..کامن ویلتھ گیمز.”گوجرانوالہ”کے سپوتوں کی فتوحات سے کانسی کے تمغوں کی ہیٹرک ،گوجرانوالہ چمپئنز کا شہر خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک

.مجھے فخر ھے کہ خوش قسمتی سے میرا تعلق ” پہلوانوں کے  شہر”گوجرانوالہ” سے ھے  گوجرانوالہ  کے تین نامور سپوتوں نے اس
بارآسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں تین تمغے جیت کر دنیا پر ثابت  کر دیا کہ ‘گوجرانوالہ چمپئنز کا شہر بن چکا ھے ،آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں پاکستان کے دو ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے ویٹ لفٹگ  مقابلوں میں کانسی کے تمغے حاصل کیے جبکہ محمد بلال نے بھی کانسی کے تمغے کے ساتھ پاکستان کےلئے کل جیتے گے  تمغوں کی تعداد تین کر دی ھے ۔پہلوانوں کا   شہر”گوجرانوالہ” پاکستان کا ایک کھیلوں سے محبت کرنے والوں کا  شہر ہے جو لاہور سے تقریباً 60 کلومیٹر دورشمال  کی جانب واقع ہے۔2017ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کا پانچوں بڑا شہر ہے اوراسکی سطح سمندر سے بلندی 744 فٹ ہے۔ اسے پہلوانوں کا شہرکہا جاتا ہے ” پہلوانوں کا شہر” 40 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل  شہرفن پہلوانی کی وجہ سےتو  مشہور ہے وہیں کھانے پینے میں بھی اپنا منفرد مقام رکھتا ہے اور یہ بات زبان زدِ عام پر مشہور ھے کہ گوجرانوالہ والے کھانے کے معیار اور مقدار دونوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔اور یہ فارمولا وہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی استعمال کرتے ہیں کہا جاتا ھے کہ  ”پہلوانوں کے  شہر”کی آدھی آبادی کھانا بنانے اور آدھی کھانے میں مصروف رہتی ہے اور پھر کھانا ہضم کرنے کے بہانے کسی نہ کسی محنت طلب کھیل میں حصہ لیتے ہیں  یہاں کے باسیوں کو صبح کے ناشتے کی میز پر ہی ظہرانے اور دوپہر کے کھانے پر ہی عشائیے کی فکر ستانے لگتی ہے۔اس شہر میں دوپہر کے کھانے کا سلسلہ بھی شام پانچ بجے تک چلتا ہے اور پھر ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد ریستوران رات کے کھانے کے لیے دوبارہ کھل جاتے ہیں.
امپیریل گزٹ آف انڈیا کے مطابق گوجرانوالا کو گجروں نے آباد کیا اور بعد میں ایران کے شیرازی قبیلے نے اس شہر کا نام خان پور سانسی رکھا تاہم بعد میں اس کا پرانا نام بحال ہو کر گوجرانوالہ ہو گیا. پہلوان محمد بلال کو  سیمی فائنل میں انڈیا کے پہلوان راہل آورے نے شکست دی تھی اور راہول آورے اس کیٹیگری میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔تاہم محمد بلال نے  کانسی کے تمغے کے میچ میں کامیابی حاصل کی جس کے  ساتھ پاکستان کے کامن ویلتھ گیمز میں تمغوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔پہلوان محمد بلال سے قبل پاکستان کے دو ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے بھی اپنے مقابلوں میں کانسی کے تمغے حاصل کیے،آسٹریلیا کامن ویلتھ گیمز میں کُشتی کے 57 کلوگرام فری سٹائل کُشتی کے مقابلوں میں پاکستان کے محمد بلال نے انگلینڈ کے جارج رام کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا،گولڈ کوسٹ میں ہونے والے اس مقابلے میں محمد بلال نے ایک کے مقابلے میں چھ پوائنٹس سے فتح حاصل کی۔ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب کی طرح 22 سالہ محمد بلال کا تعلق پاکستان کے ضلع  پہلوانوں کا شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب ویٹ لفٹرز کا تعلق پہلوانی ،کبڈی اور ویٹ لفٹنگ کے لیے مشہور گوجرانوالہ شہر سے ہے اور حسن اتفاق سے ان دونوں کو ویٹ لفٹنگ کا شوق ورثے میں ملا ہےکامن ویلتھ گیمز میں کانسی کے تمغے جیتنے والے پاکستانی ویٹ لفٹرز نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب کو طلائی تمغہ نہ جیتنے کا افسوس  ضرور ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کانسی کا تمغہ ان کےلیے پہلا قدم ہے گولڈ میڈل  ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔بیس سالہ نوح دستگیر بٹ کے والد غلام دستگیر بٹ پانچ مرتبہ کے ساؤتھ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اور ریکارڈ ہولڈر ہیں جنہوں نے اٹھارہ مرتبہ قومی چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
اب ان کی پوری توجہ اپنے بیٹوں پر مرکوز ہے۔ نوح کے چھوٹے بھائی بھی قومی جونیئر چیمپین ہیں۔نوح دستگیربٹ نے  کہا ’میرے والد کی دیرینہ خواہش ہے کہ میں ورلڈ اور اولمپک میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتوں اور وہ مجھ پر بہت محنت کرتے ہیں۔‘’ہمارا ذاتی جم ہے جس میں میں روزانہ سخت ٹریننگ کرتا ہوں۔  مجھے اپنے والد کی نگرانی میں ٹریننگ کی سہولت موجود ہےنوح دستگیر بٹ نے گذشتہ سال گولڈ کوسٹ میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی وہ طلائی تمغے کی امید لیے آسٹریلیا پہنچے تھے۔’میں دو سال سے کامن ویلتھ گیمز کی تیاری کررہا تھا گذشتہ سال میں نے جونیئر میں گولڈ اور سینئر میں سلور میڈل جیتا تھا لہذا میں کافی پرامید تھا کہ اس بار بھی اچھے نتائج دوں گا لیکن گولڈ میڈل نہ جیتنے کا بہت دکھ ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان گیمز میں مقابلوں کا معیار بہت سخت ہے دوسری بات مقابلوں کے دوران میرا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا اور خون بہنے لگا تھا لیکن اس کے باوجود میں نےمقابلہ جاری رکھا ،نوح دستگیر بٹ کو پورا یقین ہے کہ وہ ورلڈ اور اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔’کانسی کا یہ تمغہ دراصل میرے لیے پہلا قدم ہے۔ اب میں زیادہ محنت کروں گا تاکہ ایشین گیمز ورلڈ چیمپئن شپ اور اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت سکوں۔ میں دو سو تیس کلوگرام تک آچکا ہوں اور اولمپکس کے لیول سے صرف تیس کلوگرام پیچھے ہوں اور وہ وقت دور نہیں جب میں اس لیول تک بھی پہنچ سکوں۔نوح دستگیر بٹ کے نزدیک ان کا اوڑھنا بچھونا ویٹ لفٹنگ ہی ہے۔اٹھارہ سالہ طلحہ طالب نے کامن ویلتھ گیمز میں نہ صرف کانسی کا تمغہ جیتا ہے بلکہ سنیچ میں تین نئے ریکارڈز بھی قائم کیے ہیں۔
وہ دو ہزار سولہ میں کامن ویلتھ یوتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں اپنی عمدہ کارکردگی پر سال کے بہترین ویٹ لفٹر بھی قرار پائے تھے۔’دوہزار چودہ میں گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز انہوں  نے ٹی وی پر دیکھے تھے اسوقتانکے  والد نے ان سے کہا تھا کہ اگلے گیمز تمہارے ہیں اور تم تمغہ جیتوگے۔ انہوں  نے ان کی بات پوری کردکھائی۔‘طلحہ طالب کے والد ایشین پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں تمغہ جیت چکے ہیں تاہم طلحہ طالب نے جو سیکنڈ ائر میں انفامیشن ٹیکنالوجی کے طالبعلم ہیں ویٹ لفٹنگ کو کریئر بناتے ہوئے ایشین اور کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب ان کی نظریں اولمپک گولڈ میڈل پر ہیں۔’