پاکستان ھاکی فیڈریشن کا ایگزیکٹو بورڈ اوراسکی کمیٹیاں . تحریر: سید علی عباس

انٹرنیشنل سطح پر تو پتہ نھیں مگر پاکستان میں اس لفظ کو اب ذومعنی انداز میں سمجھا اور استعمال کیا جاتا ھے۔عام فھم زبان میں کسی مسئلہ میں رائے، راھنمائی، فیصلہ یا حل کے لئے ایک یا ایک سے زیادہ افراد کی تشکیل کمیٹی کہلاتی ھے جسکی مدد سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ھوسکتا ھے،
پاکستان ھاکی فیڈریشن کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ایک طویل عرصہ کے بعد برگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر کی سربراھی میں اسلام آباد میں منعقد ھوا جس میں  پی ایچ ایف کے ایگزیکٹو بوتڈ اراکین نے سابقہ میٹنگ کی منظوری سمیت دیگر امور پر کمیٹیاں بھی تشکیل دینے کی منظوری دی ان کمیٹیوں کا قیام آھم بھی ھے اور ضرورت بھی، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ایونٹس کو ان کمیٹیوں کے بغیر کور کرنا ممکن نھیں لیکن ھر مرتبہ انکے قیام کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نھیں ھو پاتے، اس کی بنیادی وجہ انکی غیرفعالیت اور نااہلیت ھے۔پاکستان ھاکی کے ساتھ المیہ یہ ھے کہ اس میں آمرانہ جمہوریت رائج ھے۔مالی معاملات سے لے کر کمیٹیوں کی تشکیل تک ھر فیصلہ آمرانہ انداز میں جہموری چھتری کے سائے تلے صادر کیا جاتا ھے۔ پاکستان ھاکی فیڈریشن کی ناک تلے پنجاب ھاکی ایسوسی ایشن نے گذشتہ دنوں گوجرانوالہ میں پنجاب ھاکی ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کااجلاس منعقد کروایا جس میں پنجاب ھاکی ایسوسی ایشن کے صرف چند اراکین  نے شرکت کی۔ ستم ظریفی یہ ھے کہ آئینی تقاضے پورے کرنے کے لئے گوجرانوالہ اور نواحی دیہات سے پکڑ کر افراد کو اجلاس میں بطور نمائندگان پنجاب بٹھایا گیا تاکہ تعداد ظاھر کرکے “مقاصد” پورے کئے جائیں مالی معاملات کی منظوریاں اور دیگر “اھم” امور نمٹا لئے جائیں لیکن یہ ڈرامہ بری طرح فلاپ ھوگیا۔ پنجاب ہاکی کے معاملات کے بگاڑ کا باعث اسکے متنازعہ صدر خواجہ ضرار کلیم اور سیکرٹری کرنل ریٹائرڈ آصف ناز کھوکھر ھیں جنکی اپنی تقرری کے بارے میں بے شمار انگلیاں اٹھی ھوئی ھیں۔ سیکرٹری پنجاب ھاکی ایسوسی ایشن آصف ناز، پاکستان ھاکی فیڈریشن کے صدر برگیڈئیر ر خالدسجاد کھوکھر کے بھائی ھیں اور یہی بات ان کی تقرری کا باعث بنی۔ پنجاب کے اجلاس کی ناکامی کوئی بڑی بات نھیں، رشوت سفارش اقربا پروری نے قومی کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ھے
ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں قومی کھیل کی پلاننگ ڈویلپمنٹ اور گراس روٹ لیول پر جامع انفراسٹرکچر کی تشکیل کے حوالے سے پاکستان ھاکی فیڈریشن کو جامع پلان ابھی تک متعارف نہ کرواسکی ھے اس کے برعکس متوازی تنظیم سازیاں گروپنگ اور الیکشن کی حکمت عملی پر زورشور سے کام جاری ھے۔ کے پی کے ھاکی ایسوسی ایشن کی نمائندگی کے بغیر ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ھونے کے عوامل میں یہ بھی بات بھی اھمیت کی حامل ھے کہ کے پی کے ھاکی ایسوسی ایشن کے ظاھر شاہ کو فیڈریشن کے مالی معاملات پر شدید اعتراضات  ھیں جس میں فنڈز کے بے دریغ استعمال اور بلاجواز غیر آئینی تقرریاں بھی شامل ھیں جس کا جواب شائد موجودی پی ایچ ایف مینجمنٹ کے پاس نھیں۔پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سابقہ مینجمنٹ کی جانب سےجہاں ایک جانب رپورٹ جمع نہ کروانے پر تاسف کا اظہار کیا گیا وہاں دوسری جانب سابقہ ھیڈکوچ خواجہ جنید نے پریس کانفرنس میں فیڈریشن کی طرف سینئر کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے کے احکامات کے فیصلے کو تنقید کرتے ھوئے کہا کہ مجھے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا جوکہ میں نے پورا کیا۔میں کچھ سینیر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنا چاھتاتھا لیکن صدر اور سیکرٹری پی ایچ ایف نے انکار کیا جسکے باوجود میں نے مطلوبہ ٹارگٹ پورا کیا لہکن اس ہے باوجود انکو ھٹا دینا سمجھ سے بالا تر ھے اس مرتبہ پھر کمیٹیوں کے قیام سے سسٹم جو دھکا لگا کر چلانے کی کوشش کی گئی ھے ضرورت اس امر کی ھے کی ان کمیٹیوں کو فعال اور باختیار بنایا جائے اور ان میں اقربا پروری اور سفارش سے پاک میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں تاکہ قومی کھہل کا وقار بحال ھو

سید علی عباس
ایم فل سکالر سپورٹس سائنسز
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ

صدر ڈسٹرکٹ ھاکی ایسوسی ایشن گوجرانوالہ