پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن اور سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ کے زیر اہتمام ایشین ینگ سپورٹس رپورٹرز ٹریننگ پروگرام کایادگار انعقاد

رپورٹ: شکیل الرحمان
گذشتہ دنوں پاکستان میں کھیلوں کی صحافت میں ایک نئی تاریخ اس وقت رقم ہوئی جب کراچی میں ینگ سپورٹس رپورٹرز ٹریننگ پروگرام کا انعقاد ہوا۔4 سے 9 نومبر تک کراچی کے فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام کئی اعتبار سے یادگار اہمیت کا حامل رہا۔پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، افغانستان اور نیپال کے35 کم عمر سپورٹس رپورٹرز نے اس پراگرام میں شرکت کی۔درحقیقت یہ تربیتی پروگرام سپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم اے آئی پی ایس کے صدر جیانی مرلو کا برین چائلڈ ہے ان کی ذاتی دل چسپی کی وجہ سے کئی سال قبل ینگ سپورٹس رپورٹرز ٹریننگ پروگرامز کا سلسلہ شروع ہوا۔شروع میں تو اس کی مخالفت بھی کی گئی سینئر زایگزیکٹوکمیٹی کے اراکین کا مؤقف تھا کہ کم عمر سپورٹس جرنلسٹس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کسی بھی وقت اپنا شعبہ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود اے آئی پی ایس نے مختلف عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان تربیتی پروگراموں کو آگے بڑھایا۔دنیا کے کئی ممالک میں بین الاقوامی ایونٹس کے دوران ان پروگرامز کا شاندار انعقاد کیا گیا۔جہاں تک ایشیا کے کم عمر سپورٹس جرنلسٹس کا تعلق ہے تو بدقسمتی سے انہیں عالمی سطح کے ان پروگرامز میں شرکت کا موقع انتہائی کم ملا جس کے پیش نظر ہانگ کانگ سپورٹس میڈیا ایسوسی ایشن نے پانچ برس قبل ہانگ کانگ میں ایسے ہی ایک تربیتی پروگرام کا سلسلہ شروع کیا اور آج یہ پروگرام ایشیا کی سطح پر انتہائی کامیاب ٹریننگ پروگرام سمجھا جاتا ہے۔ پروگرام کے شرکاء ہانگ کانگ کے علاوہ چین بھی جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ شرکاء کی تعداد میں اضافہ بھی ہوتا چلا گیا ہے گذشتہ برس بیس ممالک کے چالیس نوجوان سپورٹس جرنلسٹس نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ایشیا میں ایسے پروگراموں کی ضرورت کو مزید اس لئے بھی محسوس کیا گیا کہ ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ سپورٹس جرنلسٹس کی ایشیائی تنظیم اے آئی پی ایس ایشیا نے جہاں ہانگ کانگ پروگرام اور اس کے خالق چو چن فائی کو خراج تحسین پیش کیا وہیں پاکستان اور بھارت میں ایسے ہی پروگرامز کے انعقاد کی تجویز کو بھی سراہا۔پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے کراچی اور سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن آف انڈیا نے عالمی ہاکی مقابلوں کے دوران بھونیشور میں ینگ سپورٹس رپورٹرزپروگرام منعقد کرنے کی تجویز پیش کی

. پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی جانب سے ان کے انتہائی فعال یونٹ سندھ سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے یہ ذمہ داری قبول کی جس پر ایسوسی ایشن کے صدر طارق اسلم، سیکرٹڑی جنرل اصغر عظیم اور تمام عہدے دار بلاشبہ مبارکباد اور داد تحسین کے مستحق ہیں۔ایسوسی ایشن نے انتہائی محدود وسائل اور کم وقت کے باوجود کراچی میں ینگ سپورٹس رپورٹرزٹریننگ پروگرام کا انعقاد کر کے ملک میں کھیلوں کی صحافت میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔پہلے روز افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے سینئر وزیر ناصر حسین شاہ مہمان خصوصی تھے۔