنے ملک کی قومی فیڈریشن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے پاکستان بلانا اور خاص طور ایسے حالات میں جب بہت کم لوگ پاکستان کا رخ کرتے ہیں ،اتنی بڑی تعداد میں سپورٹس جرنلسٹس کی پاکستان آمد نے ساری دنیا کو شہر اقتدار سے امن کا پیغام دیا اور ان پر یہ ثابت کیا کہ پاکستان امن پسند ملک اور یہاں کے مکین کھیلوں سے محبت کرنے والے اور مہمانوں پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے ہیں۔اسی تناظر میں مجموعی تیس میں سے جن پچیس ممالک کے مندوبین نے کانگرس میں شرکت کی ان میں جاپان، کوریا، چین، کرغیزستان، ترکمانستان، افغانستان، ہندوستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش، ملائشیا، ایران، ہانگ کانگ، چائنیز تائی پی،، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر، کویت، فلسطین، عراق، لبنان، شام، اومان، اور یمن شامل تھے۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ سپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے صدر جیانی مرلو تنظیم کی 92 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان آئے۔ہنگری کی سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن کی صدر خاتون سپورٹس جرنلسٹ ڈاکٹر سوزسا سٹزو اور ترکی کے نامور سپورٹس جرنلسٹ عزت یالمیر بھی اس کانگرس میں خصوصی طور  پر کانگرس میں شرکت کی یوں مجموعی شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد 28 تھی۔بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے مطابق پہلے دن مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کانگرس کے شرکاء کے لئے بھی انتہائی پروقار عشائیہ کا اہتمام کیا گیا ۔پاکستان میں اٹلی کے سفیر سٹیفانو نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ خاص طور پر عشائیہ میں شرکت کی۔ مندوبین سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے آئی پی ایس ایشیا کی کانگرس کا انعقاد قابل ستائش ہے اور اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی سپورٹس جرنلسٹس کی آمد سے دنیا بھر کو ایک مثبت پیغام جائے گا۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدان پھر سے آباد ہوں گے اور اس سلسلے میں پاکستانی سپورٹس جرنلسٹس کی خدمات تاریخ کا حصہ بنیں گی۔ سپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے صدر جیانی مرلو کا کہنا تھا کہ بہت قلیل عرصے میں جس شاندار انداز میں پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے ترقی کا سفر طے کیا ہے وہ وہ قابل رشک ہے۔پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر اور اے آئی پی ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن امجد عزیز ملک نے تمام شرکاء کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان میں ان کا مختصر قیام یادگار رہے گا۔ پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی جانب سے جیانی مرلو نے اٹلی کے سفیر کو سووینئر بھی پیش کیا۔


دوسرے دن کانگرس کا انعقاد ہوا۔ چار سیشن ترتیب دئیے گئے پہلے سیشن میں کانگرس کا با ضابطہ افتتاح وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کیا ۔انہوں نے انتہائی پر اثر تقریر کی جس میں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورت حال کو اجاگر کیا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف چاہتے ہیں کہ پاکستان خوش حال ہو اور یہاں معاشی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ کھیل بھی ترقی کریں اور کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کی ترقی اور فروغ کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور انہی کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان میں کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کا آغاز ہو چکا ہے ورلڈ الیون نے پاکستان کا دورہ کیا ہے جبکہ مستقبل میں بھی یہاں انٹرنیشنل ایونٹس کا انعقاد ہو گا۔