ہار ہی جیت کا راستہ دیکھاتی ہے۔پاکستانی نثراد ہونے پر فخر ہے۔پاکستان کا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کررہا ہوں : بادشاہ خان پہلوان کا پہلا انٹر ویو

یوں تو دنیا بھرمیں بسنے والے پاکستانی محتلیف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی محنت اور لگن سے کامیابیوں اور شہرت کی بلندیوں کو چھُو رہے جن میں سے ایک نام باد شاہ خان کا بھی ہے بادشاہ پہلوان خان پروفیشنل ریسلنگ کا ابھرتا ھوا پاکستانی نژاد فرانسسی ستارہ جو پاکستان کے پرچم اور کلچر کو دنیا میں روشناس کروارہا اور کروانا چا ہتا ھے بادشاہ پہلوان خان نے پہلی بار پاکستانی زرائع ابلاغ میں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام جوائینٹ ایڈیٹر سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام شاہد الحق سے خصوصی اور تفصیلی گفتگو کی جو اُنکی کسی بھی پاکستانی میڈیا سے پہلی گفتگو ہے ۔
سپورٹس ورلڈ: آپ کا اصل نام کیا ھے؟
بی پی خان: میرا اصل نام صیغہ راز میں ھے جبکہ شوبز میں میں بادشاہ پہلوان خان کے نام سے ہی مشہور ہوں۔ میرا نام دراصل پاکستانی پہلوانوں کے لئے ٹریبیوٹ ھے اور ریسلنگ کی دنیا میں پاکستان کی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہوں۔ خان میری ماں کا خاندانی نام ھے اور جب یہ نام سٹیڈیم میں پکارہ جاتا ھے تو میرے اندر جیت کا جزبہ سرائت کر جاتا ھے۔ میرے لئے پاکستان کی اہمیت سب سے زیادہ ھے۔ وقت آنے پر میں اپنا اصل نام بھی بتا دوں گا۔
سپورٹس ورلڈ: آپ کے نام سے پاکستانی کلچر کی عکاسی ہوتی ھے، آپ نے یہ نام کیونکر رکھا ۔ کسی کے کہنے پر یا خود سے ؟
بی پی خان: یہ نام میں نے خود رکھا ھے اور میرا نام پاکستان کی پہچان ھے اور میرا فرض ھے کہ میں اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا کوئئ پہلو ضائع نہ کروں۔ میں یورپ اور امریکہ میں 200 سے زائد کشتیاں لڑ چکا ھوں جبکہ زیادہ تر جیتا ھوں۔
سپورٹس ورلڈ: وطن سے دوری کے باوجود آپ کاپاکستان سے لگاؤ کیوں اور کیسے ؟ کیا یہ آپکے والدین کی آپکو دی گئی تر بیت کا اثرہوسکتاہے؟
بی پی خان: شکریہ۔ آپ صحیح سمجھے۔ میرے پاپا اور ماما دونوں ھی پاکستان کو بہت پسند کرتے ھیں اور انہوں ہی نے ھم سب بھائی بہنوں کو یہ شعور دیا۔ ھم گھر میں اوردو بولتے ھیں جبکہ میں فرینچ انگلش اور سپینش بھی روانی سے بول لیتا ھوں۔ لیکن مین دونیا کو دکھانا چہتا ھوں کے ھم پاکستانی بھی کسی سے کم نہں۔
badsha  2
سپورٹس ورلڈ: پاکستان سے کس علاقہ سے تعلق رکھتے ھیں؟
بی پی خان: میرا تعلق واہ ویلیج سے ھے جو میرے والد کا گاؤں ھے جبکہ میری والدہ کا تعلق قریبی گاؤں ڈھوک اعوان سے ھے۔ میں فرانس ھی میں پلا بڑھا ھوں۔ میرے والد پنجابی اور ماں پٹھان ھے میرے والد فیاض احمد نے ھمیں ھمیشہ پاکستان کے متعلق آگاہی دی اور مذہبی تربیت بھی دی۔ مجھے فخر ھے کے میں پاکستانی مسلمان ھوں۔ جب میں پاکستان جاتا ھوں تو لوگ مجھے بہت پیار کرتے ھیں یہی وجہ ہے کہ میں پاکستان کا نام اپنی صلاحیتوں سے دنیا کے کونے کونے میں پہنچاؤں گا۔ میں اپنے ملک کے لئے کام کرنا اپنا فرض سمجھتا ھوں اور اس پرچم کو ہمیشہ بلند رکھوں گا۔ پاکستانیوں سے دعا کی درخوست ھے۔
