اے ایف پی کے زیر اہتمام جونئیر کھلاڑیوں کے لئے تربیتی کیمپ کا آغاز، قومی کوچز کی زیر نگرانی طویل دورانیہ کے کیمپ کا مقصد بہترین اتھلیٹ تیارکرنا ہے : محمد ظفر

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن پاکستان سپورٹس بورد کے تعاون سے قومی یوتھ اینڈ جونئیر اتھلیٹکس چیمپین شپ 2017کے گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کی گرومنگ کے لئے تربیتی کیمپ کا آغاز پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں کر دیا ہے اور اسوقت 22اتھلیٹس سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ملک کے نامور کوچز کی زیر نگرانی تربیت کے مراحل سے گذر رہے ہیں یہ بات سیکر ٹری اے ایف پی محمد ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی انہوں نے بتایا کہ کیمپ کا آغاز 15دسمبر سے کیا جا چکا ہے،کیپم کے لئے مجموعی طور پر35اتھلیٹس کو جن میں 30مرداور2خواتین شامل تھیں اس کیمپ کے لئے مدعو کیا گیا تھا جن میں سے اب تک 20اتھلیٹس نے کیمپ جوائن کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نوجوان ایتھلیٹس اس وقت ملک کے نامور کوچز ہیڈ کوچ اصغر گل۔رانا سجاداولمپین مقصود۔ فیاض بخاری۔محمد اشرف اور خاتون کوچ بشری پر مشتمل پینل آف کوچز کی نگرانی میں مختلیف ایونٹس میں سینئرقومی ایتھلیٹس کے ہمراہ تر بیت حاصل کر رہے ہیں ۔ پی اے ایف کی جانب سے لگائے گئے اس تربیتی کیمپ میں بلائے گئے کھلاڑیوں میں سے جن کھلاڑیوں نے اب تک کیمپ میں رپورٹ کی ہے ان میں جونئیر اتھلیٹس میں امیر علی۔رحمان علی۔احمد حسن۔محمد ناصر۔محمد سجاد۔شہباز احمد۔محمد ارسلان۔اُسامہ بشیر۔شیروز خان۔محمد زیشان احمد۔غلام محی الدین۔محمد یاسر۔ اور یوتھ کیٹگری میں حمزہ احمد۔عفان خان۔ صدام طور۔افتخار احمد۔عمر وقاص۔حمزہ۔محمد اکبر اور ابوزر احمد شامل ہیں

اس موقع پرمحمد ظفر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن نے گذشتہ سال کے دوران کھلاڑیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ہے انکے کے لئے ڈومیسٹک سطح پر ایونٹس بڑھائے گئے ہیں اور انٹر نیشنل ایونٹ میں انکی شرکت یقینی بنا کر ایتھلیٹس کو اپنی پرفارمنس کو بہتر بنانے کا موقع دیا ہے یہی وجہ ہے دو سے تین ایونٹس میں ہمارے ایتھلیٹس اب میڈلز لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔سیکر ٹری اے ایف پی کا کہنا تھا کہ جنرل (ر ) اکرم ساہی کی زیر قیادت پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن نے اب رواں سال ہونے والے ایشین گیمز کو فوکس کر تے ہوئے کھلاڑیوں کی بہترین تربیت کا انتظام کیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم ان ایونٹس جن میں ہمارے میڈلز نکل سکتے ہیں کے کھلاڑیوں کے لئے فارن کوچز منگوا کر انکے ذریعہ ان کھلاڑیوں کی تربیت کریں اور ایشین گیمز میں جیولن تھرو۔ چا سو ضرب چار ریلے اور ٹرپل جمپ جیسے ایونٹس میں جن میں ہمارے پاس با صلاحیت کھلاڑی موجود ہیں میں اپنے میڈلز کو یقینی بنائیں۔