ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم..اولمپیئن منصور احمد کی کھیلوں کی خدمات پر ایک مختصر تحریر..ایم وقاص شیخ کے قلم سے..!

کراچی(ایم وقاص شیخ -اسپورٹس ورلڈ نیوز)سابق گول کیپر اولمپیئن منصور احمد کا رضائے الہی سے انتقال ہوگیا ہے.جنکی نماز جنازہ دوپہر 1:15 بجے ڈیفنس فیز 5 سلطان مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین ڈیفنس فیز 1 کے قبرستان میں ادا کی جائے .اولمپیئن منصور احمد 7 جنوری 1968 کو کراچی میں پیدا ہوئے ، پی اے ایف انٹرکالج سرگودھا کے بعد ڈی جے سائنس کالج کراچی میں زیر تعلیم رہے، انھوں نے مجموعی طو رپر 338 میچز کھیلے ، ان کو 3 مرتبہ اولمپک کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا، انھوں نے 1990 اولمپک کی سلور میڈلسٹ ٹیم کے لئے نمایاں کارکردگی دکھائی ، مسلسل 3 مرتبہ عالمی کپ کھیلنے کا اعزاز پانے والے منصور احمد 1994 کی عالمی کپ کی فاتح پاکستان ٹیم کا حصہ رہے، انھوں نے 10 مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کھیلی، جبکہ 1994 کی چیمپئنز ٹرافی میں گولڈ میڈل پانے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے، انھوں نے 3 مرتبہ ایشین گیمز کھیلا ، 1990 بیجنگ ایشین گیمز کی گولڈ میڈلسٹ ٹیم کے رکن تھے، انھوں نے مجموعی طور پر انٹرنیشنل ہاکی ٹورنامنٹس میں 12 گولڈ اور اتنے ہی سلور جبکہ 8 برانز میڈلز حاصل کیے ، 1998 میں حکومت پاکستان نے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اولمپئن منصور احمد کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا ،1996 میں آل ایشین اسٹارز ہاکی ٹیم کے رکن بھی رہے ، 1994 میں ان کو ورلڈ الیون میں شامل کیا گیا ، اس برس ایف آئی ایچ نے منصور احمد کو دنیا کو بہترین گول کیپر قرار دیا، وہ چار مرتبہ انٹرنیشنل ایونٹس میں بہترین گول کیپرقرار پائے ، بعد ازاں انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 2000 میں پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ مقرر ہوئے ، بعد ازاں 2010 میں پی ایچ ایف کے ڈائریکٹر اکیڈمک بھی رہے۔ ان کے پاس ہائی پرفارمنس کوچنگ ڈپلومہ بھی ہے ، منصور احمد کو 2014 میں بنگلہ دیش کی قومی ہاکی ٹیم کا اسپیشلسٹ گول کیپنگ کوچ بنایا گیا، منصور احمد سماجی سرگرمیوں میں سرگرم رہے ، حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی سے پرہیز کی مہم میں ان کو ایمبسیڈر مقرر کیا، منصور احمد کو 2015 میں امریکی کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والے اسپیشل اولمپکس میں بطور مہمان مدعو کیا گیا۔ وہ فیفا کے اسپیکر بھی رہے جبکہ منصور احمد کو 2022 میں قطر کے شہر دوحا میں ہونے والے عالمی کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے اسپیکر کا بھی اعزاز دیا گیا.منصور احمد کو اسپورٹس دنیا میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد کیا جائے گا.