سپورٹس ورلڈ: آپ نے پروفیشنل ریسلنگ کب کھیلنا شروع کی اور اس کا شوق کیسے ھوا؟
بی پی خان:میں جب چھوٹا تھا تو پاپا کی گود میں بیٹھ کر ٹی وی پر ریسلنگ دیکھتا تھا اور جب ٩ سال کا ھوا تو پاپا کے ساتگ کشتیاں کرنے لگا۔ یہ ابتدا تھی مگر ین کشتیوں کو دیکھتے ھوئے میں ھمیشہ یہ سوچتا تھا کا میں بھی یہ کر سکتا ھوں اور جب میں اے لیول کر چکا تو کالج میں کشتی ھی کو اپنایا اور ریسلنگ سکول میں داخل ھو گیا۔
میرے استاد فلیش گورڈن نے میری ابتدائی تربیت کی اور ١٩ سال کی عمر میں میں امریکہ پرو ریسلنگ کے لئے چلا گیا۔ وہاں مین نے خوب محنت کی اور جلد ہی میری کامیابیاں شروع ہو گئیں۔ میں نے ٢٠١٢ میں اپنی پہلی پرو ریسلنگ امریکہ ھی میں کی۔
سپورٹس ورلڈ: آپ نے تعلیم کہاں تک حاصل کی اور کس پروموٹر کے ساتھ کام کر رہے ہیں؟
بی پی خان: میں نے اکنامکس میں اے لیول کے بعد مینجمنٹ میں گریجوایشن کیا ھوا ھے لیکن اب مکمل وقت ریسلنگ کو دے رہا ھوں۔ کیثریسلنگ سٹار میرے پروموٹر ھیں جبکہ میرے شوھرھفتہ ھوتے ھیں اور مجھے اپنی پرفرمنس بہتر کرنی ھوتی ھے۔ یورپ کے مختلف شہروں میں شو ھوتے ھیں کیوں کے کیچ ریسلنگ سٹار یورپ کی سب سے بڑی کمپنی ھے اور اللہ کا شکر ھے کے میرا نام اور پاکستان کا نام ہر جگہ مشہور ھو رہا ہے۔
سپورٹس ورلڈ:جب آپ ہارتے ھیں تو کیا محسوس کرتے ھیں؟
بی پی خان: ہار جیت کحیل کا حصہ ھے اور اصل مقصد عمدہ پرفارمنس ھوتی ھے اور کھیل کھیلنا ایک بڑا کام ھے۔ ھار کے بغیر جیت نا ممکن ھوتی ھے۔ ھارنے کے بعد نئے طریقہ سیکھنے کی جستجو بڑہ جاتی ھے اور یون اگلی جیت ممکن ھو جاتی ھے۔ مجھے ھار کر بھی اتنی ھی خوشی ھوتی ھے کیوں کہ پاکستان کا پرچم لہرانے کا موقعہ ملتا ھے۔
badsha 4
سپورٹس ورلڈ: آپ کے کھیل میں انفردیت کیا ھے اور اس کھیل میں کس صلاھیت کی زیادہ ضرورت ھوتی ھے؟
بی پی خان: پرو ریسلنگ میں آپکی تیکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ آپ کا سٹائل اور ایکشن بہت اہمیت کا حامل ھے جبکہ اسمیں کچھ ڈرامہ بھی شامل کرنا پڑتا ھے یہی وجہ ھے کہ میرا انداز سبز اور سفید ملبوسات کی وجہ سے دوسروں سے منفرد کر دیتا ھے اور جب میں رنِگ میں شیروانی پہن کر داخل ھوتا ھوں تو لوگوں کے لئے منفرد انداز ھو جاتا ھے۔
سپورٹس ورلڈ: آپ کے کپڑے کس نے ڈیزائین کئے ھیں؟
بی پی خان: اپنے کپڑے میں خود ڈیزائین کرتا ھوں اور پاکستان ھی سے بنواتا ھوں
سپورٹس ورلڈ: فرانس میں رہتے ھوئے آپ نے فٹبال اور دوسری کھیلوں مین دلچسبی کیوں نہ لی اور تین بہنوں کے اکلوتے بھائی ھونے کی وجہ سے والدین نے منہ نہیں کیا؟
بی پی خان: پاکستانی بہت ٹیلینٹڈ ھیں مگر پرو ریسلنگ میں کوئی پاکستانی نہ تھا اور شروع میں گھر سے بہت مخالفت تھی مگر میرے شوق کو دیکھتے ھوئے میرے پاپا نے میری تربیت اور حوصلہ افزائی کی ۔ آج مین اپنی محنت اور ماں باپ کی وجہ سے اس مقام پر ھوں۔ ًمیں اللہ کا شکر ادا کرتا ھوں کے مجھے ایسے والدین عطا کئے۔
