عوامی خدمت ہی میرامشن ہے، آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کی غرض سے رابطہ عوام مہم شرو ع کر رکھی ہے :سابق عالمی سکواش چیمپین قمر زمان سے سیاست میں قدم رکھنے کے اعلان کے بعد سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے خالد خان کا مکالمہ

تعارف
پشاور کے نواحی علاقے نوے کلی کا سپوت اورسکواش کے عظیم کھلاڑی قمرزمان کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن پھر بھی مختصراً ان کی سکوائش میں عالمی سطح پر کارہائے نمایاں کچھ یوں ہیں کہ 1968 میں پاکستان جونیئر چیمپئن شپ جیتی، 1973 میں انگلینڈ میں برٹش امیوچور چیمپئن کے سیمی فائنل میں پہنچے، 1975 میں ورلڈ سکواش چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا ،اس کے علاوہ آپ مختلف مواقع پر آسٹریلین اوپن ‘جرمن اوپن‘ڈچ اوپن‘بلجیم اوپن‘برٹش اوپن‘سنگارپوراوپن‘منیلا اوپن اور پاکستان اوپن جیت چکے ہیں۔قمر زمان 1978-79 میں ورلڈ نمبر1 جب کہ گیارہ سال تک ورلڈ نمبر2 کی پوزیشن پر رہے ۔آپ نے کل 130 انٹرنیشنل مقابلے جیتے جب کہ 100 سے زائد اعزازات حاصل کیے ۔اسی طرح قمرزمان کو پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔اس عظیم کھلاڑی قمر زمان کے آبائی گاؤں نوے کلی کو 7 ورلڈ چیمپئن پیدا کرنے اور 37 سال تک سکوائش پر حکمرانی کرنے کااعزاربھی حاصل ہے ۔

سکواش کے عظیم کھلاڑی اور سابق ورلڈ چمپئن قمرزمان اب سیاست کے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑناچاہتے ہیں اوراس حوالے سے وہ کافی پرعزم بھی ہیں، ان کے مطابق اگر ان کو ایک مرتبہ عوام کی خدمت کا موقع ملا تو وہ ثابت کر کے دکھائیں گے کہ عوامی نمائندہ کسے کہتے ہیں وہ اس میدان میں تمام سیاست دانوں کے لئے قابل تقلید بننا چاہتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے علاقے کے عوام کے پرزور اصرار پر اس سیاست کے خارزار میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ روایتی سیاست دانوں کے برعکس وہ حقیقی معنوں میں پس ماندہ اور محروم ومجبور عوام کی خدمت کرسکیں، سکواش کے میدانوں میں عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے، ایک بہترین زندگی گزارنے اور عوامی خدمت کے لئے سیاست کے میدان میں آنے کے حوالے سے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام نے  اس عظیم کھلاڑی کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتما م کیا گیا جس میں انہوں نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے بتایا کہ میں صرف اور صرف عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سیاست کے میدان میں اترا ہوں ، جب کہ میرے علاقے خصوصاً نوے کلی کے مشران اور عمائدین کے پرزور اصرار پر محروم ومجبور طبقے کے حقوق کے حصول اور روایتی سیاست دانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے اورمجھے اپنے رب سے یہی امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا بلکہ عوام کی خدمت کا موقع ضرور دے گا، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایک سپورٹس مین ہوں اورسپورٹس مین ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس کی نظر صرف اورصرف جیت پرہوتی ہے، اس لیے میں یہاں بھی سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کی بھرپورکوشش کروں گا، انہوں نے کہا کہ میں اس حوالے سے کافی پر امید بھی ہوں کیوں کے مجھے اپنے حلقے پی کے 4کا ہر بندہ خوب جانتا ہے، وہ میرے کردار اورکارکردگی کے بارے میں پہلے ہی جانتا ہے، اس لیے مجھے پرامیدہوں کہ یہاں کے عوام میرے حق میں فیصلہ دے کر حلقے کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے ،


سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ایک سوال کے جواب میں اس عظیم کھلاڑی قمر زمان نے بتایا کے عمائدین علاقہ کے اصرار کے علاوہ بھی مجھے چند دیگر وجوہات نے عام انتخابات میں حصہ لینے کی تحریک دی، پہلا محرک تو خیبر پختون خوا کے سابق گورنر سردار مہتاب احمد خان کے ذریعے اپنے علاقے میں فلاحی وترقیاتی کام تھے جس کے انجام دینے کے بعد مجھے ایک گونہ طمانیت نصیب ہوئی، ہوا یوں کہ ایک دفعہ ہم سردار مہتاب خان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے کہاکہ قمرزمان آپ کے لئے میں ایک مانومنٹ بنانا چاہتا ہوں تاکہ آئندہ نسل آپ کے کارناموں سے روشناس ہو سکے، ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے ان سے کہاکہ اگر آپ اس مانومنٹ کی بجائے ہمارے علاقے میں بجلی اور دیگر سہولیات فراہم کریں تو یہ میرے لئے اس سے بڑا اعزاز ہوگا، میرا یہ کہنا تھا کہ مہتاب خان نے فوراً کہا کہ آج ہی آپ کے گاؤں جائیں گے اور ہاں موقع پر مسائل حل کریں گے، وہ دوگھنٹے کے بعد میرے گاؤں نوے کلی پہنچے، اسی دوران انہوں نے ٹیوب ویل، ٹیلی فون، نالوں اور بجلی جیسے دیگر مسائل کے حل کے لیے دو کروڑ روپے کا اعلان کیا جس پر فوراً عمل درآمد شروع ہوا اس کے بعد علاقے کے لوگوں کی خوشی دیدنی تھی اور مجھے بھی اس سے اطمینان ہوا کہ چلو میری وجہ سے یہاں کے عرصہ دراز سے حل طلب مسائل حل ہوئے، یہ میرے لئے ایک یادگار لمحہ تھا ،دوسری وجہ اس جانب آنے کی یہ بنی کہ اس پی کے فور سے ایک سابق ایم پی اے کی درخواست پر میں نے ان کے لئے الیکشن مہم چلائی اور جب وہ کامیاب ہوئے تو ہمارے علاقے کی طرف مڑ کے دیکھا بھی نہیں اورانہوں نے اس علاقے کو یکسرنظراندازکرنا شروع کردیاجس کے باعث ہمارا علاقہ خصوصاً نوے کلی پس ماندگی کی دلدل میں دھنستا گیا لیکن اب میں نے اور علاقے کے مشران اور عمائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ علاقے کی پس ماندگی کے خاتمے اور یہاں پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ان مفاد پرست سیاست دانوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور ہم بھرپوراندازمیں ان مفاد پرستوں اور روایتی سیاست دانوں کا مقابلہ کریں گے اور انشاء اللہ جیت ہماری ہی ہوگی ،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست کی سمجھ بوجھ زمانہ طالب علمی ہی میں آ گئی تھی کیوں کہ جب میرے والد صاحب کی پوسٹنگ کوئٹہ ہو گئی تھی تو میں نے کوئٹہ کالج میں داخلہ لیا اور وہ وہاں پر کھیلوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طلبہ سیاست میں بھی بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا اور طلبہ یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا البتہ کالج میں ہزارہ ، بگٹی اور دیگر اقوام کے لڑکے بھی زیر تعلیم تھے لیکن مجھے ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے کوئی مئلہ کبھی بھی درپیش نہیں آیا بلکہ ہم نے طلبہ کے حقوق کے لئے پر فورم پر آواز اٹھائی،اس لیے اس میدان سے بھی تھوڑی بہت شناسائی تھی،انہوں نے کہا کہ جب میں نے پی آئی اے سے بطور جی ایم ریٹارمنٹ لی تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے رابطہ کرنے پر ان سے وابستہ ہوگیا اور ان کے سپورٹس ونگ کے لئے بہت کام کیااورایک ایسے وقت میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کیاجب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی لیکن ہم نے ہمت ہارنے کی بجائے یہاں کے سونے میدان آباد کرنا شروع کردئیے جس کے باعث آج ملک بھرمیں کھیلوں کی سرگرمیاں زوروشورسے جاری وساری ہیں، لیکن میں نے دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں بھی چند مفاد پرست لوگ قابض ہیں جو مخلص شخص کو آگے جانے نہیں دیتے،البتہ بہت سے لوگوں کی طرح ضیاء اللہ آفریدی کو میں ہی پاکستان تحریک انصاف میں لایا تھا لیکن وہاں پر مفاد پرست ٹولے سے دلبر داشتہ ہو کر خدمت کا جذبہ لئے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوا اس کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رہا لیکن مرکزی قائدین کی جانب سے صوبے کو توجہ نہ دینے سے یہاں کے مسلم لیگیوں میں بھی شدید مایوسی پھیلی، اس لئے مجبوراً مجھے یہ پلیٹ فارم بھی چھوڑنا پڑا،