سابق صوبائی وزیر اور سندھ خاص طور پر کراچی میں کھیلوں کی جان سمجھے جانے والے سید جنید علی شاہ جو سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں،ان کے علاوہ سجاس کے ایک اور سرپرست ڈاکٹر فرحان عیسیٰ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈاکٹر فرحان عیسیٰ بھی پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن اور سندھ سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے روح رواں کے طور خدمات انجام دیتے ہیں اور انہوں نےسپورٹس جرنلسٹس کو کبھی مایوس نہیں کیا . ٹریننگ پروگرام کے پہلے روز سینئر جرنلسٹ انیس الدین خان،براڈ کاسٹر اقبال جمیل ، سینئر ترین جرنلسٹ محمودشام، زبیر نذیر خان ،کمال صدیقی، عتیق احمن اور دیگر ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں سنسنی پھیلانے سے اجتناب برتتے ہوئے خبر کی سچائی، حساسیت ، اہمیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ ماہرین نے شعبہ صحافت کی باریکیوں ، موجودہ حالات میں خبر کی اہمیت ، بریکنگ نیوز ، غلط اطلاع کی فراہمی کے معاشرے پر منفی اثرات ،موبائل فونز،سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ سمیت دیگر اہم نکات سے آگاہ کیا۔

سینئربراڈ کاسٹر اقبال جمیل نے کہا کہ خبر میں لفظوں کا انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے ، صحافی جب بھی کوئی سوال کرے تو اسے تمام پہلوؤں سے آگاہ ضرور ہونا چاہئے۔ حقائق کو سامنے رکھ کر نیوز اسٹوری پر توجہ دی جائے اور معاشرے میں بے چینی اورسنسنی خیزی پھیلانے سے گریز کرنا چاہئیے۔ صحافت لوگوں سے فوری رابطے کا موثر اور براہ راست ذریعہ ہے۔ ایک اچھے صحافی کو یہ بات بھی معلوم ہونی چاہئے کہ وہ سی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ اس کی خبر یا رپورٹ میں دلچسپی لیں گے ۔ سینئر صحافی محمود شام نے کہا کہ پاکستان میں کھیلوں میں بھی اب سیاست ہونے لگی ہے ۔ ماضی میں ہاکی اور اسکواش میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا تاہم آجکل کھیل بدحالی کا شکار ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر میں اقوام کھیلوں کے میدان بناتی ہیں لیکن یہاں چائنہ کٹنگ پر توجہ ہے ۔ اردو صحافت میں پہلے کھیلوں کوخاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے ۔ اردو جرنلزم میں سرخیوں میں شاعری سے مدد لی جاتی ہے اور یہ چلن انگریزی میں بھی آگیا ہے ۔ کھیل کو صرف کھیل ہی سمجھنا چاہئے اسے جنگ نہ بنایا جائے ورنہ قوم کی نفسیات متاثر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی ویژن میں زبان کی غلطیاں ہورہی ہیں لہٰذا صحافیوں ، اینکر پرسن اور شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کی تربیت وقت کا تقاضہ ہے۔ نوجوان صحافی اپنی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے مطالعہ کو عادت بنا لیں۔ انہیں نامورادیب اے حمید اور قدرت اللہ شہاب کو پڑھنا چاہئے ۔ سینئر جرنلسٹ انیس الدین خان نے کہا کہ جب بھی کچھ لکھا جائے تو حقائق اور واقعات کو پوری سچائی کے ساتھ قلم بند کیا جائے، ٹی وی چینل پر بریکنگ نیو زکو اہمیت دی جا تی ہے تاہم خبر وہی ٹاک آف دی ٹاؤن بنتی ہے جس میں عوامی دلچسپی اور مفاد ہو۔ امید ہے کہ نوجوان صحافیوں کو اس ورکشاپ سے کافی سیکھنے کوملے گا

۔۔ ٹی وی جرنلسٹ عتیق الرحمن نے کہا کہ کھیلوں سے وابستہ صحافی کو پرجوش ہونا چاہئے ،متن خبر کی جان ہوتا ہے ،اس پر سمجھوتہ نہیں کرناچاہئے۔ بریکنگ نیوز ایسی ہو جو دو، تین روز تک لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہو جائے۔ براڈ کاسٹنگ پیکج تیار کرتے ہوئے یہ دھیان دیاجائے کہ وہ ڈیڑھ منٹ سے زیادہ نہ ہو. ورکشاپ کے دوران سابق وزیر کھیل سندھ اور سجاس کے سرپرست ڈاکٹر سید جنید علی شاہ ، ڈاکٹر فرحان عیسیٰ، سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ آفیئر حکومت سندھ ہارون احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ مہمان خصوصی ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کھیلوں کے فروغ پر بھرپورتوجہ دے رہی ہے ۔ صوبے کے مختلف دیہات اور قصبوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے اسپورٹس کمپلیکس ، جمنازیم ، ہاکی آسٹروٹرف گراؤنڈزتعمیر کئے گئے ہیں۔ کھلاڑی قوم کے سفیر ہوتے ہیں لہٰذا انہیں تنہانہیں چھوڑا جا سکتا ، امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی روشن مثال ملک میں پاکستان سپر لیگ اور دیگر انٹر نیشنل ایونٹس کا انعقاد ہے ۔ کھیلوں سے پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر میں گیا اور امید ہے کہ اس تربیتی ورکشاپ سے بھی پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے آئے گا۔سجاس کے سرپرست سابق وزیر کھیل ڈاکٹر جنیدعلی شاہ نے کہا کہ سجاس کے تحت سندھ اور کراچی میں انٹرنیشنل اسپورٹس رپورٹرز ورکشاپ سے ملک کا سافٹ امیچ اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔جس طرح سے ایونٹ کو دن رات محنت کرکے چارچاند لگائے گئے ہیں غیر ملکی اور اندورن ملک سے آنے والے شرکاء اچھی یادیں لے کر جائیں گے،اسپورٹس کے زریعے ملک میں امن اور کھیلوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر اے آئی پی ایس ایشیاء کے صدر امجد عزیز ملک نے کہا کہ نوجوان صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جلا بخشنے کیلئے یہ ٹریننگ پروگرم منعقد کیاگیا ہے جس میں نیپال، افغانستان ا ور ایران سے صحافی شرکت کر رہے ہیں ۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے بھی وفود آنے تھے تاہم ویزہ مسائل کے باعث وہ شرکت نہ کر سکے ۔ غیر ملکی مہمانوں کیلئے ویزوں کے اجراء میں بھی دشواریاں آئیں تاہم توقع کی جا سکتی ہے کہ اس ورکشاپ سے نوجوان صحافیوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور وہ یہ جان سکیں گے کہ فیلڈ میں ان کا برتاؤ کیا ہونا چاہئے۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ اس ورکشاپ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے دو جونیئر صحافیوں کو آئندہ سال مئی میں ہانگ کانگ میں ہونے والے ایک پروگرام میں بھیجا جائے گا۔ تقریب سے سینئر صحافی زبیر نذیر خان، اور کمال صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ناصرحسین شاہ نے سینئر صحافی انیس الدین خان ، اقبال جمیل ، محمود شام، عتیق الرحمن، سیکریٹری ا سپورٹس ہارون احمد خان ، ڈاکٹر فرحان عیسیٰ اور ڈاکٹر جنید علی شاہ کو یادگاری شیلڈز اور سو ینیرز پیش کئے۔ ناصر حسین شاہ نے سجاس کے سرپرست ڈاکٹر جنید علی شاہ اور فرحان عیسیٰ سے اپنا سونیئر وصول کیا۔ تربیتی پروگرام کے دوسرے دن اسکواش لیجنڈ جہانگیرخان، ون ڈے کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے تیز بولرجلال الدین،کرکٹ آرگنائزرپروفیسر اعجازفاروقی، ویمن فٹبال آرگنائزر سعدیہ شیخ، فٹ بال منتظم زیب خان، سمیت سینئر صحافیوں نے شرکاء کو خبروں ،اطلاعات تک رسائی،سوشل میڈیا کا استعمال اور کیریئر بلڈنگ پر مفید لیکچرز دیئے۔سابق ورلڈ اور برٹش اوپن چیمپئن اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے کہا کہ کھلاڑی کیقومی اور بین الاقومی سطح پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے میں میڈیا کاکردار کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،اس طرح کیتربیتی پروگراموں سے کم عمرجرنلسٹس کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا،