مریم اورنگزیب نے بین الاقوامی مندوبین کا یقین دلایا کہ پاکستان میں امن بحال ہو چکا ہے لہٰذا وہ اپنے ممالک جا کر واضح کریں کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جہاں کھیلوں کے میدان بھی آباد ہو رہے ہیں اور کئی انٹرنیشنل سرگرمیاں جاری و ساری ہیں۔وزیر مملکت نے وفاقی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی ترقی اور خاص طور پر کھیلوں کے میدان تعمیر کرنے کے حوالے سے اعداد و شمار بھی دئیے۔مریم اورنگزیب نے اے آئی پی ایس ایشیا کی کانگرس کے انعقاد کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن  کو مبارکباد پیش کی۔سپورٹس جرنلستس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے اٹلی نژاد صدر جیانی مرلو نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں ان کی رائے یکسر تبدیل ہو گئی ہے پہلے کبھی پاکستان اسکواش، ہاکی، کرکٹ اور سنوکر کے عالمی چیمپئن کے طور جانا جاتا تھا لیکن امن و امان کی سورت حال کی وجہ سے اسے کھیلوں کی دنیا میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پرا لیکن اب وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور اتنی بڑی تعداد میں سپورٹس جرنلسٹس کا پاکستان آنا اس امر کا بین ثبوت بھی ہے۔جیانی مرلو نے یقین دلایا کہ سپورٹس جرنلسٹس پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کریں گے اور یہاں ملنے والی مہمان نوازی کا تذکرہ شد و مد سے کریں گے۔انہوں نے وزیر مملکت کی جانب سے کانگرس کے افتتاحی تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ہنگری کی سپورٹس جرنلسٹ اور سابق اولمپئن جمناسٹ ڈاکڑسوزی نے خواتین جرنلسٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستان سے امن کا پیغام لے کے اپنے وطن واپس جائیں گی پاکستانی بہت محبت کرنے والے اور روایتی مہمان نواز ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے کھلاڑیوں نے اولمپکس سمیت عالمی سطح کے مقابلوں میں بہت نام کمایا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ایک بار پھر پاکستان کے کھلاڑی اپنے ملک و قوم کے لئے کامیابیاں سمیٹیں گے۔ڈاکٹر سوزی نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اے آئی پی ایس ایشیا کی کانگرس کے انعقاد سے دنیا بھر کو اس ملک کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔ان کا کہنا کہ پاکستان کے بارے میں ان کے رائے مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے اور یہی اس کانگرس کا حاصل بھی ہے۔انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ پاکستانی خواتین سپورٹس جرنلسٹس بھی مردوں کے شانہ بشانہ اس شعبے میں خدمات انجام دیں گی۔پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر امجد عزیز ملک نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہاکہ پاکستان نے جہاں کھیلوں کے بین الاقوامی میدانوں میں نام کمایا ہے وہیں ہمارے سپورٹس جرنلسٹس نے ان کامیابیوں کو اپنے قلم کے ذریعے ساری دنیا کے سامنے رکھا۔جو میدان کے اندر ہیرو بنے انہیں عزت و افتخار سے نوازا اور پھر اپنے احساسات و جذبات کے ذریعہ کھیلوں کو اس لئے عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ کھیلوں کے ناتے دوستی کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو ایک پہچان ملتی ہے۔پاکستان کے سپورٹس جرنلسٹس نے کھلاڑیوں کی طرح دنیا بھر میں عزت و شہرت کمائی ہمارے یہ سپورٹس جرنلسٹس ،کمنٹیٹرز اور لکھاری بلاشبہ لائق ستائش کے مستحق ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ  کھیلوں سے محبت کرنے والے اس ملک نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بہت مشکل وقت دیکھا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 70 ہزار سے زیادہ قربانیاں دیں اور ناقابل تلافی معاشی و اقتصادی نقصان سے دوچار ہوئے۔افسوس کی بات تو یہ ہے اس جنگ نے ہمارے کھیلوں کے میدان میں اجاڑ دئیے۔بین الاقوامی ٹیموں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا لیکن آج ہم نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔اب سپورٹس جرنلسٹس چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدان ایک بار پھر آباد ہو جائیں، غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آئیں، سیاح پاکستان کے حسین قدرتی مناظر دیکھنے کے لئے پاکستان آئیں۔