انہوں نے کہاکہ کسی بھی جماعت میں شمولیت یاآزادحیثیت سے الیکشن لڑنے کے حوالے سے علاقے کے عمائدین اور یار دوستوں سے مشاورت جاری ہے اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچ کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا البتہ مختلف پارٹیوں میں شمولیت کے حوالے سے مختلف شخصیات نے رابطے کئے ہیں اور کر رہے ہیں جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ارباب عالمگیرخان، جمعیت علماء اسلام کے غلا م علی، پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی اور پاکستان مسلم لیگ کی صوبیہ خان نے اپنی اپنی پارٹیوں میں شمولیت کے حوالے سے رابطے کئے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ عمائدین علاقہ اور یار دوستوں کی مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا،

قمر زمان نے اپنا منشور بتاتے ہوئے کہا کہ چو ں کہ کینٹ میں پہلے ہی سے تھوڑابہت کام ہوا ہے اس لئے کینٹ کے ساتھ ہمارا زیادہ فوکس دہی علاقوں کی تعمیروترقی پرہوگا،جیساکہ نوے کلی، ارباب لنڈے اور نوتھیہ میں نکاسی آب ، صاف پانی کی فراہمی، صفائی وستھرائی شاہراہوں کی تعمیر ومرمت ، گلی کوچوں کی فرش بندی اور بجلی جیسے دیگر مسائل حل کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو روزگارفراہم کیاجائے گا تاکہ نوجوان منفی سرگرمیوں کی بجائے اپنے کنبے کی کفالت کا بوجھ اٹھا سکیں، اسی طرح انہیں مثبت سرگرمیوں کی جا نب راغب کرنے کے لئے کھیلوں کے میدان نہ صرف بنائیں گے بلکہ ان کو ہر صورت آباد بھی رکھیں گے تاکہ ہم صحت مند معاشرے کے قیام میں اپنا کردار بطریق احسن نبھا سکیں، انہوں نے کہا کہ اسی طرح سکواش کے علاوہ دیگر کھیلوں پر بھر پور توجہ دی جائے گی ، صالح قیادت کو آگے لایا جائے گا جب کہ ہر صورت میرٹ کی بالا دستی کو قائم رکھا جائے گا جس کے لیے میرا نعرہ ہے کہ’’ عملی کام کروں گااور خدمت کروں گا ‘‘۔

قمرزمان نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو بتایا کہ چوں کہ سیاست ایک جہد مسلسل ہے لیکن اگر مجھ پر عوام نے اعتماد کا اظہار کرکے کامیاب کرایا تو میں ثابت کروں گا کہ عوام کا پیسہ عوام پر کس طرح لگایا جاتا ہے  یہ کہنے میں، میں باک محسوس نہیں کروں گا کہ میں ایک مثالی ایم پی اے بنوں گا کیوں کہ میرا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام کی ہر صورت خدمت کی جائے،  انہوں نے کہا کہ جب میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے حرم شریف میں تھا تو اپنے رب سے یہی دعا تھی کہ مجھے اتنی توفیق عطا کردے کہ میں کسی مستحق اورغریب کو روزگار دے سکوں ، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کی غرض سے رابطہ عوام مہم شرو ع کر رکھی ہے جس کا مجھے حوصلہ افزاء ردعمل مل رہا ہے ۔