وومن ہاکی جنسی حراساں کیس ،دو سال میں دو سکینڈل ، کیا پی ایچ ایف مٹی پاو پالیسی پر عمل کر رہی ہے؟ ذمہ داروں کا تعین کر کے عبرتناک سزا کیوں نہ دی جا سکی؟ کیا پی ایچ ایف بتا سکتی ہے ؟ 

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اعلامیہ کے مطابق قومی وومن ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ پندرہ دسمبر سے اسلام آباد میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ جسکے لئے پی ایچ ایف نے تا حال قومی وومن ہاکی ٹیم مینجمنٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہوا ہے ،حالانکہ دو خواتین کھلاڑیوں سیدہ سعدیہ اور اقراء جاوید نے کوچ سعیدخان پر جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزامات لگا رکھے ہیں۔ اس صورتحال میں ہاکی سے منسلک حلقے پی ایچ ایف انتظامیہ کی اس معاملے پر خاموشی اور متنازعہ کوچ کی عدم تبدیلی کو لیکر سخت پریشان ہیں ،ان حلقوں کاکہنا ہے کہ پی ایچ ایف کو اس معاملے کو پہلے نبٹانا چاہیے تھا اور اسکے بعد ہی نئے کیمپ کا اعلان کرنا چاہیے تھا یا پھر معاملہ کی مکمل تفتیش تک مذکورہ کوچ کو انکے عہدہ سے ہٹا دینا چاہیے تھا تاکہ اس کیمپ کے دوران کوئی اورواقع یا الزام سامنے نہ آجائے، ان ا حلقوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات نے پاکستان وومن ہاکی کے معاملات اور اس سے جُڑے لوگوں پر سوالیہ نشانات لگا دئے ہیں ،جو کہ پاکستان وومن ہاکی کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں اوپر تلے ایسے اسکینڈلز کے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی بیٹیوں کو کھیل کے میدان میں بھیجنا پسند نہیں کریں گے۔ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی ایچ ایف کے سیکر ٹری شہباز سینئر نے اس حوالے سے چند روز قبل ایک چار رکنی کمیٹی بنائی تھی جس میں وومن ہاکی کوچ چاند پروین۔محترمہ راحت۔ راشد بٹ اور قومی وومن ہاکی ٹیم کے مینجر شامل تھے۔ جن میں سے تین یعنی وومن ہاکی کوچ چاند پروین۔محترمہ راحت۔ راشد بٹ نے ان خواتین کھلاڑیوں کو بلا کران کا موقف سُنا بھی تاہم وہ اس حواے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس حوالے سے کون سچا ہے اور کون چھوٹا؟یا کھلاڑیوں کی جانب سے سعیدخان کے اوپر لگایا جانے والے جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام سچا بھی تھا یا نہیں؟۔ ایسے میں پی ایچ ایف کیلئے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ وہ اس حوالے سے حتمی رپورٹ آنے تک کوچ سعید خان کو کوچ کے عہدے سے ہٹا دیتی۔یاد رہے کہ خواتین ہاکی کھلاڑیوں کو جنسی طور پر حراساں کرنے کے حوالے سے دو سال کے دوران ہونے والا پہلا واقع نہیں ایک سال پہلے انہی سعید خان جن پر آج الزام ہے نے بحثیت وومن ہاکی ٹیم مینجرپاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ تھائی لینڈ کے بعد سابق کوچ اولمپین محمد عثمان کی بنکاک میں ناپسندیدہ سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ پی ایچ ایف کو جمع کرائی تھی ۔جسپر انہیں وومن ہاکی کوچ کی ذمہ داری سے ہٹا کر انہیں قومی جونئیر ہاکی ٹیم کے ساتھ نتھی کر دیا گیا تھا اور معاملہ کو دبا دیا گیا تھا۔ اولمپین محمد عثمان پر بین کیوں نہیں لگایا گیا؟ اس کو جواب تو صدر پی ایچ ایف بریگیڈئر خالد سجاد کھوکھر اور سیکر ٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر ہی دے سکتے ہیں ۔اب دوسرے سال انہی اولمپین سعید خان پر خاتون کھلاڑی نے جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے اور پی ایچ ایف اسبار بھی مٹی پاو پروگرام پر عمل کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے تاکہ اس معاملہ کو بھی رفع دفع کیا جا سکے، اگر پہلی بار ہی محمد عثمان اور خاتون کھلاڑی کو مینجر کی رپورٹ پر ہاکی کے لئے بین کر دیا جاتا تو شائددوسری بار ایسا معاملہ سامنے نہ آتا۔ پی ایچ ایف کے بڑوں کے لئے اب بھی وقت ہے کہ وہ فیصلہ لیتے ہوئے نہ صرف پچھلے سال ہونے والے واقعہ میں ملوث کوچ اور کھلاڑی کو ہمیشہ کے لئے بین کر دیں بلکہ حالیہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کر کے اس میں ملوث افراد کی ہاکی کے میدان میں داخلے پر تاحیات پابندی لگا دیں۔ تاکہ آفیشلز اور کھلاڑیوں میں سے آئندہ کسی میں جرات نہ ہو کہ وہ ہاکی کے مقدس میدانوں کو بدنام کر سکیں۔اور اگر وہ ایسا کرنے کی سوچیں تو انہیں اپنے انجام کا پتہ ہو۔