سینئر جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ آج کل پرنٹ میڈیا میں بحرانی کیفیت ہے، اخبارا ت انٹر نیٹ پر آن لائن زیادہ پڑھے جانے لگے ہیں، آنے والے وقت میں صورتحال مزید تبدیل ہوگی لہٰذا پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا کی جانب آنا پڑے گا، جس کے لئے ان ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔ سینئر صحافی عبدالوحید خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شعبہ صحافت میں جوش وجنون ضروری ہے اور صرف ملازمت کیلئے اس شعبے کو اپنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ا گر ایک صحافی میں خبر کیلئے بھوک نہیں ہو گی تو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سوشل میڈیا ابلاغ کا نیا اور موثر ذریعہ بن کر ابھرا ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے،بعض خبریں صحافیوں کو ذرائع سے ملتی ہیں تاہم اس سلسلے میں خبر تک رسائی دینے والے کی ساکھ کو بھی سامنے رکھا جائے۔ صحافی کو جب بھی کوئی خبر ملے تو اسے رپورٹ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور جو بھی معلومات ملی ہیں،اسے من وعن پیش کیا جائے اور جانب داری سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اچھوتی اور پر اثر خبر یں دینے سے ہی میڈیا میں نام بنتا ہے تاہم اس میں مبالغہ آرائی سے گریز کیا جائے۔سینئر اسپورٹس رپورٹر عبدالماجد بھٹی نے کہا کہ نوجوان صحافی خوش قسمت ہیں انہیں جدید سہولتیں میسر ہیں، ماضی میں ایسا نہیں تھا، ایک خبر رپورٹ کرنے کیلئے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، آج الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور ہر ایک کی کو شش ہوتی ہے کہ وہ بریکنگ نیو ز سے توجہ کا مرکز بن جائے، منفی خبروں میں زیادہ دلچسپی لی جاتی ہے تاہم خبر تیار کرتے ہوئے سنسنی خیزی سے بچاجائے جبکہ صحافیوں کو جانب داری کا بھی مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایک صحافی کا اصل ہتھیار ا س کا قلم اور خبر ہی ہے۔
مقامی اخبار کے اسپورٹس ایڈیٹر سلیم خالق نے کہا کہ میڈیا کافی پھیل چکا ہے، موجودہ دور ڈیجیٹل ہے، اس لئے صحافیوں کو آل راؤنڈر بننا پڑے گا۔ فیلڈ میں کام کرتے ہوئے دباؤکا بھی سامنا رہتا ہے تاہم انہیں اسے خاطرمیں نہیں لانا چاہئے۔ نوجوان صحافیوں کو اس شعبے میں نام بنانے کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی کیونکہ سینئر ز کو آج جو بھی مقام حاصل ہواہے۔وہ کئی سال کی محنت اور مختلف مراحل سے گزر کر اس مقام تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خبر رپورٹ کرنے کے ساتھ فالو اپ پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ مطالعہ اور معلومات بھی پروفیشنل کیریئر کو آگے بڑھانے کیلئے معاون ثابت ہوتی ہیں۔ نیوز کس انداز میں پیش کی گئی ہے وہ بھی اہم ہے۔ بڑے ادارے کے بجائے بڑی خبر سے صحافی نظر میں آئے گا۔ فیس بک،ٹوئٹر اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم میڈیا کیلئے ضرورت بن گئے ہیں، ان کا عدم استعمال دانش مندی نہیں۔ اب کوئی بھی خبر ٹوئٹر پر پہلے آتی ہے اور بعد میں پریس ریلیز جاری کی جانے لگی ہے جو سوشل میڈیا کی طاقت کو ظاہر کر رہی ہے۔

سینئر صحافی احسان قریشی نے کہا کہ اسپورٹس جرنلزم میں ماضی کی نسبت کئی تبدیلیاں آگئی ہیں تاہم سیکھنے کے عمل کو چھوڑنانہیں چاہئے جبکہ خبر کیلئے جستجو ضروری ہے۔ اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے اسپورٹس جرنلسٹ محمود ریاض نے شرکاء کو سوشل میڈیا اور موبائل رپورٹنگ پر اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ ورکشاپ سے، ویمن فٹ بال آرگنائزر سعدیہ شیخ، کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدرپروفیسر اعجاز احمد فاروقی، لیثرر لیگ کے ڈائریکٹر زیب خان، پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے کو چیئرمین عالم گیر شیخ، سابق فاسٹ بولر جلال الدین اور دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔مقررین نے سپورٹس جرنلزم کی اہمیت پر اپنے تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا اور مثبت و تعمیری تنقید پر زور دیا تاکہ کھیلوں کو بہتری کی جانب گامزن کرنے میں سپورٹس جرنلسٹس اپنا کردار ادا کر سکیں۔ تربیتی پروگرام کے تیسرے اور آخری دن اختتامی تقریب میں مشیر وزیر اعلی سندھ مرتضیٰ وہاب، اورمیئر کراچی وسیم اختر نے شرکت کی۔اس اختتامی تقریب کی خاص بات سندھ کے سینئر سپورٹس جرنلسٹس کو ان کی سپورٹس جرنلزم میں ناقابل فراموش خدمات پر خراج تحسین پیش کرنا اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازنا تھا۔ اس موقع پر سجاس کے سرپرست سابق وزیر کھیل سندھ ڈاکٹر جنید علی شاہ کو اے آئی پی ایس ایشیا کی طرف سے پاکستان کے بہترین اسپورٹس آرگنائزر کا ایوارڈ بھی دیا گیاجبکہ سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف پر سابق وزیر کھیل اور معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹرسید محمد علی شاہ مرحوم سے منسوب گولڈ میڈل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کے مشیر اطلاعات،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اسپورٹس رپورٹر وہی ہوتا ہے جو درست خبر عوام تک پہنچائے، کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور کھیلو ں کے صحافی اپنے قلم کی طاقت سے ملک کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں روشناس کراتے ہیں ۔ امید ہے کہ اس ورکشاپ سے نوجوان صحافیوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہو گا جو پیشہ ورانہ زندگی میں ان کے کام آئے گا ، صحافیوں کے ساتھ دیرینہ رشتہ ہے اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا،غیر ملکی صحافیوں کا دورہ پاکستان سے ملک کا بہتر امیج کو فروغ ملے گا۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کھیلوں کو فروغ دینے میں صحافیوں کے کردار کو نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کے ذریعے ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں جاتا ہے ۔ اے آئی پی ایس ایشیاء ینگ اسپورٹس رپورٹرز ٹریننگ ورکشاپ اس شہر میں کھیلوں کی صحافت کے حوالے سے منعقد ہونے والا ایک اہم ایونٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ہمارے ملک میں کھیلوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ،اس میں بھی خامیو ں موجود ہیں ۔ہم کھیلوں میں ترقی کے بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔ ہاکی ، اسکواش میں اب ہمارا نام نہیں تاہم کرکٹ میں پھر بھی آج کل اچھی کارکردگی ہے ۔ وسیم اختر نے کہا کہ ملک میں اتنے زیادہ ٹی وی چینلز قائم ہو چکے ہیں اور میڈیا اتنا آگے جا چکا ہے کہ ملک کا بچہ بچہ یہ بات جان گیا ہے کہ میڈیا اصل میں کیا ہے اور اینکر پرسن کون ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے اسپورٹس جرنلزم کو وہ پذیرائی اور مقام نہیں ملا تاہم یہ ماضی کی پالیسیوں کی بھی سستی ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس جرنلسٹس کو بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے اور اگروہ کھیلوں کو پروموٹ کرتے ہیں تو دنیا بھر میں پاکستان کا سافٹ امیج جاتا ہے ، موجودہ وقت میں خاص طور پر ملک کو اس طرح کی سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔ کھیلوں کے صحافی جس طرح اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ ستائش کے مستحق ہیں۔

