اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کا تین سالہ کامیاب سفر ,سچ ٹی وی کے سپورٹس اینکر پرسن ، وفا عباس ارمانی کی خصوصی تحریر

ایک کے بعد ایک……. مختلف ٹی وی چینلز کے ساتھ  میرا صحافتی سفر جاری ہے . میرے موجودہ ٹی وی چینل کی جانب سے چھ سال قبل اسپورٹس کی بیٹ سونپی گئی تو میں اس میدان میں بالکل نو آموز تھا، پہلے دن ہی انتہائی محترم استاد اور بڑے بھائی محسن علی نے ہاتھ تھاما اور اسپورٹس بیٹ میں راہنمائی کا ذ مہ لیا، یہ سیکھنے کا عمل آج بھی جاری ہے۔ اسی دوران مجھے اس کھیل میں دلیچسپی پیدا ہوئی جو کہ  پاکستان میں ابھی بلکل نیا تھا اپنے فروغ کے عمل سے گذر رہا تھا،  کہ میرے دل میں خود بھی کھیلنے کی خواہش پیدا ہوئی اور میں نے باقاعدہ طور پر خود بھی رگبی کھیلنے کا آغاز کرتے ہوئے  اسلام آباد رگبی کلب جوائن کر لیا۔

کھیلوں سے جڑے صحافی ہونے کی وجہ سے دل میں شدید خواہیش رہی کہ رگبی کو پروموٹ کرنے میں اپنا کردار ادا کروں۔ میں تہہ دل سے جڑواں شہروں ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر سے ان تمام اسپورٹس جرنلسٹس کا مشکور ہوں جنہوں نے میری توقعات سے بڑھ کر میرا ساتھ دیا اور رگبی کو ملک میں متعارف کرانے میں دل سے میری مدد کی اور کرتے آرہے ہیں۔   تاہم  ایسے میں ایک تشنگی باقی تھی اور وہ تھی۔ الیکٹرانک میڈیا میں رہتے ہوئے دوسرے میڈیا میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا. ۔ اس دوران سینئر اسپورٹس جرنلسٹ صوفی ہارون کی وطن واپسی کا سنا اور اتفاق سے اسی شام ان سے اسلام آباد میں اتفاقی ملاقات ہوگئی، عجب خوشگوار انسان لگا، پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہوا کہ اتنا عرصہ یورپ میں گذارنے کے بعد یہ بندہ واپس آیا ہے تو کوئی نیا آئیڈیا تو ضرور لایا ہوگا۔

صوفی ہارون صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ وقفوں سے جاری رہا اور پھر 10 اگست 2014 کو پاکستان کی پہلی اسپورٹس ویب سائیٹ اسپورٹس ورلڈ  پی کےڈاٹ کام کے اجرا کا سنا،، پہلے حیرت ہوئی، پھر آزمائیشی طور پر اس پر نظر  رکھنا شروع کی، ہر نئے دن نئی چیزیں، نئی خبریں نئے انکشافات۔ اب یہ لگنے لگا کہ دن میں اپنے فون پر بھی ویب سائیٹ کو چیک کرتے رہنا چاہئیے۔ اپنے کیرئیر کے دوران جب بھی کسی بین الاقوامی کھیلوں کی کوریج کے لئے اپلائی کرتا تو متعلقہ ویب سائیٹس پر جہاں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا یا فوٹو گرافرز کے لئے کیٹگریز ہوتیں وہیں ہر دفعہ ویب سائیٹس جرنلسٹس کے حوالے سے بھی ایک کیٹگری ہمیشہ نظر آتی (ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئیے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جرنلسٹس کیٹگری ہے)۔ ان حالات کے تناظر میں خوشی کا احساس ہوا کہ ہم بھی اب اس لیول پر ہیں کہ پاکستانی اسپورٹس جرنلسٹس اور فوٹو گرافرز تمام کیٹگریز پر پورے اترتے ہیں۔

ویب سائیٹ ترقی کے سفر پر گامزن رہی، لے آوٹ ہر روز پہلے سے بہتر اور اپ لوڈ ہونے والا مواد دلچسپ و مفید ہوتا رہا، اس سب کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ اب میری اس تشنگی کے خاتمے کا وقت آگیا ہے کہ رگبی کے بارے میں اپنے الفاظ کو پبلشڈ دیکھوں، جو بین الاقوامی ٹیمیں میں فالو کرتا ہوں جن کے میں میچز دیکھتا ہوں ان کے بارے میں بھی رپورٹ کروں اور اظہار خیال کروں۔۔۔۔ تھوڑا جھجکتے ہوئے صوفی ہارون بھائی سے بات کی اور انکا جواب توقعات کے برخلاف انتہائی محبت والا تھا، ’’ بھائی ابھی کوئی اسٹوری ہے تو ابھی بھیج دو اگلے دس منٹ میں اپ لوڈ ہوگی، فکر نہیں کرنا جب جتنی مرضی اسٹوریز دو گے ساتھ ساتھ اپ لوڈ ہو جائیں گی‘‘،،،، میں نے فون بند کیا اور فٹا فٹ پہلی اسٹوری بھیجی ساتھ تصاویر اٹیچ کیں اور صوفی ہارون صاحب کو ای میل کردی، زیادہ نہیں تو دس سے پندرہ منٹ کے بعد فون آیا اور ساتھ ہی پبلشڈ اسٹوری کا ویب لنک بھی میسج ہوگیا۔ میرے لئے یہ سب ایک اچنبھا تھا کہ ایونٹس اور خبروں کے حوالے سے اسکرین پر نظر آتا رہا ہوں مگر اپنے نام کے ساتھ اپنے ہی کھیل پر پہلی بین الاقوامی اسٹوری ایک اسپورٹس ویب سائیٹ پر لگنا کمال تھا، فوراً ہی لنک فیس بک پر شئیر کیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسکا مثبت رسپانس آنے لگا جس کے نتیجے میں رگبی کی  بین الاقوامی تنظیم نے اس اسٹوری کو انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا کہ اب پاکستان میں نہ صرف مقبول ہو رہی ہے بلکہ پاکستانی صحافی آن لائن میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے رگبی ایونٹس کو کوربھی کر رہے ہیں۔ رگبی کی عالمی تنظیم اور آئر لینڈ رگبی کی جانب سے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام پر شائع ہونے والی میری اس سٹوری نے جہاں دنیا بھر میں مجھے متعارف کروایا وہاں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو بھی.  جو کہ میرے لئے ایک فخرکی بات تھی ۔ تب مجھے احساس ہوا کہ آن لائن جرنلزم کی دنیا میں کیا اہمیت اور افادیت ہے

وہ دن اور یہ دن کہ میں بھی سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ساتھ رگبی کے حوالے سے لکھ رہا   اور صوفی ہارون کوبھیج رہا ہوں جو چند ہی لمحوں میں انکا اوکے کا جواب آجاتا ہے اور اگلے چند لمحوں میں اسٹوری کا لنک۔

میری دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ تین سال قبل صوفی ہارون صاحب اور انکی ٹیم نے جس سفر کا آغاز کیا وہ اسی طرح کامیابی سے جاری رہے اور اسی طرح نئے آنے والے دوستوں کے لئے آپ کے تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔ میری جانب سے پاکستان کی پہلی اسپورٹس ویب سائیٹ ’’ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام ‘‘ کو تیسری سالگرہ مبارک۔