امجد عزیز ملک نے کہا کہ اے آئی پی ایس ایشیا کی اس کانگرس کا اپاکستان میں اسی تناظر میں کیا جا رہا ہے آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 33 ممالک کے70 سے زیادہ ڈیلی گیٹس کی یہاں آمد اور خاص طور عالمی سپورٹس جرنلسٹس کی تنظیم اے آئی پی ایس کے صدر مسٹر جیانی مرلو کا اسلام آباد آنا پاکستان بھر کے سپورٹس جرنلسٹس کے لئے باعث اعزاز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے طور پر ساری دنیا کو پاکستان سے امن کا پیغام دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور کانگرس کے مندوبین ایشیا کے علاوہ ساری دنیا میں پاکستان کی حقیقی تصویر ساری دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ کانگرس ہمیں دوستی کے رشتے مضبوط کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی اور ہم اس قابل بھی ہو جائیں گے کہ اگلے برسوں میں اے آئی پی ایس کی ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس اور پھر کبھی انٹرنیشنل کانگرس بھی پاکستان میں منعقد کر سکیں۔اس سیشن میں ایک منفرد بات دیکھنے میں آئی جب پاکستان بھر سے اکیس سپورٹس جرنلسٹس اور کمنٹیٹرز کو ان کی پیشہ وارانہ خدمات سراہتے ہوئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازا گیا۔ایک طرف نامور سپورٹس جرنلسٹس اور کمنٹیٹرز کو ایوارڈز کے لئے نامزد کیا گیا ہے تو دوسری جانب ان عظیم شخصیات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے سپورٹس جرنلزم اور کمنٹری کے میدان کو اپنی ساری زندگی اور توانائیاں دیں21 ایورڈز ان مرحوم سپورٹس جرنلسٹس اور کمنٹیٹرز کے نام سے منسوب کئے گئے جبکہ چار حیات شخصیات مرتضیٰ ملک ، اختر وقار عظیم ،جمشید مارکر اور نواب علی خان یوسفزئی کے نام سے منسوب ایوارڈز بھی دئیے گئے۔گویا یہ تقریب پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار اہمیت کی حامل رہے گی۔ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیات کے بارے میں اگر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید کئی کتابیں لکھنی پڑ جائیں لہٰذا ان کے نام ہی کافی ہیں۔مرحوم ایس ایم نقی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے مستحق کراچی سے زبیر نذیر خان قرار پائے ۔۔مرحوم ایس اے شاہ ایوارڈ کے حقدار پشاور کے اعجاز احمد خان جبکہ مرحوم علی کبیر ایورڈ ایبٹ آباد کے راشد جاویدنے وصول کیا۔مرحوم منیر حسین کے نام سے منسوب ایوارڈ فاٹا سے تعلق رکھنے والے تکبیر آفریدی کو دیا گیا۔مرحوم مظاہر باری کے نام سے منسوب ایوارڈ ہاکی کمنٹیٹر کراچی کے ریاض الدین جبکہ مرحوم عمر قریشی ایوارڈ قابل فخر کرکٹ کمنٹیٹر چشتی مجاہد نے وصول کیا ۔مرحوم زاکر حسین سید لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کرکٹ کمنٹیٹر اسلام آباد کے احتشام الحق، جمشید مارکر ایوارڈ قابل احترام فیصل آباد کے کرکٹ کمنٹیٹر محمد ادریس، مرحوم امتیاز سپرا ایوارڈ لاہور کے زاہد مقصود،مرتضیٰ ملک ایوارڈ لاہور کے سرفراز احمد، مرحوم راشد علی صدیقی ایوارڈ کراچی کے منصور علی بیگ جبکہ مرحوم شمس الزمان کے نام سے منسوب ایوارڈ کراچی کے نصر اقبال نے وصول کیا،مرحوم ایس اے بخاری ایوارڈ لاہور کے قیوم زاہد،مرحوم سلطان عارف ایوارڈ زاہد فاروق ملک جبکہ نواب علی یوسف زئی ایوارڈ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہاکی کمنٹیٹر سردار خان،کرکٹ کمنٹیٹر راجہ اسد علی کان اور کرکٹ کمنٹیٹر طارق رحیم نے وصول کیا۔ٹیلی وژن کے شعبے میں آجکل نمایاں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر نعمان نیاز کو ٹیلی وژن ہی کی ایک نامور جانی مانی شخصیت اختر وقار عظیم کے نام سے منسوب ایوارڈ دیا گیا۔ان ممتاز شخصیات نے جہاں اس تقریب کو چار چاند لگائے وہیں نئی نسل کو اپنے سپورٹس جرنلسٹس اور کمنٹیٹرز کے بارے میں جاننے کا موقع بھی ملا۔

