پی ایس ایل میں شامل فرنچائز نے پی سی بی کی مفت بر پارٹی کی اپنے(فرنچائزز کے) ٹیلنٹ ہنٹ پروگراموں میں پی سی بی کو پارٹنربنانے کی تجویز مسترد کر دی

لاہور (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان کر کٹ بورڈ میں موجود مفت بر پارٹی کے بڑوں نے پی ایس ایل میں شامل فرنچائز سے مال بنانے کے لئے اور ملک میں نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش میں اپنی ناکامی کے بعد فرنچائز کی جانب سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے فرنچائز کو اپنے پروگرامز میں پی سی بی کو پار ٹنر بنا نے کی تجویز دی ہے جسے فرنچائز نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا،اور اپنے پروگرامز پہلے کی طرح خود چکانے کا عندیک دے ہے تفصیلات کے مطابق سب اچھا ہے کا نعرہ لگانے والے پاکستان کرکٹ بورڈ سسٹم میں سنگین قسم کی خامیاں ہیں لیکن ان خامیوں سے جان بوجھ کر بچا جاتا ہے اور دوسروں کے کامیاب منصوبوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ، پی ایس ایل فرنچائزوں کے ساتھ ٹیلنٹ ھنٹ پروگرام کرانا چاہتا تھا لیکن فرنچائز مالکان نے اپنے ٹیلنٹ ھنٹپروگرام کو بورڈ کے اشتراک سے کرانے سے انکار کر دیا۔ پیر کو لاہور میں نجم سیٹھی کی صدارت میں فرنچائز مالکان نے طویل میٹنگ کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ ہارون رشید نے تجویز دی کہ تمام فرنچائز اپنے ٹیلنٹ ھنٹ پروگرام کو بورڈ کے اشتراک سے کرائیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس اسکیم میں برابر کا پیسہ لگانے کو تیار ہے۔ لیکن فرنچائز مالکان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے اسپانسرز کے ساتھ مل کر یہ اسکیم ڈیزائن کی ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اس منصوبے میں بورڈ کو ساتھ ملائیں۔ فرنچائز مالکان کا مزید کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ پہلے ہی ٹیلنٹ ھنٹ منصوبوں پر کام کرتا ہے، وہ علیحدہ اپنے منصوبوں کو جاری رکھے، پاکستان کرکٹ بورڈ کئی سالوں سے یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کرارہا ہے، اس لئے فرنچائز اس کام میں کسی کو ساتھ ملانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہارون رشید نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی فرنچائز دس لاکھ روپے لگاتی ہے تو ہم اس میں برابر پیسہ دیں گے، فرنچائزوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پروگرام میں کسی کو شراکت نہیں دے سکتے اور آزادانہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ واضع رہے کہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز کا پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ لاہور قلندر اس پروگرام میں سب سے آگے ہے جس نے اپنی ٹیم کو مسلسل دوسرے سال آسٹریلیا بھیجا اس وقت لاہور کے چار کھلاڑی آسٹریلوی کلبوں کے لئے کھیل رہے ہیں۔ لاہور قلندرز کے علاوہ پشاور زلمی،کراچی کنگز،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹیڈ بھی الگ الگ پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام چلارہے ہیں۔