پشاور کا دورہ زندگی بھر یاد رہے گا قطر، لبنان، نیپال اور تائیوان کے سپورٹس جرنلسٹس کا دورہ پشاورکے موقع پر اظہار خیال

رپورٹ :  خالد خان تصاویر: عاصم شیراز .  پشاور سے تعلق رکھنے والے عظیم سکواش کھلاڑیوں نے ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ قمر زمان  یونی ورسٹی آف پشاور کے ڈائریکٹرسپورٹس بحر کرم نے غیر ملکی سپورٹس جرنلسٹس کو کلاہ اور لنگی پیش کی مہمان سپورٹس جرنلسٹس نے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو خون فراہم کرنے والے ادارے فرنٹئیر فاؤنڈیشن کا دورہ بھی کیا ڈائریکٹر سپورٹس خیبرپختون خواجنید خان کی جانب سے مہمانوں کے اعزاز میں یادگار تقریب کا انعقاد سپورٹس جرنلسٹس کی پشاور آمد نیک شگون ہے، اسفندیار خان خٹک سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کی جانب سے مہمانوں کا والہانہ استقبال سپورٹس جرنلسٹس ہوں یا زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی شخصیت ،اگر آپ انہیں دورہ پاکستان کا کہیں تو وہ چند لمحے سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور اگر آپ انہیں دورہ پشاور کا کہہ دیں تو کچھ سوچے بغیر ہی وہ انکار کر دیتے ہیں لیکن سپورٹس جرنلسٹس کے قائد امجد عزیز ملک جو اب ایشیائی سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل بن چکے ہیں اور سارے ایشیا کے سپورٹس جرنلسٹس کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں

۔اکتوبر میں جب اسلام آباد میں ایشیائی سپورٹس جرنلسٹس کی کانگرس ختم ہوئی تو انہوں نے چار ممالک کے سپورٹس جرنلسٹس کو دورہ پشاور کی دعوت دی اور انہیں بہ نفس نفیس پشاور لے آئے۔ ان میں قطر کے مبارک البو نین، نیپال کے نرنجن راجبانسی اور تیمالسینا پرکاش،لبنان کے محمد باسم اور چائینز تائی پی (تائیوان) کی مس ہیلن چی شامل تھیں۔پشاور پہنچنے پر تمام مہمانوں کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیا۔خیبر پختون خوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن نے مہمانوں کو والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں روایتی چادریں اور تحائف پیش کئے گئے۔پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اور صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سید عاقل شاہ اور فاٹا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر شاہد خان شنواری کے علاوہ ملک سعد میموریل سپورٹس ٹرسٹ کے اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔سید عاقل شاہ نے امجد عزیز ملک کو ایشیا کا سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور یقین ظاہر کیا کہ وہ ایشیا بھر میں سپورٹس جرنلزم کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے

۔انہوں نے غیر ملکی سپورٹس جرنلسٹس کو پشاور آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پشاور سے بھی امن کا پیغام اور خوش گوار یادیں لے کر واپس جائیں گے۔خیبر پختون خوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جہانزیب صدیق اور سیکرٹری جنرل عاصم شیراز نے بھی مہمانوں کو پشاور آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔اگلی صبح مہمانوں کے لئے دن بھر کئی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے پیش نظر انہوں نے انتہائی مصروف ترین د ن گذارا۔صبح یونی ورسٹی آف پشاور کے ڈائریکٹرسپورٹس اور سابق انٹرنیشنل اتھلیٹ بحر کرم نے غیر ملکی سپورٹس جرنلسٹس کے اعزاز میں سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں انہیں روایتی کلاہ اور لنگی پہنائی گئی۔مہمانوں نے زیر تعمیر سکواش کورٹس بھی دیکھے ۔انہیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی معیار کے سکواش کورٹس تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد یہاں سکواش کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ منعقد کیا جائے گا۔سپورٹس جرنلسٹس کو اسلامیہ کالج لیجایا گیا جہاں انہوں نے تاریخی درس گاہ کے بارے میںآگاہی حاصل کی اور عمارت کے سامنے تصویر بھی بنوائی۔اسلامیہ یونی ورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس عرفان اللہ مروت نے یونی ورسٹی کی کھیلوں میں کارکردگی سے متعلق بتایا۔وفد میں شامل اراکین نے انسپکٹر جنرل خیبر پختون خوا صلاح الدین محسود سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلا ح الدین خان محسود کا کہنا تھا کہ کھیل نو جوانوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور خیبرپختونخوا کے علاوہ قبائلی کھلاڑی بھی آجکل ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