پاکستانی ویٹ لفٹرز اولمپکس میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے بنیادی سہولتیں ضروری ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز کے لیے ساڑھے تین ماہ کا کیمپ لگا گوجرانوالہ ویٹ لفٹنگ کے لحاظ سے ایک اہم شہر ہے جہاں ویٹ لفٹنگ اکیڈمی کا قیام ضروری ہےادھر آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں شریک دو انڈین ایتھلیٹس کو ‘نو نیڈل’ پالیسی یعنی کسی قسم کے انجکشن کے استعمال پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔کامن ویلتھ گئیمز فیڈریشن (سی جی ایف) نے ٹرپل جمپر راکیش بابو اور ریس واکر عرفان کولوتھم تھودی کے اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں اور انھیں پہلی دستیاب فلائٹ سے اپنے ملک واپس جانے کے لیے کہا گیا ہے۔واضح  رہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں انڈین ٹیم کی جانب سے دو بار اس پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔صفائی کرنے والے عملے کے ایک اہلکار کو ان کے کمرے میں ٹیبل پر پڑے ہوئے ایک کپ میں سرنج ملی تھی جبکہ ایک آسٹریلین انٹی ڈوپنگ اہلکار نے بابو کے بیگ سے سرنج برآمد اور  انجکشن برآمد کئے  تھے۔
سی جی ایف کی سماعت کے دوران کامن ویلتھ گیمز کے صدر لوئز مارٹن نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے ‘ناقابل اعتبار اور ٹال مٹول’ کرنے والے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن نے کہا کہ ‘کوئی رعایت نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی رعایت نہیں ہے۔’فیڈریشن کی صدر کے مطابق ‘دونوں ایتھلیٹس کو معطل کر کے باہر نکال دیا گیا ہے۔’دونوں ایتھلیٹس نے سرنجوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ تین اپریل کو ایک بیمار باکسر کو وٹامن کا بلااجازت انجیکشن لگانے پر انڈین سکواڈ کے منتظمین کی سرزنش کی گئی تھی۔….کوسٹ: آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں قوانین کی خلاف ورزی اور مبینہ ڈوپنگ پر دو بھارتی ایتھلیٹس کو وطن واپس بھیج دیا گیا۔گولڈ کوسٹ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں انڈین ایتھلیٹس کے کمرے میں موجود کپ سے سوئی ملی تھی۔کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن kے صدر لوئس مارٹن کی زیر سربراہی معاملے کی سماعت ہوئی جس میں ٹرپل جمپر راکیش بابو، ریس واکر عرفان کلوٹھم تھوڑی اور انڈین ٹیم کے تین آفیشلز پیش ہوئے۔مارٹن نے  کہا کہ ایتھلیٹس کی گواہی ناقابل اعتبار اور وہ سچ بتانے سے قاصر ہیں، راکیش بابو اور عرفان کلوٹھم تھوڑی نے سوئی کے حوالے سے پالیسی کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ راکیش اور عرفان اب کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور اس پر فوری طور پر اطلاق ہو گا، دونوں کے ایکریڈیشن کو منسوخ کر کے انہیں ویلیج سے نکال دیا گیا ہے۔’ہم نے کامن ویلتھ گیمز ایسوسی ایشن آف انڈیا سے کہا ہے کہ ان دونوں کو پہلی دستیاب فلائٹ سے فوری طور پر بھارت بھیج دیں’۔مارٹن نے بتایا کہ بھارتی ٹیم کے تینوں آفیشلز کو تنبیہ بھی کی ہے اور انہیں یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم کا کوئی بھی آفیشل قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پایا تو اس کا ایکریڈیشن فوری طور پر ختم کردیا جائے گا۔
                                                                                                            خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک