پاک ۔نیوزی لینڈ سیریز کیا سلیکش کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی ؟ کیا جنرل مزمل کو خوش کرنے کے لئے سلمان اور آصف کو ٹیم پر مسلط کیا جارہا ہے؟ کیا سلیکٹرز صدف حسین اور وقاص مقصود کو نظر اندز کر سکیں گے؟

اسلام آباد(سپورٹس ورلڈ نیوز) قومی کر کٹ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ اس بار ڈومیسٹک سیزن یعنی قائد اعظم ٹرافی اور دیگر ڈومیسٹک کر کٹ ایونٹس میں پرفارمنس کی بنیاد پر قوی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا بہت سے اہل اور قابل کھلاڑیوں نے اس بار قائد اعظم ٹرافی میں اپنی پرفارمنس کی بنیاد پر قومی کر کٹ ٹیم میں اپنی سلیکشن کی امیدیں لگا لی ہیں۔ان میں سے کچھ نئے اور چند ایک پرانے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ انہی کھلاڑیوں میں سے میچ فکسنگ میں سزا یافتہ سابق قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور انکے شریک جرم محمد آصف بھی شامل ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سلمان بٹ سبھی فارمینٹس میں اچھا پرفارم کر رہے ہیں مگر اسکے باوجود ماہرین کر کٹ کی ایک اچھی خاصی تعداد کا کہنا ہے کہ ابھی کم از کم انہیں ایک سال تک انٹر نیشنل کرکٹ سے دور رکھنا ہی بہتر ہے ۔ اسی طرح ماہرین کا خیال ہے کہ محمدآصف جواسوقت قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان واپڈا کی نمائندگی کر رہے ہیں کو بھی ابھی کم از کم دو سال تک انٹرنیشنل کر کٹ سے دور رکھنا ملک کے مفاد میں ہوگا کیونکہ محمد آصف ابھی تک مکمل طور پر نہیں سدھرے۔ ماہرین کر کٹ کے ان دونوں کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے رائے ایک جانب لیکن پی سی بی اور قومی سلیکشن کمیٹی اس حوالے سے اپنے تئیں یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم میں لیا جائے گا۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس حوالے سے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ میرٹ کے ساتھ ساتھ راج نیتی کے چلن کو ملا کر لیا جارہا ہے۔ راج نیتی کیسے ؟ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے اس سوال پر کہ وہ کیسے ؟ ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کہ چیرمین نجم سیٹھی پاکستان کر کٹ بورڈ کی نو منتحب بورڈ آف گورنرزکے رکن چیر مین پاکستان واپڈا کے لیفٹنینٹ جنرل(ر) مزمل حسین کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں یہ پیغام دے سکیں کہ وہ انکے ادارہ کے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کر رہے ہیں۔تا کہ وہ خاموشی کے ساتھ بورڈ آف گورنرز میں بیٹھے رہ سکیں اور نجم سیٹھی کے لئے مسائل کھڑے نہ کریں۔(یاد رہے کہ لیفٹنینٹ جنرل(ر) مزمل حسین کسی دور میں خود بھی پی سی بی کی چیرمین شپ کے خواہشمند رہ چکے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے کافی ہاتھ پاوں بھی مارے تھے،مگر انکی دال نہیں گل سکی تھی۔ مگر اس کے باوجود بورڈ اس وقت پاکستان کر کٹ بورڈ کے بورڈ آٖ ف گورنر میں بیٹھے ہوئے وہ واحد شخص ہیں جو نجم سیٹھی کے لئے مسائل اور سوال کھڑے کر سکتے ہیں) دوسری جانب پی سی بی سلیکشن کمیٹی نے خود سے اپنے آپ عوامی سطح پر جس کر ائیٹیریا کا پابند بنانے کا اعلان کر رکھا ہے اسکے مطابق شائد سلمان بٹ کی تو کہیں اڑھ پھنس کر نیوزی لینڈ کے خلاف آنے والی سیریز میں جگہ بن جائے ۔لیکن اگر محمد آصف کو ٹیم پر مسلط کیا گیا تو یہ حق داروں کا حق مار کر ہی کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں ہوگا۔ قائد اعظم ٹرافی رواں سیزن میں اگر کھلاڑیوں کی پرفارمنس اور کار کردگی کو سامنے رکھا جائے تو اسلام آباد کے کھلاڑی صد ف حسین جنہوں نے ساٹھ میچز میں 350وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور وقاص مْقصود جنہوں نے49میچز میں201وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں(یہ وہی وقاص مقْصود ہیں جنہوں نے گذشتہ روز ہی واپڈا کی جانب سے باولنگ کراتے ہوئے ایک اننگز میں 32رنز پر9کھلاڑی آوٹ کرنے کا کارنام سر انجام دیا ہے۔اور اس سے اگلی اننگز میں 9رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر41رنزکے عوض12کھلاڑیوں کو آوٹ کر کیا) کو نظر انداز کر کے محمد آصف کو ٹیم میں سلیکٹ کر نا ظلم اور زیادتی سے کم نہیں ہوگا۔