کانگرس کے دوسرے سیشن میں انگریزی اور اردو زبانوں میں دو الگ الگ فورمز کا انعقاد کیا گیا جن کا موضوع تھا کہ کس طرح سے سپورٹس جرنلسٹس دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔پہلے فورم کے موڈریٹرملائشین سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر احمد عیسیٰ خواری تھے ان کے ساتھ پینل ڈسکشن میں اے آئی پی ایس کے صدر جیانی مرلو، پاکستان فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان مجاہد اللہ خان ترین، کورین سپورٹس میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر ہی ڈون جنگ، انڈین سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صبا نایاکن اور ممتاز کرکٹ کمنٹیٹر طارق رحیم نے بحث میں حصہ لیا۔اے آئی پی کے صدر جیانی مرلو اور ایشیا کے نامور سپورٹس جرنلسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں سپورٹس جرنلسٹس کو اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے مثبت اور تعمیری کردا ادا کرنا ہو گا کیونکہ سپورٹس جرنلسٹس دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور کھیلوں کی ترقی و فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔جیانی مرلو کا قف تھا کہ جہاں کھلاڑی ملک و قوم کا پرچم بلند کرتے ہیں وہیں سپورٹس جرنلسٹس کا کردار بھی ان سے کم نہیں ہوتا لیکن ہمیں دور حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سپورٹس جرنلسٹ کے طور خدمات کی انجام دہی کرنی چاہئیے انہوں نے کہا کہ کسی بھی طور قلم کی حرمت پر سودا بازی نہیں ہونی چاہئیے۔ شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ سپورٹس جرنلسٹس کھیلوں کی صحافت کے ذریعہ دنیا بھر میں امن و آشتی کا پیغام عام کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔


اردو میں ہونے والی پینل ڈسکشن میں  سابق سکواش چیمپئن قمر زمان،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختون خوا جنید خان، کرکٹ کمنٹیٹرراجہ اسد علی خان اور کمنٹیٹر احتشام الحق شریک ہو ئے۔ پینلسٹس نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سپورٹس جرنلسٹس کو کھیلوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں کو سامنے لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے تاہم ساتھ میں کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے ذاتی مفادات کی بجائے ملک و قوم کے مفادات کو ترجیح دینی چاہئیے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کھیلوں کی ترقی کے لئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے سپورٹس جرنلسٹس کی استعداد کار بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے تاہم اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کھلاڑیوں کی طرح سپورٹس جرنلسٹس بھی ملک و قوم کے سفیر ہوا کرتے ہیں اور ان کی جانب سے کوئی بھی غلطی لوگوں کو کھیلوں سے دور لیجا سکتی ہے۔شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ سپورٹس جرنلسٹس نہ صرف اپنے ملک کے شائقین بلکہ ساری دنیا کے شائقین کھیل کو قریب لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں فورمز کے شرکاء نے اے آئی پی ایس ایشیا کانگرس کے انعقاد اور سپورٹس جرنلسٹس کی بڑی تعداد میں موجودگی پاکستان میں کھیلوں کے شاندار مستقبل کی نوید قرار دیا اور یقین ظاہر کیا کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدان پھر سے آباد اور شائقین کو بین الاقوامی مقابلے دیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