سپورٹس ورلڈ: مستقبل کے کیا ارادے ھیں اور پاکستان میں اس کھیل سے کیا امیدیں ھیں؟
بی پی خان: میری بات کسی پاکستانی کمپنی سے چل رھی ھے اور بہت جلد پاکستان میں پرفارم کرنے آ رہا ھوں۔ پاکستان میں پرفارم کر کے پاکستانی نوجوانوں کو ایک نئی سمت دینا چاہتا ھوں۔ میرے خیال میں پاکستانی نوجوانوں میں بہت صلاحیتں موجود ھٰیں۔ ًین مستاقبل میں پاکستان میں ریسلنگ سکول بنانا چاہتا ھوں۔ پاکستان میں آنے کا مقصد صرف سیروتفریح نہں اور میں یوں ھی وقت ضائع کرنا نیں چاہتا بلکہ کسی مقصد سے آؤں گا اور مجھے یقیں ھے کہ مین پاکستان میں ریسلنگ کے فروغ کے لئے کام کروں گا اور آپ بھی میرا ساتھ دیں گے۔ اکثر پاکستانی فیس بک پر اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں لیکن پرو ریسلنگ سکول نہ ھونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا پرفارم نہیں کر سکتے میں اپنے دورہ کے دوران پانچ شہروں میں ٹریننگ بھی دوںگا۔
badshi1
سپورٹس ورلڈ: پاکستان میں کرکٹ کا بخار ھے آپ لوگوں کو پرو ریسلنگ کی رف کیسے متوجہ کریں گے؟
بی پی خان: پرو ریسلینگ دونیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کھیل ھے اور مئجھے پتہ ھے کے پاکستان میں کڈی اور دیسی کشتی کے عمدہ پہلوان موجہد ھیں اور کسی بھی کھیل کو شروع کر کے ھی اندازہ لگایا جا سکتا ھے اور مجھے امید ھے آپ جیسے دوست میری رہنمائی کریں گے اور میرا تعارف عمدہ الفاظ میں کریں گے۔ بوگ مجھے جان کر اور براہ راست پرفارم کرتا ھوا دیکھ کر لطف اندوز ھوں گے۔ میری کامیابی پاکستان کی کامیابی ھو گی۔
سپورٹس ورلڈ: کیا آپ کے علاوہ دوسرے ریسلرز پاکستان آنے کے لیے راضی ھیں جبکہ ان حالات میں پاکستان آنے کو ئی فارن ٹیم تیار نہیں آپ کا کیا خیال ھے؟
بی پی خان: جی ہاں، تقریبا 8 ممالک کے ریسلرز نے اپنی مرضی ظاہر کر دی ھے اور امید کہ ہم ضرور آئیں گے۔ کیچ سٹار ریسلنگ افریقہ، فلپائن اور لبنان جیسی جگہوں پر پرفارم کر چکی ھے اور ریسلرز کو ایسے حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ُپاکستان میں کھیل کر پاکستانی قوم کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ھیں اور ُپاکستان کا امن کا پیغام پوری دنیا میں پھیلانا میرا فرض ھے۔ ماس کام سولوشنز ایک بڑی کمپنی ھے جو بڑے ایونٹ کروانے کا تجربہ رکھتی ھے۔ا
سپورٹس ورلڈ: آپکی کمپنی میں لڑکیوں کی ریسلنگ بھی ھوتی ھے، کیا پاکستان میں اس شو کو کروائیں گے؟
بی پی خان: جی نہیں میں مسلمان ھونے کے ناطے پاکستان میں اسی کوئی ھرکت نہیں کروں گا جو میرے اور پاکستانیوں کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ھو۔ پاکستان میں ھالات ایسے نہیں کے خواتین کی ریسلنگ کروائی جائے۔
سپورٹس ورلڈ: مستقبل میں عامر خان بکسر کے ساتھ کسی فلاہی کام کے لیے شو کریں گے؟
بی پی خان: جی ضرور اگر عامر راضی ھو تو کوئی ہرج نہیں۔ پہلے بھی محمد علی اور انوکی ایسے شو کر چکے ھیں۔ میرا سفر ابہی شروع ہوا ھے لیکن میں پاکستان کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔
سپورٹس ورلڈ: مسلمان ھونے کے ناطے پروریسلنگ میں کوئی مشکلات در پیش آئیں؟
بی پی خان: زیادہ پر امید نہ تھے لیکن میں نے مسلسل محنت اور لگن سے کام لیا اور ایسے تمام منہ بند کر دیے ھیں۔ پاکستانی اور مسلمان ھونے کیوجہ سے شروع میں کچھ پرموٹرز نے میری حوصلہ شکنی کی مگر میری کارکردگینے انکے خیلات کو غلط ثابت کر دیکھایا اور یورپ کی سب سے بڑے پروموٹر نے مجھے خود ہی آفر کر دی اب کیچ ریسلنگ سٹار میرے بغیر کوئی شو نہیں کرتی اور میرا اعلیٰ مقام ھے۔
سپورٹس ورلڈ: ریسلنگ میں کیا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
بی پی خان: ہر ریسلر کی طرح میں بھی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ڈبلیو ڈبلیو ای یا پھر جاپان ریسلنگ کو جائن کر کے دنیا میں پاکستان کا نام بلند کروں گا۔ یہ کشتیاں پوری دنیا میں ٹی وی پر دیکھائی جاتی ھیں۔ پہلے بھی کئی ریسلرز کیچ سٹار سے بڑی کمپنیز کو جوائن کر چک ھیں۔
badsha
سپورٹس ورلڈ: پاکستانی نوجوانوں کے لیے کیا پیغام دینا چاہئیں گے؟
بی پی خان: میں اور میرے ساتھی ریسلرز پاکستانی قوم کی امن قائم کرنے کی قربانیوں کی دل سے قدر کرتے ھیں اور فرانسس اور بقی دنیا کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ھیں۔ پاکستانی نوجوان بہت اعلیٰ سلاحیتوں کے مالک ھیں میں ان سے کہوں گا کے وہ فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ ہر نشہ کی جڑ ھے۔ محنت اور لگن کا دامن نہ چھوڑیں اور ماں باپ کی خدمت کریں اور انکی دعائیں لیں تکہ اس ملک کی بہتر خدمت کر سکیں۔ مین پارٹیوں میں فضول جانے سے پرہیز کرتا ھوں اور اللہ کا شکر ھے آج اللہ نے مجہے عزت سے نوازا ھے۔ آپ بھی مثبت کاموں پر توھہ دیں اور وقت ضائع کئیے بغیر محنت اور لگن سے اس ملک اور قوم کا نام روشن کریں کیوں کے ملک کو لوٹانا ھمارا فرض ھے
سپورٹس ورلڈ: ریسلنگ کے علاوہ کیا مشاغل ھیں؟
بی پی خان: ریسلنگ کے علاوہ میں فرانسسی فلموں میں کام کرتا ھوں اور دو فلموں میں اہم کردار ادا کر چکا ہوں جبکہ بالی وڈ کے ّمر خاں نے فلم دنگل کے لیے مجے آفر کی تھی جو دراصل ریسلنگ کی وجہ سے نہ کر سکا کیوں کہ ریسلنگ میرا ھدف ھے اور میں اسی میں مقام پہلے بنانا چاہتا ھوں۔ تقریبا تمام ریسلرز ھی فلموں میں کام کرتے ھیں اور مین بھی شوق رکھتا ھوں کہ کھلاڑی ایک پر اعتماد پرفارمر ہوتا ھے اور یہ صلاحیت اسے ایکٹنگ میں مدد گار ھوتی ھے۔ میرے لیئے امریکی پاکستانیوں کی طرف سے ایوارڈ دینا ایک اعزاز ھے اور فخر کی بات ھے

سپورٹس ورلڈ: مجھےخوشی ھے کہ میں پاکستان کی محبت سے بھر پور پاکستانی نژاد ریسلر سے سپورٹس ورلڈ سے مخاطب ھوں۔آپ کا شکریہ۔

بی پی خان: آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے پہلی بار پاکستانی ذرائع ابلاغ کے پہلے ڈیجیٹل میگزین سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ذریعے پہلی بار اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ فراہم کیا۔ آپ کا شکریہ