آئی جی پی کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے ذریعے دوستی کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ غیر ملکی ٹیمیں نہ صرف پاکستان کا دورہ کریں بلکہ پشاور اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں بھی آئیں ہم فول پروف سیکورٹی فراہم کریں گے۔ صلا ح الدین خان محسودنے کہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرکے انہیں بہتر ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت صوبے کاروایتی امن دوبارہ بحال ہو چکاہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ صوبے کے امن و آمان کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دہشت گردی اور دیگر جرائم کی شرح پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آئی جی پی نے وفد کوبتایا کہ ہم نے بڑا مشکل وقت گزارا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فورس کے تقریباً 1500 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ تاہم پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جو قربانیاں دی ہیں اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ یہاں سیکورٹی کاکوئی مسئلہ نہیں۔ تمام لوگ اپنے اپنے روزگار اور کاروبارمیں بلا خوف و خطر مصروف ہیں۔ غیر ملکی بالخصوص میڈیا کے نمائندے یہاں آکر حالات کابذات خود جائیزہ لیکر دنیا کو صحیح صورتحال سے بخوبی آگاہ کرسکتے ہیں۔ آئی جی پی نے صحافیوں کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے دوروں سے دوستی کے رشتے مضبوط ہو کر آپس میں بہتر تعلقات کو فروغ ملے گا۔

وفد کے ارکان نے اس موقع پربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ وہ پاکستان کے دورے پرآئے ہیں۔ اور بالخصوص پشاور میں سیکورٹی کے حوالے سے جو باتیں سنی تھیں ان سب باتوں کو حقائق کے برعکس پایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پشاور کے مختلف بازاروں میں گھومے پھرے اور یہاں پر اپنے آپ کو بہت زیادہ محفوظ پایا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی تعریف کی۔ آئی جی پی نے وفد کے ارکان کو یادگاری پولیس شیلڈ بھی پیش کی۔وفد نے ملک سعد میموریل سپورٹس ٹرسٹ اور اے آئی پی ایس ایشیا کے سیکرٹری جنرل کے دفتر کا دورہ کیا جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔بعدازاں مہمان سپورٹس جرنلسٹس نے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو خون فراہم کرنے والے ادارے فرنٹئیر فاؤنڈیشن کا دورہ کروایا گیا جہاں انہیں فاؤنڈیشن کے چئیرمین صاحبزادہ حلیم اور ڈاکٹر فخر زمان نے بتایا کہ ان کا ادارہ گذشتہ 24 برسوں سے علاج کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے اور صوبے میں پشاور کے علاوہ کوہاٹ اور سوات میں بھی فرنٹئیر فاؤنڈیشن تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو انتقال خون کی مفت سہولت فراہم کرتا ہے۔مہمانوں کو بتایا گیا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت قائم ہونے والے ادارے نے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔اس موقع پر مبارک البونین نے کہا کہ وہ ادارے کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قطر کے مخیر افراد کو ادارے کی کارکردگی سے متعلق بتائیں گے اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔اس موقع پر فرنٹئیر فاؤنڈیشن کے چئیرمین صاحب زادہ حلیم نے مہمانوں کو شیلدز بھی پیش کیں۔

سپورٹس جرنلسٹس کی اگلی منزل پاکستان ائیر فورس کا ہاشم خان اسکواش کمپلیکس تھا جہاں صوبائی سکواش ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر سابق سکواش چیمپئن قمر زمان نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ مہمانوں کے خواتین مقابلوں کا فائنل دیکھا اور انعامات تقسیم کئے۔اس موقع پر قمر زمان نے بتایا کہ پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جس نے سکواش کے ساتھ عالمی چیمپئن پیدا کئے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے عظیم سکواش کھلاڑیوں نے ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ قمر زمان نے کہا کہ پشاور اور سارا پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک مشکل حالات سے دوچار رہا لیکن اب صورت حال بہتر ہو گئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

لبنان، قطر، نیپال اور تائیوان کے سپورٹس جرنلسٹس کے پانچ رکنی وفد نے خیبر پختون خوا کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس جنید خان اور ڈائریکٹر یوتھ آفیئرز اسفند یار خان خٹک کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ میں شرکت کی اس موقع پر مہمانوں کا ناقابل فراموش استقبال کیا گیا ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اور ڈائریکٹر یوتھ آفیئرز بہ نفس نفیس موجود تھے جنہوں نے مہمانوں کا استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس جنید خان نے کہا کہ خیبر پختون خوا عظیم کھلاڑیوں کی سرزمین ہے جس نے لگ بھگ سبھی کھیلوں میں نامور کھلاڑی جنم دئیے جنہوں نے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت صوبے میں کھیلوں کی ترقی و فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے غیر ملکی مہمانوں کو پشاور خوش آمدید کہا اور یقین ظاہر کیا کہ وہ یہاں سے خوش گوار یادیں لے کر اپنے وطن واپس لوٹیں گے۔ڈائریکٹر یوتھ آفیئرز اسفند یار خٹک کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سپورٹس جرنلستس کا دورہ پشاور نیک شگون ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور خیبر پختون خوا میں خاص طور پر نوجوانوں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ ملک و قوم کے لئے مستقبل میں نمایاں خدمات انجام دیں۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بہت جلد انٹرنیشنل میراتھن کا انعقاد کیا جائے گا جس میں دو ہزار کے لگ بھگ اتھلیٹس حصہ لیں گے۔مہمانوں کو روایتی قالین اور پشاور چپل کے تحفے پیش کئے گئے۔ اس موقع پر غیر ملکی سپورٹس جرنلسٹس نے یادگار میزبانی پر میزبانوں کا شکریہ ادا کیا۔