تیسرے سیشن میں پاکستان کے مختلف اداروں اور سپانسرز کی جانب سے دستاویزی فلمیں پیش کی گئیں تاکہ مندوبین کو بتایا جا سکے کہ یہ ادارے کھیلوں کے فروغ میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پشاور زلمی کے نمائندے نوشیروان آفندی نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ پشاور زلمی کرکٹ ٹیم آئندہ برس بھی اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہے اور پاکستان سپر لیگ میں اس بار پہلے سے زیادہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال بھی پشاور زلمی میں پاکستان کے علاوہ باصلاحیت اور نامور کرکٹرز شامل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ پشاور زلمی فاؤنڈیشن سارے ملک میں کرکٹ کھیل کی گراس روٹ پر ترقی کے لئے بہت کام کر رہی ہے اور کم عمر کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں ۔نوشیروان آفندی کا کہنا تھا کہ پشاور زلمی فاؤنڈیشن کے چئیرمین جاوید آفریدی پاکستان کے سفیر کے طور خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کا سافٹ امیج ساری دنیا میں جائے اور یہاں سے امن کا پیغام عام ہو۔

خیبر پختون خوا کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس جنید خان نے سوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کھیلوں کو فروغ دے کر ہم نوجوان نسل کو معاشرے کا مفید شہری بنا سکتے ہیں اور اس کے لئے سپورٹس جرنلسٹس کی اہمیت سے کسی بھی طور انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سپورٹس جرنلسٹس بھی کھیلوں کی ترقی و فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے انتہائی اہم جز ہیں۔جنید خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا میں ہر تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان بنائے گئے ہیں جبکہ پشاور اور چارسدہ میںبین الاقوامی معیار کے سٹیڈیمز کی تعمیر کا کام مکمل ہو گیا ہے۔رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے علاوہ افغناستان اور سنٹرل ایشیا کے لئے صحت کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے ۔رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں علاج معالجے کی بہترین سہولتیں دستیاب ہیں جبکہ ان کا میڈیکل کالج بھی ہے جو ملک و قوم کے لئے بہترین ڈاکٹرز تیار کر رہا ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ صحت کی سہولتوں کے علاوہ ان کا ادارہ کھیلوں کے فروغ میں بھی دلچسپی لے رہا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سپورٹس جرنلسٹس کا انہیں بھرپور تعاون حاصل رہتا ہے۔انہوں نے اے آئی پی ایس ایشیا کانگرس کے انعقاد کو سراہا اور اسے نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ میں کھیلوں کی صحافت کے لئے اہم سنگ میل قرار دیا۔

پشاور میں مقبول اور اہم ترین تعلیمی انسٹی ٹیوٹ آئی سی ایم ایس کے چئیر مین ملک تجمل حیات نے شرکاء کو بریفنگ میں کہا انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ منیجمنٹ سائنسز صوبے بھر میں طلباء کو معیاری تعلیم کی سہولتیں فراہم کر رہا جبکہ طلباء کو کھیلوں کے میدان میں بھی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی عمر گل سمیت کئی کھلاڑی اس تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں۔ ملک تجمل حیات نے بتایا کہ آئی سی ایم ایس ہر سال کھیلوں کے مقابلے منعقد کرتا ہے اور کھلاڑیوں کو کھیلنے کے شاندار مواقع فراہم کرتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سپورٹس جرنلسٹس بھی انہیں بھرپور تعاون فراہم کرتے ہیں۔ملک تجمل حیات نے اے آئی پی ایس ایشیا کانگرس کو پاکستان میں سپورٹس جرنلزم کے لئے ایم اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ اس کے مستقبل میں انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اس موقع پر اے آئی پی ایس کے صدر جیانی مرلو نے جنید خان، ڈاکٹر شفیق الرحمان اور ملک تجمل حیات کو پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی جانب سے سووئنیرز بھی دئیے۔پاکستان میں ٹن پن باؤلنگ ایلے نصب کرنے والی فرم ورچوئل کے سربراہ خواجہ مستقیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ٹن پن باؤلنگ کا کھیل مقبول ہو رہا ہے۔ان کی فرم نے پاکستان کے کئی شہروں میں باؤلنگ ایلے نصب کئے ہیں