کھیلوں کے انعقاد کیلئے کھیلوں کو قبضہ گروپوں سے آزاد کرانا ہو گا جنرل (ر) اکرم ساہی

اسلام آباد(صوفی ہارون سے) پاکستان میں کھیلوں کے کلچر کو زندہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں کھیلوں کو قبضہ گروپوں سے آزاد کروایا جائے اور ملکی قانون کے مطابق کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداروں پر عائد دو ٹرمز کی قانونی پابندی پر عملدرآمد کیا جائے۔پاکستان سپورٹس بورڈ اور وزارت کھیل میں موجود کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ملکی قوانین پرعملدرآمد ہو اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایسے ہاتھوں میں جائے جو انہیں کھیلوں کے فنڈز کو کھیل اور کھلاڑی پر خرچ کرنے کی پابند کرے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (ساہی گروپ) کے سربراہ میجر جنرل (ر) اکرم ساہی نے گزشتہ روز یہاں اسلام آباد میں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ساتھ ایک نشست کے دوران کیا۔ انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے گند کو صاف کیا جائے اور ایسے لوگوں کا ساتھ دیا جائے جو پاکستان میں کھیلوں کیلئے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ وزارت کھیل نے پی او اے کے معاملات کے حل کیلئے بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر کو دونوں فیڈریشنز کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرانے کی ذمہ داری سونپی تھی جس پر بریگیڈیئر کھوکھر لاہور آکر مجھے ملے اور طے پایا کہ وہ جنرل عارف سے ملنے کے بعد ہم تینوں بیٹھیں گے اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے مگر جنرل عارف نے لاہور میں نہ ہونے کا بہانہ بنا کر بریگیڈیئر کھوکھر سے ملنے سے انکار کے علاوہ پی او اے کے مسئلہ پر سرے سے بات ہی کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وزارت کھیل اور سپورٹس بورڈ میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پی او اے کا معاملہ حل ہو کیونکہ ان کی روٹیاں ہی لڑائو اور مال بنائو کے فارمولے پر چل رہی ہیں۔ میجر جنرل (ر) اکرم ساہی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری پہلی اور سب سے بڑی کامیابی تو یہ ہے کہ مسلسل محنت کے بعد ہم آئی او سی کو یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں یہاں ایک نہیں دو تنظیمیں ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پی او اے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب آئی او سی جنرل عارف حسن گروپ کے ساتھ ساتھ اپنی ہر ایکٹوٹی ہمارے ساتھ بھی شیئر کر رہے ہیں اور مسلسل خط و کتابت میں ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انشاء اللہ آئی او سی زیرنگرانی ہونیوالے آئندہ انتخابات میں ان کا گروپ ہی حقیقی پی او اے کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین نے 13جعلی فیڈریشنز بنا رکھی ہیںاور وہ کوشش کریں گی کہ آئی او سی کے نمائندوں کے سامنے ہماری جینوئن باڈیز کے مقابلے میں اپنی جعلی تنظیموں کو اصل ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سچ کو اور حقیقت کو کبھی شکست نہیں ہوتی یہی اللہ رب کریم کا نظام ہے اور برائی اور جھوٹ کبھی پنپ نہیں سکتے۔ چاہے سونے کا لبادہ ہی اوڑھ کر کیوں نہ آجائیں۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل (ر) اکرم ساہی نے کہا کہ نیشنل گیمز کے حوالے سے الزامات پر میں کوئی بات نہیں کہوں گا۔ میں نے ذاتی حیثیت میں فنڈز کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا۔ گیمز کے آرگنائزنگ سیکرٹری رانا مجاہد تھے اور اسے اوپر لک آفٹر کرنیوالے سابق ڈی جی پی ایس بی گیلانی صاحب اور آصف باجوہ صاحب تھے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ نیشنل گیمز کیلئے فراہم کیے گئے فنڈز میں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے اور وہ معاملہ کی انکوائری کرنا چاہتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کھیلوں کیلئے بجٹ میں ایک بلین (ایک ارب ) روپے رکھا تھا جو کہ پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ کا بڑا ترین بجٹ تھا مگر بدقسمتی سے اسے ضائع کر دیا گیا ۔ اگر یہ صحیح ہاتھوں میں پہنچتا تو سپورٹس ایک سال میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوتی۔
Muhammad-Akram-Sahi-2