پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو جھٹکا دینے کی تیاریاں : شیخ فاروق اقبال نے ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لئے نیشنل سپورٹس کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا

لاہور ( عمر طارق سے /سپورٹس ورلڈ نیوز) ممتاز سپورٹس آرگنائزر شیخ فاروق اقبال نے ملک میں کھیلوں کی بقاء اور انکے فروغ کے لئے نیشنل سپورٹس کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے جسکے پیٹرن انچیف وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف ،پیٹرن وفاقی وزیر کھیل میاں ریاض حسین پیرزادہ اور چیرمین ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ ڈاکٹر اختر نواز گنجیرا ہونگے ۔ پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے سربراہ شیخ فاروق نے یہ اعلان اتوار کے روز یہاں لاہور میں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکٹو عمر طارق کو ایک خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا انہوں وزارت بین الصوبائی رابطہ اور صوبائی کھیلوں کی وزارتوں کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الصوبائی کھیلوں اور قومی کھیلوں کے معاملے میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو دور رکھے کیونکہ کھیلوں کے حوالے سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا ڈاک خانے سے زیادہ کو ئی کر دار نہیں ہے ہر فیڈریشن اپنے اپنے معاملات چلاتی ہے اور براہ راست انٹر نیشل باڈی کے ساتھ الحاق رکھتی ہے ۔ شیخ فاروق اقبال کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں پی او اے کا کردار صرف اولمپکس ،ایشین گیمز یا پھر ریجنل گیمز تک رہ جاتا ہے اور وہ بھی صرف انٹریز بھجوانے تک۔ یہ مافیا اولمپکس اور ریجنل کھیلوں کے نام پر ریاست پاکستان سے کڑوڑوں روپے اینٹھتا اور جوائے رائیڈنگ و موج مستی کرنے چلا جاتا ہے۔شیخ فارق اقبال کا کہنا تھا کہ ریو اولمپکس ہی کو دیکھ لیں جس میں کھلاڑی کم اور آفیشلز زیادہ لے جائے گئے کیا یہ پاکستان کے ساتھ ظلم نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں کھیلوں کے گرتے ہوئے معیار کو دیکھتے ہوئے اور اسے بہتر بنانے کے لئے نیشنل سپورٹس کمیٹی کے قیام کا فیصلہ لیا ہے جسکی ڈومین ڈومیسٹک سپورٹس ایونٹس ہونگے جن میں نیشنل گیمز اور صوبائی کھیل ہونگے ۔ نیشنل سپورٹس کمیٹی صرف صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومتوں کو ایونٹس کے انعقاد میں معاونت فراہم کرے گی نہ کہ فنڈز کا مطالبہ کے کے اپنی جوائے رائیڈنگ پر خرچ کرے گی۔شیخ فاروق اقبال کا کہنا تھا کہ سوچنے کی بات تو یہ ہے جب فنڈز حکومتی ادروں نےہی دینے ہیں تو قومی اور صوبائی گیمز ہونی ہیں توپی او اے کا ان کھیلوں میں کردار کہاں سے آتاہے

. ایسے میں کیونکر اسے ان ایونٹس میں انوالو کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا پی او اے کوئی بھتہ خور ادارہ ہے ؟ جسے بھتہ دئیے بغیر یا انوالو کئےبغیرکھیلوں کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ویسے بھی پی او اے کا کھیلوں کے انعقاد کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں بنتا،کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرانا اور انکے بہتر انعقاد کے لئے ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کر نا ہر فیڈریشنکی اپنی اپنی ذمہ داری ہے۔اور ویسے بھی پی او اے پاکستان سپورٹس بورڈ سے الحاق شدہ نہیں ہے ااور اسکے بڑے اپنی میٹنگز حتی کہ عدالتوں میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ انکا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اسکے پابند،ایسے میں انکی جانب سے نیشنل گیمز یا صوبائی گیمز میں مداخلت کا کوئی تُک نہیں بنتا اور نہ ہی حکومتی اداروں کو انہیں ان معاملات میں انوالو کر نا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ چار سالوں سے پاکستا ن میں قومی کھیل نہیں ہوسکے جب اسکی ذمہ داری پی او اے پر ڈالی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری تھوڑی ہے اورجب کو ئی صوبائی حکومت کرانا چاہے تو یہ کہتے ہیں کہ ان کی حمایت یافتہ جعلی صوبائی پی او اے کے توسط سے کر ائے جائیں۔ شیخ فاروق اقبال کا کہنا تھا

                                  

ایک سوال کے جواب میں شیخ فاروق نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے نیشنل سپورٹس کمیٹی کی پیٹرن انچیف بننے کے حوالے سے درخواست کی گئی ہے اور حوالے سے انشاء اللہ چند دنوں میں فیصلہ آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پی اواے کے خلاف نہیں جا رہے اسکی اپنی حدود ہیں وہ وہاں کام کے اور بڑے شوق سے کرے ہم اپنے ملک کے اندر کھیلوں کے فروغ اور معیار کو بہتر بنانے کے لئے سیاست سے بالا تر ہو کر حکومتی اداروں کے ساتھ بغیر کسی لالچ کے کام کرنا چاہتے ہیں تاکی پاکستان میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دنیا کے پچاس کے قریب ممالک میں نیشنل سپورٹس کمیٹیز کام کر رہی ہیں اور دنیا میں یہ کوئی نیا عمل نہیں۔

follow  us  on   facebook      https://www.facebook.com/sportsworldpk1/?pnref=lhc