پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کا المیہ نقطہ نظر : علی اکبر شاہ قادری،اولمپک باکسنگ جج پاکستان

پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ قیام پاکستان کے بعد چھ ماہ یعنی 25فروری 1948سے شروع ہوگئی جب پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔
25فروری 1948تا نومبر 1977یعنی قائد اعظم محمد جناح سے لیکر 4جولائی 1977 ذولفقار علی بھٹو تک مجموعی طور پر 29برسوں کے دوران پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے آٹھ نامور صدور رہے جن میں مرحوم ٖغلام محمد،مرحوم سردار عبدالرب نشتر،مرحوم چوھدری محمد علی،مرحوم حسین شھید سہروردی،مرحوم فیروز خان نون،مرحوم جنرل اعظم خان،مرحوم رعنا عبدالحامد اور مرحوم ملک معراج خالد۔ملک معراج خالد کے بعد جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 03مارچ 1978 میں مرحوم سید واجد علی شاہ اس ادارے کے صدر نے جوکہ 26برس یعنی 11مارچ 2004تک عہدہ صدارت پر فائز رہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں 11مارچ 2004کو ایک باوردی لیفٹننٹ جنرل سید عارف حسن پی۔او۔اے کی صدارت پر فائز ہوئے جوکہ اپنی رٹائرمینٹ کے باوجود 14برسوں سے مسلسل عھدہ صدارت پر فائز ہیں اسطرح آٹھ صدور کے مقابلے میں صرف دو صدور واجد علی شاہ اور جنرل عارف حسن 40برسوں تک پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی صدارت پر فائز رہے۔کامن ویلتھ گیمز کی تاریخی حوالے سے ایک دلچسپ تجزیہ شاعقین اسپورٹس و عوام کے لٗے لکھ رہا ہوں کہ 1954تا 1970کے دوران پاکستان نے پانچ کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 20گولڈ،13سلور اور 11برانز کے ساتھ مجموعی طور پر 44میڈلز جیتے تھے۔پھر 16برسوں تک پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہیں کی۔اسکے بعد 1990تا 2018پاکستانی کھیلوں کے دستے نے پہلے واجد علی شاہ اور پھر لیفٹننٹ جنرل رٹائرڈ عارف حسن کی دور صدارت میں آٹھ کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 05گولڈ، 11سلور اور 15برانز میڈل کے ساتھ مجموعی طور پر 31میڈلز جیتے۔صرف کامن ویلتھ گیمز کے اس تجزئے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن کی صدارت ہی کھیلوں کی تنزلی کا اہم سبب رہی ہے،کیونکہ 39برسوں کے دورن 08صدور میں سے کوئی بھی ایک صدارت کی کرسی سے چپکنے کے بجائے اولمپک کھیل کو عروج پر لے جانے کی کوشش میں لگے رہے،جبکہ سید واجد علی شاہ اور سید عارف حسن پاکستان میں اولمپک کھیلوں کی تاریخ کی دو شخصیات رہی ہیں جوکہ عہدہ صدارت پر چپکے رہے۔جسکی وجہ سے پاکستان میں قومی فیڈریشنز سے لیکر ڈسٹرکٹ لیول تک من پسندی اور گروپ بندیوں اور جوائے ٹرپ نے پاکستان میں کھیلوں کو مسلسل تنزلی کا شکاررکھا ہے۔ پاکستان کے سفارت خانے دیار غیر میں وہ کچھ نہیں کرتے جوکہ کھیلوں کے ذریعے ہمارے سفر کھلاڑی کرتے ہیں۔پاکستان میں کھیل اور کھلاڑیوں کی تباہی کا اصل زمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا بلکل درست جواب ،جزا اور سزا صرف ایک ہی قومی ادارہ لے دے سکتا ہے وہ ہے سپریم کورٹ آف پاکستان۔