صحافتی ملنگ…اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے درخشاں تین سال…وقاص شیخ کے قلم سے

جیساکہ ہم سب جانتے ہیں ملنگ وہ ہوتا ہے جو دنیاوی آسائشوں سے بےخبر ہوکر اپنی دھن میں مگن ریتا یے. ایک مقصد سامنے رکھ کر بے غرض و بے خوف خطر اس پر چلتا رہتا ہے.آج کل یہ ملنگ نایاب تصور کئے جاتے ہیں اور انتہائی معذرت کے ساتھ صحافی برادری میں نا پید ہوتے جارہے ہیں….جو کہ کسی المیہ سے کم نہیں ..لیکن ایسے ملنگوں کو اگر ملاحظہ فرمانا یے تو ہماری اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ہیچ پر ایڈیٹر صوفی ہارون صاحب اور میں ناچیز ایسو سیئٹ ایڈیٹر وقاص شیخ کی صورت میں ہمہ وقت دستیاب ملیں گے….. مجھے بچپن سے والد محترم جو کہ صحافتی و ادبی شوق بھی رکھتے تھے انہیں دیکھ کر صحافتی شوق بیدار ہوا..میں نے مختلف کالم مختر اخبارات میں لکھے …میں اپنا صحافتی سفر بغیر کسی تنخواہ و دیگر مفاد کے کرتا رہا کیونکہ میں سمجھتا ہوں اگر میں اس مقدس پیشے کو ذریعہ معاش بنالیتا ہوں تو مجھے حق و سچ لکھنے میں مصلحتوں کا اندیشہ لاحق رہے گا…اور میں نے ہمیشہ صحافتی سفر میں مصلحتوں کو بالائے طاق رکھاہے.بچپن سے مختلف اسپورٹس سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہوں..جس کے باعث اسپورٹس میں ہونے والی حق تلفیوں کا بخوبی اندازہ ہمیشہ رہا ہے..بحیثیت اسپورٹس آفیشل کوشش رہی کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ حق تلفی نہ ہو.میرے اس مقصد کیلئے اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام اندھیرے میں چراغ کی مانند نظر آیا.میں نے محسوس کیا کہ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں مصلحتوں ذاتی مفادات سے پاک اسپورٹس کی خدمت کی جاسکتی ہے اور آواز اٹھا کر حق دار کو حق دلایا جاسکتا ہے…یہی پالیسی اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کی مقبولیت کا باعث بھی بنی …بحیثیت صحافتی شاگرد اس سفر میں مجھے صوفی ہارون صاحب جیسے شفیق بھائی اور استاد کی صورت میں وہ شخصیت ملی جو میرے معیار کے عین مطابق اور صحافتی زندگی  میں میرے آئیڈیل ثابت ہوئے..صوفی ہارون صاحب سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا .انہوں نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا…جنکا تہہ دل سے محبتوں و خلوص کے ساتھ ہمیشہ مشکور رہوں گا….جیساکہ  اللہ کے فضل و کرم اور تمام دوست و احباب قارئین کی محبتوں کی بدولت اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام نے کامیابی کے 3 سال مکمل کرلئےہیں .ان 3 سالوں کے دوران متعدد بار بے باک صحافت کی وجہ سے صوفی ہارون صاحب اور انکی ٹیم کو اسپورٹس کے نام نہاد ٹھیکے داروں نے آزمانے کی بھی کوشش کی…جس میں دھمکی آمیز لہجے..و دیگر حربے شامل رہے ہیں لیکن ان احمقوں کو اندازہ نہیں اسپورٹس ورلڈ کے یہ ملنگ بے غرض اسپورٹس صحافتی خدمات سر انجام دے رہےہیں اور پاکستانی اسپورٹس کو تباہ کرنے والوں کے چہرے ہوری قوم کے سامنے لارہے ہیں اور لاتے رہیں گے.یہ صحافتی ملنگ جس میں صوفی ہارون صاحب اور بزات خود میں وقاص شیخ شامل ہوں ہم نے نامصائب حالات کے باوجود قلم نہیں روکا بلکہ اس قلم کے زریعے کھلاڑیوں اورآفیشلز کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں اور انکے حق کی لئے آواز اٹھاتے رہیں ہیں…ان میں بیشتر وہ آفیشلز و کھلاڑی شامل ہیں جنہیں آج تک کبھی پزیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ حق دار رہے ہیں..اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام نے انقلابی طور پر ویب سائٹ کا انگلش ورژن اور ویڈیوز سیشن کا بھی کامیابی کیساتھ آغاز کیا ہے جس کو اسپورٹس قارئین و ناظرین کی طرف سے زبردست پزیرائی ملی ہے.. .اسپورٹس ورلڈ ڈاٹ کام کے ملنگوں نے پاکستان کے اسپورٹس کو بچانے کیلئے وہ کام بھی کئے جسے میں لکھنے سے قاصر ہوں..کیونکہ لکھنے سےصوفی صاحب کی طرف سے محبت بھری کھینچائی کا اندیشہ بھی لاحق ہے..کہتے ہیں ملنگوں کی آہ بڑی جلدی لگتی ہے…اور یہا ں معاملہ بڑے ملنگ اور چھوٹے ملنگ کے درمیان کا ہے….لہذا اپنے قلم کو احتیاط کے ساتھ لکھتے ہوئے آپ تمام قارئین اور ناظرین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ اسپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو محبتیں دیں..انشاء اللہ سچائی کا یہ سفر ہمیشہ جاری ریے گا..