ہاکی : کیا پاکستان ہاکی ٹیم ایشیاء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ اور بھارت سے شکستوں کا بدلہ لے پائے گی؟ ایشین ہاکی میں پاکستان کا مقام کیا تھا۔ اب کیا ہے؟

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) قومی ہاکی ٹیم گذشتہ تقریبا ڈیڑھ ماہ سے زائد عر صہ سے ڈھاکہ بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے دسویں ایشیا ء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی بھر پور تیاریوں میں مصروف ہے۔ گو کہ عید کی چھٹیوں کے باعث اسوقت قومی ہاکی تربیتی کیمپ سات ستمبر تک دس دن کے لئے ملتوی کیا جا چکا ہے۔تاہم قومی ٹیم اس ایونٹ کی تیاریوں کے سلسلہ میں ٹیم مینجر اولمپئین فرحت خان ۔کوچز ملک شفقت اور محمد سرور کے ساتھ ساتھ ٹیم کے فزیکل ٹرینر نصراللہ رانا پر مشتمل ایک مکمل ٹیم کی زیر نگرانی پہلے مر ؂حلے میں اسلام آباد میں اور اب دوسرے مر حلے میں کراچی میں بھر پور ٹریننگ میں مصروف ہے۔ ٹیم ڈھاکہ میں ہونے والی ایشیاء کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں کیا پر فارمنس دے گی اس کا پتہ تو گیارہ اکتوبر سے شروع ہونے والے ایونٹ کے آغاز کے بعد ہی لگ سکے گا۔


پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سر براہ بر یگیڈئر (ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکر ٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر نے کچھ ہی عرصہ قبل پی ایچ ایف کے ساتھ سالہا سال سے بطور کوچ خدمات سر انجام دینے والے سابق اولمپئین خواجہ جنید کو بر طانیہ میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کوالیفائینگ راونڈ میں ٹیم کی ناقص کار کردگی پر انکے عہدے سے ہٹاتے ہوئے۔ اپنے تئیں بڑی مشاورت کے بعد ٹیم کے لئے نئی مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی ترتیب دی ہے اب یہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کیا گُل کھلاتی ہے اسکا پتہ تو ایک ڈیڑھ ماہ تک پتہ چل ہی جائے گا۔ ابھی تک راقم نے ٹیم مینجر اولمپئین فرحت خان ۔کوچز ملک شفقت ۔محمد سرور اور فزیکل ٹرینر نصراللہ رانا سے فردا فردا جو بات کی ہے

اسکے مطابق ان سبھی شخصیات کا کہنا ہے کہ ٹیم بھرپور تیاریاں کر رہی ہے اور اس ایونٹ میں اچھی پرفارمنس دے گی۔ فرحت کا کہنا ہے کہ ہماری کھلاڑی با صلاحیت ہیں اور خوب محنت بھی کر رہے ہیں اور میں ذاتی طور پر مطمئین ہوں کہ وہ ایشین ہاکی ایونٹ میں عمدہ پر فارمنس دیں گے۔اسی طرح شفقت ملک کا کہنا ہے کہ لڑکوں کے فٹنس لیول میں اور کھیل میں پہلے سے بہت امپرومنٹ ہے ٹیم نہ صرف ایونٹ میں بھر پور پرفارم کرے گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ میں ٹیم کی پر فارمنس سے ہمیں اپنی ؔ ٹیم کی صحیح اسٹینڈنگ کا اندازہ ہوگا۔

جبکہ ٹیم ٹرینر نصر اللہ رانا کا قومی ہاکی ٹیم کی تیاریوں کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بطور ٹرینر انکے ذمہ کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس کو اعلی معیار پر لے کر جانا ہے جسکے لئے انہوں نے کام کیا ہے اور اب لڑکوں کی فٹنس کے حوالے سے وہ اور ٹیم مینجمنٹ مطمین ہیں۔اور انشاء اللہ ایونٹ کے آغاز تک ہم اس میں مذید بہتری لے آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اسبار آپکو لڑکوں کی فٹنس نظر آئے گی لڑکے میدان میں سپیڈ کے ساتھ دوڑتے اور اپنا زور لگاتے نظر آئیں گے ۔ اب وہ کتنے گول کرتے ہیں یہ معاملہ انکی تکنیک کا ہے ۔کوچز اور مینجر لڑکوں کی تکنینک پر محنت کر رہے ہیں امید ہے ایونٹ میں ٹیم عمدہ پرفارمنس دے گی۔


ڈھاکہ میں کھیلے جانے والی دسویں ایشیاء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کا بانی ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے ۔ قومی ہاکی ٹیم کی نئی مینجمنٹ کے دعوے اور وعدے اپنی جگہ تاہم ہاکی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انکے لئے نئی مینجمنٹ کی کامیابی کاکم از کم معیار پاکستان کی اسبار ایونٹ کے فائنل میں رسائی ہی ہے۔ کیونکہ ٹیم کو آئندہ برس ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شر کت کرنا ہے اور ٹیم کے اچھے مورال کے لئے ٹیم پاکستان کو اس ایونٹ میں کوریا اور بھارت جیسی ٹیموں کو شکست دے کر خود کو منوانا ہوگا۔
اسبار ایشیاء بھر سے آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گیں۔ جن میں میزبان بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان۔بھارت۔ چین۔جاپان۔عمان۔ملائشیاع اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں شریک ہونگیں۔جنہیں دو پولز۔ پول اے اور پول بی میں تقسیم کیا گیا ہے


پول اے میں میزبان بنگلہ دیش کی ٹیم کے علاوہ پاکستان ۔بھارت اور جاپان کی ٹیمیں ۔ جبکہ پول بی میں دفاعی چیمپئین جنوبی کوریا کے ساتھ ملائشیاء ۔ چین اور عمان کی ٹیمیں شامل ہونگیں۔ اس ایونٹ کی فاتح ٹیم ورلڈ کپ 2018کے ورلڈ کپ کے لئے بھی کوالیفائی کر جائے گی۔ ایونٹ کا آغاز گیارہ اکتوبر سے گروپ اے کی ٹیموں کے درمیان میچز سے ہو گا پہلا میچ بھارت اور جاپان کی ٹیموں کے درمیان جبکہ دوسرا میچ میزبان بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ پول بی میں شامل ٹیموں کے درمیان میچز کا آغاز بارہ اکتوبر سے ہوگا اور اس میں پہلا میچ ملائشیاء اور چین کے جبکہ دوسرا میچ جنوبی کوریا اور عمان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔


ایشیاء کپ ہاکی تورنامنٹ میں دفاعی چیمپین کوریا ماضی میں سب سے زیادہ چار بار اس ایونٹ کا فاتح اور ایک بار رنر اپ ۔پاکستان تین بار فاتح اور تین ہی بار رنر اپ جبکہ بھارت دو بار فاتح اور پانچ بار رنر اپ رہ چکا ہے ۔ اور دلچسپ بات یہ کہ پاکستان نے تینوں بار جب بھی اس ایونٹ میں فاتح کا اعزاز حاصل کیا ہے اس نے بھارت کو ہی فائنل میں شکست دے کر حاصل کیا ہے۔