اتھلیٹکس : کوشش ہے کہ ایشین گیمز میں ٹرپل جمپ میں میڈل جیت کر پاکستان کا پرچم سر بلند کروں ۔ غیر ملکی کوچ پرفارمنس میں بہتری لا سکتے ہیں : محمد افضل

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) ایشین جو نئیر ٹرپل جمپ چیمپئین محمد افضل نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ آئندہ برس ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستان کے لئے ٹرپل جمپ میں میڈل جیت کر پاکستان کا پرچم سر بلند کروں،ایشین گیمز کو ٹارگٹ بنا کر سخت محنت کر رہا ہوں۔غیر ملکی کوچ پرفارمنس میں بہتری لانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں بہتر ٹریننگ سے کارکردگی اور نتائج میں بھی بہتری آتی ہے ان خیالات کو اظہار جونئیر ایشین ٹرپل جمپ چیمپئین محمد افضل نے آج یہاں اسلام آباد میں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پاکستان کے لئے ایشین جونئیر اتھلیٹکس چیمپئین شپ قطر میں گولڈ میڈل جیتنے اور سیف گیمز گوہاٹی میں پاکستان کے لئے براونز میڈل جیتنے والے پاکستان کے قابل فخر سپوت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں فٹنس مسائل کی وجہ سے وہ حصہ نہیں لے سکے ۔اگر انہیں فٹنس مسائل نہ ہوتے اور وہ ان گیمز میں حصہ لے سکتے تو یہاں سے بھی پاکستان کے لئے میڈل باآسانی نکل سکتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انکی انجری ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی ہے تاہم اسکے باوجود اور اپنی لائیٹ ٹریننگ کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایک آدھ ماہ میں انکی انجری صحیح ہو جائے گی ۔اور وہ بھر پور ٹریننگ کے بعد ایشین گیمز کے لئے اپنی بھر پور ٹریننگ کر سکیں گے۔ایشین جونئیر گولڈ میڈلسٹ محمد افضل کا کہنا تھا کہ وہ بطور جو نئیر کھلاڑی ویتنام اور چائینیز تائی پائی میں ہونے والے ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں ان دونوں ممالک میں انہوں نے قطر میں گولڈ میڈل جیتنے سے پہلے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2016 اور 2017نیشنل اتھلیٹکس چیمپئین شپ کے ٹپل جمپ کے گولڈ میڈلسٹ ۔ 2016 اور 2017 ہی میں ہونے والے کوئٹہ اور کراچی نیشنل گیمز کے لانگ جمپ کے سلور میڈلسٹ بھی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اے ایف پی کے سر براہ جنرل (ر) اکرم ساہی اور سیکر ٹری محمد ظفر دونوں فیڈریشن کے محدود وسائل کے باوجود کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اتھلیٹکس سے منسلک کھلاڑی ہر انڑنیشل مقابلے میں کسی نی کسی ایونٹ میں پرفارم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بطور کھلاڑی وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اے ایف پی کے پاس وسائل ہوں اور وہ ہمارے لئے فارن کوچز کا انتظام کر سکے تو ہمارے اتھلیٹس کی پرفارمنس مذید بہتر ہو سکتی ہے اور انٹر نیشل ایونٹس میں ہمارے میڈلز کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔ محمد افضل کا کہنا تھا کہ وہ پاک آرمی سے منسلک ہیں اور انکی جان مالمن دھن سب کچھ پاکستان کے لئے ہے جب بھی وہ میدان میں اُترتے ہیں انکے ذھن میں پاکستان کے پرچم کی سر بلندی کا عزم ہوتا ہے۔اور یہ عزم ہی انہیں ہمت طاقت اور حوصلہ دیتا ہے۔ محمد افضل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں حکومتی سطح پر اتھلیٹکس۔ ریسلنگ۔کبڈی۔والی بال۔باکسنگ ۔ فٹبال اور اسطرح کے عام آدمی کے کھیلوں کو پر موٹ کرنے اور اسکے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومت ان کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرے تو پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں ہونے والے مقابلوں میں ہر سطح پر پاکستان کے لئے کامیابیاں سمیٹ سکتے اور پاکستان کا پر چم سر بلند کرسکتے ہی

انکا کہنا تھا کہ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ کر کٹ ۔ کر کٹ کیوں کیا جاتا ہے اور اسکے کھلاڑیوں پر جیت کے بعد انعامات کی بارش کیوں کی جاتی ہے ہاں البتہ یہ ضرورکہوں گا کہ باقی کھیلوں کے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے جیسا کر کٹ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کامیابی کے بعد کیا جاتا ہے۔