ہاکی بچانی ہے تو دیہاڑی دار عہدیداروں سے جان چھڑانا ہوگی نوید عالم

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) جولو گ اپنے آبائی علاقوںمیں ہاکی کی ترقی کیلئے اب تک کچھ نہیں کر سکے وہ قومی ہاکی کی بہتری کیلئے کیاکریں گے۔ یہ بات سابق قومی ہاکی پلیئر ویمن نوید عالم نے جمعہ کے روز یہاں اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگرہاکی کے کھیل کو بچانا ہے تو ہمیں دیہاڑی دارعہدیداروں کی بجائے کھیل کی روح کو سمجھنے کووالے لوگوں کو آگے لانا ہو گا۔وگرنہ ملک میں ہاکی کا رہا سہا معیار بھی بیٹھ جائے گا۔نویدعالم نے کہا کہ سابق فیڈریشن کے عہدیداروں کو ان کے عہدو ں سے ہٹانے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شایداچھے لوگ آئیں گیاورہاکی کے کھیل کے معیار میں بہتری آئے گی مگر بدقسمتی سے حکومت نے ہاکی ایک بار پھر ایسے لوگوںکے حوالے کر دی جو ہاکی کی بہتری کیلئے کچھ کرنے میں خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ میں ذاتی طور پر شہباز سینئر کا بطور کھلاڑی بے حد معترف رہا ہوں مگر بطور سیکرٹری ہاکی فیڈریشن وہ کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے جہاںتک صدر فیڈریشن بریگیڈیئر خالد کھوکھر کا تعلق ہے تو ہاکی کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں کہ ان جیسے شخص کو قومی کھیل کی باگ دوڑ سونپ دی گئی جنہیں ہاکی کے فروغ کے سرے سے دلچسپی ہی نہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگروزیراعظم پاکستان کو ٹھیک گائیڈ کیا جاتااور پی ایچ ایف کو میر ظفر اللہ جمالی کی زیرسرپرستی دے دیاجاتا تو نہ صرف پاکستان میں ہاکی کی بحالی ممکن تھی بلکہ ایشیاء اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان ہاکی کو اہم رول ملنا ممکن تھا۔