ایسے تربیتی پروگرامز منعقد کرنا بھی ایک کارنامہ ہے ۔ اس بات کی خوشی ہے کہ سینئر صحافیوں میں یہ جذبہ موجود ہے کہ وہ اپنے جونیئرز کو اپنا تجربہ منتقل کر رہے ہیں اور یہ ایک بہت بڑی بات اور مثبت سوچ ہے۔ٹریننگ پروگرام میں ملک اور بیرون ممالک سے شرکت کرنے والوں کو کراچی میں خوش آمدید کہتے ہیں اور اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن سندھ سجاس کو بھی سراہنا چاہئے جنہوں نے اتنا بڑا ایونٹ منظم طریقے سے منعقد کیا۔ کے ایم سی اور بطور میئر کراچی اسپورٹس جرنلسٹس کے ساتھ آئندہ بھی بھرپور تعاون کیا جائے گا ۔ وسیم اختر نے بتایا کہ کے ایم سی کے پاس بھی اسپورٹس کا محکمہ موجود ہے اور ہماری کوشش ہے کہ جس طرح ہو سکے، کھیلوں کو بھرپور اندازمیں فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں کھیلوں کے ایونٹس کو بھی کوریج دی جائے تاکہ بلدیاتی سطح پر ہونے والے کھیلوں کی خبریں بھی ملک بھر میں اجاگر ہو سکیں۔اس موقع پر ورکشاپ میں افغانستان، نیپال ، ایران ، کراچی ، اسلام آباد ،بلوچستان،فاٹا، پشاورور ملک کے دیگر حصوں سے شرکت کرنے والے نوجوان صحافیوں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اختتامی تقریب میں مشیر وزیر اعلی سندھ مرتضیٰ وہاب، میئر کراچی وسیم اختر،، سابق وزیر کھیل سندھ وسجاس کے سرپرست ڈاکٹر جنید علی شاہ نے سینئرجرنلسٹوں ،عبدالرشید شکور، احسان قریشی، وحید خان،مرزا اقبال بیگ ، رشاد محمود، ، سیدخالد محمود۔طارق اسلم، اسحاق بلوچ ،امتیاز علی نارنجا ، شاہد علی خان ،وزیر علی قادری،رفیق انصاری، محمد ایوب خان،شاہد اختر ہاشمی اور دیگر کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیئے۔پہلی مرتبہ سابق وزیر کھیل سندھ معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید محمد علی شاہ کے نام سے منسوب گولڈ میڈ ل سینئر جرنلسٹس عبدالماجد بھٹی کو دیا گیا۔تقریب میں خصوصی طور پر سجاس کے سابق صدر سینئر جرنلسٹ راشد علی صدیقی کے بڑے صاحبزادے وجاہت علی صدیقی نے مہمانوں کے ہمراہ پروگرام کی شرکت کی۔اختتامی تقریب میں سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری احمد علی راجپوت، نائب صدر انجنیئر محفوظ الحق، غلام محمد خان، نیشنل بینک اسپورٹس کے پی آر او عظمت اللہ خان، سیکریٹری کے ایچ اے حیدر حسین، ڈاکٹر اسماء شاہ، سید سخاوت علی،زیب خان،اصغر بلوچ،سمیت دیگر موجود تھے۔

یوں یہ تاریخی ینگ سپورٹس رپورٹرز ٹریننگ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ۔اس پروگرام کی ایک اور خاص بات شرکاء کو کھیلوں کے مختلف سٹیڈیمز لیجانا تھا تاکہ وہ کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھیں اور کسی بھی کھیل سے متعلق کوریج کے حوالے سے سوالات کر سکیں۔اس حوالے سے شرکاء نے ماضی کے ہاکی کلب آف پاکستان اور موجودہ عبدالستار ایدھی سٹیڈیم، نیشنل کرکٹ سٹیڈیم ، نیشنل سپورٹس ٹریننگ اینڈ کوچنگ سنٹر اوراولمپئن حنیف خان اینڈ ڈاکٹر سید جنید علی شاہ ہاکی سٹیڈیم کا دورہ کیا۔شرکاء نے ڈاکٹرفرحان عیسیٰ ، ڈاکٹر جنید علی شاہ اور مئیر کراچی کی جانب سے دئیے جانے والے عشائیوں میں بھی شرکت کی جبکہ اصغر علی شاہ کرکٹ سٹیڈیم میں نمائشی کرکٹ میچ میں بھی شرکت کی ۔سجاس نے میچوں کے لئے شاندار انتظامات کئے۔دو میچ کھیلے گئے پہلے میچ میں انٹرنیشنل جرنلسٹس الیون نے مقامی ٹیم کے خلاف کامیابی حاصل کی جبکہ شوبز الیون نے سجاس کی ٹیم کو ہرا دیا یوں دو ٹیموں کو مشترکہ فاتح قرار دے دیا گیا۔ورکشاپ کے شرکاء کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر بھی لیجایا گیا جہاں شرکاء نے عظیم لیڈر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔شرکاء نے قائداعظم کی رہائش گاہ بھی دیکھی ۔
گویا ہر لحاظ سے ینگ سپورٹس ٹریننگ پروگرام بین الاقوامی معیار کا تھا جسے نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھرپور کوریج دی اور اس کاوش کو سراہا گیا۔توقع کی جا سکتی ہے کہ اس قسم کے تربیتی پروگرام مستقبل میں بھی منعقد ہوں گے جو سپورٹس جرنلسٹس کی استعداد کار بہتر بنانے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