پاکستان ھاکی کا کپتان بچگانہ اور ناپختہ فیصلے کیوں کررھا ھے : نقطہ نظر, سید علی عباس

پاکستان جونئیرز ھاکی ٹیموں کے کوچز کی جانب سے خبر دی گئی ھے کہ پاکستان ڈویلپمنٹ ہاکی ٹیم دورہ اومان کرے گی
پاکستان ھاکی اس وقت تاریخ کے طوفانی سمندر میں تھپیڑے اور ھچکولے کھاتی کشتی کی مانند اپنی نامعلوم منزل کی جانب بڑھ رھی ھے ایسے وقت میں جب منزل کا تعین کرنا ھو تو کپتان کی پیشہ ورانہ مہارت سے ھی اس طوفان کا سامنا اور منزل کا تعین ھو سکے گا
اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ پاکستان ھاکی کا کپتان ایسے بچگانہ اور ناپختہ فیصلے کیوں کررھا ھے جو کہ اپنے وقت کا ایک ایسا کھلاڑی رھا جس کا اس میدان می. سکہ چلتا تھا۔ اب وہ ایک کھوٹے سکے کی حیثیت کیوں اختیار کرتا چلا جا رھا ھے؟ 
یہ مسلمہ حقیقت ھے کہ ایک شعبہ میں مہارت رکھنے والا دوسرے شعبہ میں اتنی ھی مہارت مشکل سے ھی دکھا سکتا ھے۔کچھ ایسا ھی معاملہ پاکستان ھاکی فیڈریشن میں چل رھا ھے۔ جہاں فیصلے کرنے میں جلد بازی، انتخاب میں کمزوری  یا غلط انتخاب، اقربا پروری اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا سہارا لیا جاتا ھے۔گذشتہ دنوں ایک معروف کوچ کو فیڈریشن کی جانب سےانکی تقرری پر مبارکباد کے سلسلہ میں فون کیا تو انھوں. نے انتہائی تاسف سے اس بات کا اظہار کیا کہ میں تو کوچ ھوں اور مجھے سلیکٹر لگا دیا ھے ۔ بات اس گلے کی نھیں، بات اس غلط فیصلے کی ھے اس انتخاب کی ھے جس میں معقولیت اور موزونیت کا فقدان ھے۔
کیا اومان مسقط کویت سعودی عرب دبئی قطر اور ان جیسے ممالک کی ٹیمیں پاکستان ہاکی ٹیم کی تیاری میں مدد دے سکتی ھیں؟ 
تو اس کا جواب ھر اس صاحب علم و دانش کے پاس موجود ھے جس کا ھاکی کی الف بے سے کبھی بھی تھوڑا سا واسطہ رھا ھو گا ایسے وقت میں جب لاھور ڈسٹرکٹ سے ڈار ھاکی اکیڈمی ھالینڈ کے دورہ پر گئی ھوئی ھے اور اپنے میچز کامیابی سے کھیل رھی ھے وھاں میری قومی ٹیم جس کو فیڈریشن ملک کا مستقبل بتا کر ھاکی کی بھتری کے لئے کوشاں ھے وہ ٹیم ماشاءاللہ سے اومان کا دورہ کرے گی۔ کیا پاکستان ھاکی فیڈریشن کے وسائل ڈار ھاکی اکیڈمی سے کم ھیں یا پاکستان ھاکی ٹیم کے کھلاڑی پڑوسی ملک سے مستعار لئے گئے ھیں؟ پاکستان ھاکی فیڈریشن کی ریکارڈ وقت میں پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے ریکارڈ رقوم کی وصولی اور اس کے بعد پاکستان ھاکی پر ماشاءاللہ بے دریغ پیسہ خرچ کرنے کے بعد پاکستان جونئرز کوچز دورہ اومان پر لے جا کر ٹیم کر کس مقابلہ کی تیاری کروارھے ھیں؟ 
اس امر کو باور کروانے کی بارھا سعی کی گئی ھے کہ سپورٹس مینجمنٹ، ایونٹ مینجمنٹ، کوچنگ، سلیکشن اور دیگر  شعبہ جات ایکسپرٹس سے خالی ھونگے تو پھر اس کا انجام ایک شاعر کے بقول وھی ھوگا
ھر شاخ پہ الو بیٹھا ھے
انجام گلستان کیا ھو گا