اتھلیٹکس کوترقی دیئے بغیرکھیلوں کو فروغ نہیں دیا جا سکتا , اچھے کھلاڑی پیدا کرنےکے لیئے پہلے اچھے اتھلیٹس تیار کر نا ہونگے :سیکر ٹری پی اے اے ایف محمد ظفر

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) کھیلوں کی ماں اتھلیٹکس کو ترقی دئے بغیر پاکستان میں کھیلوں کو فروغ نہیں دیا جا سکتا لہذا ہمیں کسی بھی کھیل کے اچھے کھلاڑی پیدا کے کے لئے پہلے اچھے اتھلیٹس تیار کر نے ہونگے ،دنیا بھر میں وہی ممالک کھیلوں کے میدانوں میں چھائے ہوئے ہیں جن کے ہا ں اتھلیٹکس کی جڑیں مضبوط ہیں۔ کھیل آج کے دور میں انڈسٹری بن چکے ہیں لہذا مغرب کی طرح ہمیں بھی اس کو انڈسٹری سمجھ ٹریٹ کرنا ہوگا ۔کھیل، ثقافت اور سیاحت کے ساتھ لے کر چلنا ہوگا ایسے کھلاڑی پیدا کر نے ہونگے جنکی پرفارمنس دیکھ کر دنیا بھر کر اسپانسرز انکے پیچھے بھاگیں اور یہ کھلاڑی دنیا بھر سے پاکستان کے لئے عزت کمانے کے ساتھ ساتھ پیسہ کما کر ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ بھی لیکر آئیں ان خیالات کا اظہار سیکر ٹری پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن محمد ظفر نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو ایک خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے کہا کہپاکستان میں سب سے زیادہ کھیلے جانے والے کھیل کرکٹ کے پلئیرز ہی لے لیں اُنکا فٹنس لے لیول وہ نہیں جو اسوقت دنیا کرکٹ میں دیگر ٹیموں کا ہے ہاکی کے کھلاڑیوں کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہے خود انکے کوچز اور ٹرینرزمیڈیا کو بتا چکے ہیں کہ لڑکوں کا فٹنس لیول کچھ ہے ہی نہیں ۔ یہ سب ایسا کیوں ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اتھلیٹکس کی روایت مظبوط نہیں جوں جوں یہ مضبوط ہوتی جائے گی ہمارے کھلاڑیوں کی فٹنس کے مسائل بھی کم ہوتے جائیں گے ۔ ہمارے کھلاڑیوں اور ٹیموں کی پرفار منس بھی بہتر ہوتی جائے گی اور بین الاقوامی مقابلوں میں ہمارے اوپر کامیابیوں کے دروازے بھی کھلنا شروع ہوجائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد ظفر نے کہاکہ جنرل(ر) اکرم ساہی کی سر براہی میں کام کرنے والی پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کو اس بات کا احساس ہے کہ اس حوالے سے پی اے اے ایف پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جنرل(ر) اکرم ساہی کے ویژن کے مطابق ہم جونئیراتھلیٹس کو فوکس کر رہے ہیں اورملک میں اتھلیٹکس ازم کو پروان چڑھانے کے لئے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ملک بھر میں ایکٹویٹیز کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اس ضمن میں ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں جن میں کراچی۔حیدر آباد ۔لاہور۔فیصل آباد۔ملتان۔کوئٹہ۔پشاوراور اسلام آباد میںٖفاسٹیسٹ مین آف دی سٹی کا ایونٹ کر وا رہے ہیں ان تمام شہروں کے پانچ بہترین کھلاڑیوں کو کا فائنل مقا بلہ کراچی میں کرایا جائے گا جسکا فاتح پاکستان کے تیز ترین آدمی کا اعزاز جیتے گا۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے بتایا کہ صدر پی اے اے ایف نے پہلے ہی تمام صوبائی اتھلیٹکس ایسوسی ایشنز کو ضلعی سطح پر اپنے یونٹس کو متحرک کرنے کی ہدایات دے دی ہیں اور اس حوالے سے وہ رمضان المبارک کے فورا بعد صوبائی اتھلیٹکس ایسوسی ایشنزکے اجلاس بلاکرلائحہ عمل بھی طے کرنے جا رہے ہیں جسکے تحت ہر ضلعی اتھلیٹکس ایسو سی ایشن کو پابند کیا جائے گا کہ آئندہ جنوری سے قبل ہرضلع میں کم از کم آٹھ ایونٹس جن میں سو میٹر،دو سو میٹر ،چار سو میٹر ،آٹھ سو میٹر۔ منی میراتھون، ایک سو دس میٹر ہرڈلز اور چار سو میٹر ہرڈلز،اور لانگ جمپ کے مقابلے شامل ہوں منعقد کروائے اسی طرح ڈویژنل ایسوسی ایشنز کو بھی پا بند کیا جائے گا وہ انہی آٹھ ایونٹس میں انٹر ڈو یژ نل مقابلے کر وائیں۔جسکے بعدصوبے کی سطح پر مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ سیکر ٹری پی اے اے ایف محمد ظفرکا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ آئندہ قومی ا تھلیٹکس چیمپین شپ سے قبل ہم گراس روٹ لیول سے اپنا سرکل مکمل کر کے آئیں تاکہ آئندہ قومی ا تھلیٹکس چیمپین میں ہمارے پاس نیا ٹیلنٹ موجود ہو ۔
6d94421d-96ea-4b0b-bc52-2093a6056065
انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے جونئیر کھلاڑیوں کو فوکس کرنے کی وجہ سے ہمارے کھلاڑی اب ایشیاء اورعالمی جونئیر مقابلوں میں کوالیفائی کرنا شروع ہوچکے ہیں اور نہ صرف اپنی صلاحیتوں کی بدولت کوالیفایے کر رہے ہیں بلکہ پر فارم بھی کر رہے ہیں۔اور انشاء اللہ مستقبل قریب میں اس میں مذید بہتری آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں اپنہوں نے بتایا کہ صدر پی اے اے ایف کی ہدایت کی روشنی میں پی اے اے ایف نہ صرف کھیل کے فروغ۔نئے کھلاڑیوں کی تلاش ،تربیت اور ملک میں اتھلٹلس کے کھیل کو مقبول بنانے کے لئے بھر پور کوششیں کر رہی ہے بلکہ پہلی باکوچز کی تربیت کے لئے تربیتی کورسزاور ٹیکنیکل آفیشلز کی مقامی اور انٹر نیشنل لیول پر تربیت کے لئے آئی اے اے ایف کے کورسز پاکستان میں منعقد کروا رہی ہے بلکہ کوچز اور ٹیکنیکل آفیشلز کو تر بیت کے لئے بیرون ملک بھجوا رہی ہے تاکہ مستقبل میں جہان پاکستانی کھلاڑی بین الاقوامی ایرینا میں کھیلتے نظر آئیں وہا ں پاکستانی آفیشلز بھی اُن میدانوں میں ذمہ داریاں ادا کرتے دکھیں اور نہ صرف پاکستان کے لئے عزت اور وقارکا باعث بھی بنیں اور ملک و قوم کے لئے زرمبادلہ بھی کما کر لائیں