پا کستان اولمپک ایسوسی ایشن نے صدر پاکستان کو پی او اے کے پیٹرن انچیف اور چاروں گورنرز کو صوبائی اولمپک کی پیٹرن شپ سے ہٹاتے ہوئے عہدے ہی ختم کر ڈالے

لاہور (صوفی ہارون سے ۔ سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان اولپمک ایسوسی ایشن کے آئین میں تبدیلیوں کے حوالے سے لاہور میں بلائے جانے والے اجلاس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بطور پیٹرن انچیف اور چاروں صوبوں کے گورنرز جو کہ پی او اے کے آئین کی رو سے صوبائی اولمپکس ایسوسی ایشنز کے صوبائی پیٹرنز ہوتے ہیں کو انکے عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ، اپنے آئین سے سرے سے یہ عہدے ہی ختم کر دئیے ہیں۔ لگ بھگ پندرہ سال سے پی او اے پر قابض قبضہ مافیا نے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور چاروں صوبوں میں وفاق پاکستان کے نمائندہ گورنرز کو ان عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ریاست پاکستان کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ ریاست پاکستان اور اسکے سربراہ کو نہیں مانتے ۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حوالے سے پی او اے کے آئینی ترامیم کے لئے بلائے گئے اس اجلاس کے ایجنڈا میں جہاں دوسرے پوائینٹس کو ڈسکس کرکے ان پر رائے مانگی گئی تھی تاکہ انہیں منظور کر کے آئین کا حصہ بنایا جا سکے ۔ وہاں پی او اے کے پیٹرن انچیف اور صوبائی اولمپکس ایسوسی ایشنز کے معاملہ کو لیکرپہلے ہی ا یجنڈا میں لکھ دیا گیا تھا پیٹرن انچیف اور صوبائی پیٹرنز کے عہدے ہی ختم کر دئیے گئے ہیں۔


سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ذرائع کے مطابق پی او اے کے آج ہونے والے اجلاس میں جہاں صدر مملکت پی او اے اور چاروں صوبائی گورنرز کو بطورصوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز کے پیٹرنز کے عہدے ختم کر کے تبدیلی سرکار کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ انکی نظر میں حکومت اور ریاست دونوں کی کوئی اہمیت نہیں وہیں انہوں نے پی او اے کے ہاوس میں دو مذید ووٹ بھی بنا لئے ہیں ۔یہ ووٹ سکولز اولمپک اور ٹریڈیشنل سپورٹس کے نام پر بنائے گئے ہیں ۔اس حوالے سے سپورٹس ورلڈ ایک ہفتہ پہلے ہی اپنی خبر میں انکشاف کر چکا ہے کہ پی او اے اپنی دو من پسند تنظیمیں بنا کر انکو الحاق دینے اور ووٹنگ رائیٹ دینے جا رہا ہے۔ جسکا مقصد آئندہ پی او اے الیکشن میں اپنے یکطرفہ ووٹوں میں دومذید ووٹس کا اضافہ کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پی او اے پر قابض مافیا نے سولہ انفرادی ووٹس بنا رکھے ہیں۔ جنکا انتخاب پی او اے کے حکام من مرضی سے کرتے ہیں۔ انکے انہی سولہ ووٹوں نے پچھلی بار بھی انکی کامیابی یقینی بنائی تھی ۔اور اب کی بارآئندہ ہونے والے پی او اے کے انتخابات میں ان دو ووٹوں کے اضافہ کے بعد پی او اے کے خود ساختہ ووٹوں کی تعداد 18ہوجائے گی۔
سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدر مملکت کو کو پی او اے کے پیٹرن انچیف کے اور چاروں صوبائی گورنرز کو صوباائی اولپمک ایسوسی ایشنز کے پیٹرنز کے عہدے سے ہٹنانے کے معاملہ کو لیکر ماسوائے صدر پاکستان اتھلیٹکس ایسوسی ایشن جنرل (ر) اکرم ساہی کسی بھی فیڈریشن کے عہدیدار نے سوال نہیں اُٹھایا۔ اجلاس کے دوران جنرل (ر) اکرم ساہی نے اس معاملہ کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے پی او اے مافیا کے سامنے موقف رکھا کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک صدر مملکت پیٹرن انجیف چلے آرہے ہیں اب ستر سال بعد سربراہ مملکت کو اس عہدے سے ہٹانا صدر مملکت کے عہدے ہی کی نہیں ریاست کی بھی توہین ہے۔ جسپر پی او اے اراکین نے انکی ایک نہ سنی ، صدر مملکت کو پیٹرن کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے آئین سے اس عہدے کو ہی ختم کرنے کی منظوری دے دی۔