پی ایچ ایف کی جانب سے ہال آف فیم ایوارڈ ز کے لیے اعلان کی جانے والی 4 رکنی کمیٹی کے 3 ممبران نے اس سے اظہار لاتعلقی کردیا.

اسلام آباد(اسپورٹس ورلڈ نیوز) پی ایچ ایف کی جانب سے ہال آف فیم ایوارڈ ز کے لیے اعلان کی جانے والی 4 رکنی کمیٹی کے 3 ممبران نے اس سے اظہار لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے فیڈریشن کی جانب سے از خود اختراع قرار دیا ہے، پی ایچ ایف کے سیکریٹری جنرل ا اولمپئین شہباز احمد کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) محمد خالد کھوکھر کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ہال آف فیم کمیٹی میں سابق قومی کپتان اورفیڈریشن کے موجودہ چیف سلیکٹر اولمپئن اصلاح الدین ،اولمپئن شہناز شیخ ،اولمپئن سمیع اللہ اور اولمپئن منظور الحسن کو شامل کیا گیا ہے ، بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی کے ارکان پاکستان میں ابین الاقوامی اور اہم قومی ہاکی ایونٹس میں نمایاں کاکرکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں میں سے اہلیت کی بنیاد پر ایوارڈز کے لیے پی ایچ ایف کو سفارش فراہم کریں گے،اس کمیٹی کا پہلا ٹاسک پی ایچ ایف کے زیر اہتمام دوسرے ہال آف فیم پاکستان ایوارڈز کے لیے کھلاڑیوں کے ناموں کو فائنل کرنا ہے ، اس ضمن میں گزشتہ روز لاہور میںپاکستان ہاکی فیڈریشن کے ہیڈ آفس میں اجلاس ہوا ،اجلاس میں پاکستان میں14سال بعد ہونے والے انٹرنینشل ایونٹ کے انعقاد کے سلسلے میں ابتدائی جائزہ لیا گیا ، دوسری جانب رابطے پر کمیٹی میں شامل کیے جانے والے تین ارکان سابق قومی کپتان اولمپئین سمیع اللہ خان، اولمپئین شہناز شیخ اور اولمپئین منظور الحسن سینیئر نے اپنی شمولیت سے لاعلمی ظاہر کردی، ان کا کہنا ہے کہ انہیں علم ہی نہیں ہے کہ وہ مزکورہ کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں، اپنے دور کے نامور فل بیک اولمپئین منظور الحسن سینیئر نے کہا کہ کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، اور نہ ہی اس ضمن میں پی ایچ ایف کی طرف سے کوئی مشاورت کی گئی، مجھے معلوم نہیں کہ بلا رضا مند ی میرا نام کمیٹی میں کیسے شامل کر لیا گیا، دوسری طرف پہلے ہال آف فیم ایورڈز پانے والوں میں شامل سابق قومی کپتان اولمپئین شہناز شیخ نے بھی کمیٹی میں اپنی شمولیت پر قدرے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں، تاہم انہوں قدرے محتاط انداز میں کہا کہ میں ان دنوں سیالکوٹ میں موجود ہوں، ممکن ہے کہ فیڈریشن نے مجھے اسلام آباد کے رہائشی ایڈریس پر اس حوالے سے کوئی لیٹر ارسال کیا ہو، فیڈریشن کے ایک بڑے ناقد و سابق قومی کپتان اولمپئین سمیع اللہ خان نے بھی اس اعلان پر حرناگی کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہونے والی پی ایچ ایف از خود ایسے فیصلے کر رہی ہے، اس ضمن میں مجھ سے کوئی مشاورت یا رائے نہیں لی گئی اور میری رضامندی حاصل کیے بغیر خود بخود مجھے کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا جو میرے لیے تعجب اور حیرت کا باعث بنا واضح رہے کہ ماضی میں بھی پی ایچ ایف نے متعدد مرتبہ سابق قومی کھلاڑیوں کو مختلف کمیٹیوں میں شامل کرنے کے اعلانات کیے ، لیکن ان کی جانب سے بھر پور تردید آتی رہی، پاکستان ہاکی کے ٹاپ اسکوررز میں شامل سابق اولمپئین وسیم فیروز کو قومی ویمن ہاکی ٹیم کا سلیکٹر بنانے کا اعلان کیا گیا تو انہوں نے اس کی سختی کے ساتھ تردید کر دی تھی