پاکستان میں خواتین ٹینس خاتمے کی دہلیز پر ، حکام کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ شاہدہ کوثر فاروق

اسلام آباد(سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستا ن میں خواتین کی ٹینس سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اور حکام کی فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔ ان خیالات کا ظہار پاکستان میں ٹینس کے فروغ کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے صبح نو کی چیئرپرسن شاہدہ کوثر فاروق نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ افسوسنا ک امر ہے کہ ملک میں قوم سطح کے مقابلوں میں خواتین کھلاڑیوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں واہ کینٹ میں اختتام پذیر ہونے والے قومی سطح کے ٹورنامنٹ میں خواتین کھلاڑیوں کے مقابلے نہیں ہوسکے جس کی ایک بڑی وجہ کھلاڑیوں کی کم انٹریز ٹھہری۔ منتظمین کے مطابق ٹورنامنٹ میں اگرچہ 8 کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی تاہم عین موقع پر 5 کھلاڑی دستبردار ہوگئیں جس کی وجہ سے یہ کیٹیگری ختم کرنا پڑی۔ اسی طرح اسلام آباد میں جاری آئی ٹی ایف جونئیرز میں بھی پاکستان کی طرف سے صرف دولڑکیاں حصہ لے رہی ہیں جو بطور میزبان بھی پاکستان کے لیے افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی سپورٹس باڈیز میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ان کی آواز اتنی مضبوط نہیں جتنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں درجنوں کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیاں کام کررہی ہیں تاہم ان کی طرف سے کبھی کوئی ایسی کھلاڑی سامنے نہیں آتی جو ملک کی نمائندگی کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ ملک میں قومی، بین الاقوامی اور مقامی مقابلوں کی بھر پور تشہیر کرے تاکہ کھلاڑیوں کو بروقت معلومات حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے مقابلوں میں صرف لیڈیز سنگلز کی بجائے لیڈیز ڈبلز، گرلز انڈر18 ، انڈر14 اور انڈر10 کی کیٹیگریز بھی لازمی شامل کی جانی چاہییں۔ صبح نو کی چئیر پرسن نے ملک میں ٹینس کی سرگرمیوں میں اضافے پر پی ٹی ایف کی انتظامیہ کو سراہا اور کہا کہ اسے خواتین ٹینس پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی ایف کی طرف سے انتظامیہ میں دو خواتین ارکان کی شمولیت کو بھی سراہا اور کہا کہ ان ارکان کے لیے الگ سے دفتر ہونا چاہیے جہاں خواتین کھلاڑی بلا جھجک اپنے مسائل کے حل کے لیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ٹینس کی سہولیات انتہائی مہنگی ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں ان جگہوں کی فیس نہ ہونے کے برابر ہونی چاہیے تاکہ اس کھیل کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک پہنچایا جاسکے۔