پاکستان کے سب سے بڑے یوتھ گیمز ,خیبر پختونخواہ انڈر23گیمز کا فائنل راونڈدو گھنٹے تک پشاور میں شروع ہوجائیں گے،تیاریاں مکمل،قیوم سٹیڈیم دلہن کی طرح سج گیا

پشاور (سپورٹس ورلڈ نیوز) قیوم سٹیڈیم پشاور میں ہونے والے تیسرے انڈر 23گیمز2018کے فائنل راونڈ میں شر کت کے لئے خیبر پختونخوا سے کے تمام سات ڈویثرنز کے 3500 کے قریب مرد و خواتین کھلاڑی و آفیشلزپشاور پہنچ گئے ہیں،جہاں وہ اب سے لگ بھگ دو گھنٹے بعد ہونے والے کے پی کے انڈر 23گیمز کی افتتاحی تقریب میں شر کت کریں گے۔اسی طرح ان گیمز کے دوران سیکٹروں کی تعداد میں والنٹیرز بھی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیں گے۔ اس ایونٹ میں کے پی کے ساتوں ڈویثرنز ہزارہ۔ڈی آئی خان۔سوات۔ایبٹ آباد۔کوہاٹ۔مردان اورمیزبان پشاور کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔
تیسرے انڈر 23گیمز2018کے فائنل راونڈکو یاد گار بنانے کے لئے کے پی کے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کو دلھن کی طرح سجایا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے سابق سُپر سپورٹس سٹارز جن میں عمران خان۔جہانگیر خان۔جان شیر خان سمیت دیگر کھلاڑیوں کے قد آدم پوٹریٹ بھی لگائے گئے ہیں تاکہ کھلاری ان عظیم کھلاڑیوں کو دیکھ کر انسپریشن حاصل کر سکیں۔تیسرے انڈر 23گیمز2018کے فائنل راونڈ کی تیاریوں کی نگرانی ڈی جی کے پی کے سپورٹس بورڈ جنید خان براہ راست خود گراونڈ میں موجود رہ کر کر رہے ہیں۔جبکہ انکے ساتھی ڈائریکٹران اور عملہ بھی گذشتہ ایک ہفتہ سے اس تقریب اور ایونٹ کو کامیاب بنانے میں لگا ہوا ہے ۔ ان گیمز میں شرکت کے لئے آنے والے کھلاڑیوں آفیشلز اور والنٹیرزکو کے پی کے گیمز کی سابقہ روایت کے مطابق نئی کٹس جاگرز اور انکے متعلقہ کھیل کا سامان بھی کے پی کے سپورٹس بورڈ کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے ۔


کے پی کے انڈر23 گیمز پاکستان اپنی حیت اور نوعیت کی بنیاد پر تین سالوں میں پروان چڑھتے چڑھتے اس وقت پاکستان میں یوتھ کی سطح کا سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے ۔جس میں رواں سال صوبہ بھر سے گیارہ ہزار کے قریب کھلاڑیوں نے تحصیل۔ضلع اور ڈویثرنل لیول پر شرکت کی۔2017میں اس ایونٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار تھی جبکہ اس سے پچھے سال یعنی2016میں ان گیمز میں لگ بھگ ساڑھے چھ ہزار کھلاڑی شریک ہوئے تھے۔

ان گیمز کی خاص بات ان گیمز میں شرکت کرنے والے وہ مرد و خواتین کھلاڑی تھے اور ہیں جو ان تین سالوں سے قبل اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہ مل سکنے کے باعث کے پی کے کے دور دراز علاقوں میں اپنا بچپن پتھریلی اور سنگلاخ چٹنانوں پر گھومتے پھرتے گذار دیتے تھے گذشتہ تین سال سے کے پی کے حکومت کی ہیومن سکل ڈویلپمنٹ پالیسی اور نوجوانوں کو صحت مندانہ سر گرمیوں کی جانب لانے کے لئے اُٹھائے جانے والے اقدامات پر اب نہ صرف ان کھیلوں کے میدان میں اپنی قابلیت کے جو ہر دیکھا رہے ہیں بلکہ وہ بچیاں جو کھبی گھر سے باہر قدم نہ رکھ پاتی تھیں بھی بچوں کے ہمراہ کھیلوں کے میدانوں میں کھیلتی نظر آرہی ہیں بلکہ اپنا لوہا منوانے میں لگی ہوئی ہیں ۔